اتوار، 17 مئی، 2009

جدید غلامی

انسان بھی عجیب جانور ہے که اپنے جیسے دوسروں کو غلام بنا کر تسکین حاصل کرتا هے
میں نے اپنی دیسی لوگوں کو دیکھا هے که دوسرے دیسیوں کو غلام بنا کر رکھ دیتے هیں
بس ذرا غلامی کی یه قسم کچھ اپنی هی طرز کی هے
غالباً ٩٦ کی بات ہے که ایک دن میں یہاں جاپان آیا تھا که دن کے دو بجے گھ پہنچ گیا
بھائی ننھا اور دوسرے لوگ کام پر تھے
میں نے ٹیلی فون کی انسرنگ مشین میں ریکارڈ صوتی پیغامات سننے شروع کردیے
که دوستوں ، تعلق والوں کے بعد ایک اجنبی آواز میں پیغامات کا سلسله تھا که هر پانچ منٹ کے بعد کی کال اور کسی کے جواب ناں دینے پر مشین ميں میں آواز ریکارڈ کروا کر پیغامات تھے که بندھ کوگا اسٹیشن پر پہنچ کر فون کررها تھا که اور التجا کررها تھا که که مجھ اسٹشن پر لینے آئیں یا جواب دیں
میرے پاس تو اب ناں تو واپسی کے پیسے هیں اور ناں هی پلٹنے کی جگہ
رات کو جب ننھا جی اوپس ائے ت میں نے ان سے پوچھا که یه کیا قصه هے جی ؟
که ایک بندے کو اسٹیشن پر بلا کر اس کو جواب نهیں دے رهے یا اس کو لینے نهیں جارهے\
تو ننھا جی نے بتایا که
اس دن میں ایسے ساکی والی مسجد میں چلا گیا تھا جہان سے واپسی رات کو دیر سے هوئی تھی اور اس دوران یه صاحب جن کا نام بعد میں رانا صاحب رکھ دیا تھا کوگا اسٹیشن پر پہنچ گئے تھے
اور ان کی کہانی هے که
یه صاحب ریسٹورینٹ کے ویزے پر جاپان ائے هیں بلکه منگوائے گئے هیں
اور منگوانے والا ہے جی ان کا کزن
اس کزن نے رانا صاحب کو پانچ هزار پاک روپے کی تنخواھ پر منگوایا ہے
جو که پاکستان میں رانا صاحب کے گھر والوں کو ادا کی جائے گی
اور جاپان میں ان کو کچھ جیب خرچ کا وعدھ تھا جو کبھی کبھی هی وفا هوتا تھا اور چند سو ین تک هی ملتے تھے
اور ریسٹورینٹ کا کام آپ کو معلوم هی هو گا که کافی سے زیادھ لمبا هوتا هے
ان دنوپ جاپان میں پاکستانیوں کی اوسط کمائی تھی جی دو ھزار ڈالر امریکی
جن کے بنتے تھے پاک روپے چالیس سے پچاس ھزار
اور رانا صاحب کو اس ملک میں کام کرنے کی تنخواھ تھی جی پانچ ھزار
اور رانا صاحب کے کزن کا کام تھا که ان کو کسی سے ملنے بھی ناں دیا جائے که کہیں کوئی ان کا دماغ هی ناں خراب کردے
ایک دن ٹوکیو والی مسجد میں ان رانا صاحب نے اپنے کزن کی نظر بچا کر ننھا جی کو کھڑا کر لیا که جی میں کتنے هی جمعوں سے دکھ رها هوں که اپ هی هیں جو میرے کزن کو نهیں جانتے هیں
مجھے اپ کی مدد کی ضرورت ہے
مجھے غلام بنا کر رکھا گیا هے مجھے فرار میں مدد دیں
ننھا جی نے اس کو فون کارڈ دیا که تم فون پر تفصیل سے بتانا
اور دو هزار ین دیا كه ٹکٹ لے كر همارے پاس آ جانا
اس آدمی نے کسی ناں کسی طرح فون پر ننھا جی سے رابطه کیا اور ایک دن فرار هو کر کوگا سٹیشن پہنچ گیا
جس کی میں نے ریکارڈنگ سنی تھی
ننھا جی نے ان کو کہا که آپ اس طرح کریں که اج سے نام چینج کر لیں اور هر کسی کو بتائیں که آپ هیں رانا صاحب
اس طرح آپ کا کزن کٹخی بھی آپ تک نهیں پہنچ سکے گا که وھ اپ کے نام سے یا گوت سے کسی کو پوچھ سکتا ہے
اور اپ اپنی گوت هی بدل لیں
بعد میں میں نے اس طرح کے واقعات یورپ اور خاص طور پر برطانیه میں بہت دیکھے هیں
اور پھر فرانس میں بھی که
اپنے پاک لوگ دوسرے پاک لوگوں کو جن کے پاس ویزھ نهیں هوتا ہے ان کو کام پر تو رکھ لیتے هیں لیکن پھر ان کے ساتھ جو سلوک هوتا ہے الله کی پناھ
اور اگر ان سے پوچھیں تو ان کا موقف کچھ اس طرح کا هوتا هے که جیسے یه لوگ هی رازق هیں
ورنه ان غیر قانونی لوگوں کا تو کوئی والی وارث هی نہیں هوتا ہے
جاپان جہاں که غیر قانونی لوگوں کو بھی جاپانی لوگ کام پر رکھ لیتے هیں
اور تنخواھ کے متعلق جاپانی لوگوں کا فلسفه اپنے دیسی فلسفے سے مختلف ہے
اور وه ہے جو جتنا کام کرو گا اس کو اتنے پیسے ملیں گے
هم بھی پہلے پهل یه سمجھتے تھے که جاپانی لوگوں کی تنخواهیں هم سے بهتر هوتی هیں لیکن بعد میں پته چلا که هم سے جونئیر لوگوں کی تنخواھ هم سے کم هوتی تھی
اس لیےپاک لوگوں کو جاپان میں دیسیوں کو غلام بنانے کے لیے ایک هی طریقه هوتا ہے که اپنی کمپنی کے نام پر اس کو ویزھ دلوا کر ایک پاٹنر کے طور پر یا پھر ھنر مند کے طور پر جاپان ميں منگوا لیتے هیں
اور ان کو جاپان میں منگوانے سے پہلے ان سے پاک رقم میں تخواھ طے کر لیتے هیں
هیں ناں جی پاک لوگوں کے پاک کام که پاک رقم میں هی کاروبار کرتے هیں
اور اپنی جاپانی ین کی کمائی میں کو اگر آپ منافقت کهیں گے تو جی یه پاک لوگ هں
آپ کو معاشرے میں بیوقوف مشہور کردیں گے
جاپان میں ان دنوں ایک مزدور پاکستانی رقم ميں ڈھائی لاکھ گے برابر کما هی لیتا ہے
اور ویزھ لے کر آیا هوا ایک تعلیم یافته ھنر مند چالیس ھزار پاکستان میں پاتا ہے
اور جاپان ميں اپنے سیٹھ صاحب کو جو که عموماً کزن هوتے هیں
کی خدمت کرتا هے که ایک سگھڑ بیوی کی طرح گھر کے سارے کاموں کے علاوھ
مسجد میں سیٹھ صاحب کی باتوں میں ھاں میں ھاں بھی ملاتا ہے
سیاست اور مجسد میں سیٹھ صاب کی منافقت کو اگر خاور جیسا بندھ اجاگر کر دے تو
تو خاور کے ساتھ شائستگی سے بحث بھی کرتا ہے که جی
یه منافقت نهیں هے جی موقع کی نزاکت ہے
اور بعد میں کهتا ہے جی یه خاور تو هے هی پاگل
اگر اس میں عقل هوتی تو امیر ناں هو جاتا
اپنی تو کوشش ہے که جیسے هم پہلے جاپان میں کسی مجبور کی مدد کرسکنے کی پوزیشن میں تھے
اسی طرح اب بھی کچھ ایسا سیٹ اپ تیار هو جائے که کسی مجبور کی مدد کر سکیں
تو پھر جیسا که میں نے پہلے دور میں پیسے لے کر کام پر لگوانے والوے ایجنٹوں
، بغیر ویزے کے لوگےں سے تنخواهیں چھین لینے والے گروھ کو ختم کیا تھا اسی طرح سے ان پاک لوگوں کو جو که اپنے هی جیسے لوگوں کو غلام بنا کر رکھ دیتے هیں ان کا کچھ سد باب کر سکوں

2 تبصرے:

Jafar کہا...

پاک لوگ، پاک سرزمین
اور کام سارے ناپاک
دبی میں بھی یہی حال ہے، پاکستان میں‌ چلتی کریانے کی دکانیں بیچ کر ویزہ خریدتے ہیں اور یہاں آکر ہوٹل میں بلکہ ڈھابے میں‌ 500 درہم پر 22 گھنٹے کی ڈیوٹی کرتے ہیں۔ پھر جھولیاں پھیلا کر دھوکہ دینے والے کو بددعائیں دیتے ہیں۔
دو ڈھائی لاکھ میں ویزہ بیچتے ہیں جی اپنے جاننے والوں کو اور تنخواہ بتاتے ہیں 1500 درہم اور ملتا کیا ہے وہ بیان کردیا ہے اوپر میں نے۔۔۔۔
پتہ نہیں جی ہم لوگوں کے سینے میں پتھر رکھے ہوتے ہیں بائی ڈیفالٹ دل کی جگہ۔۔۔
میں نے بھی بڑی خدمت کی ہے جی پہلے تین چار سال۔۔۔۔ انڈہ ابالنانہیں آتا تھا جب آیا تھا پاکستان سے ۔۔۔ کرنا پڑا جی۔۔۔ گلے میں پڑا ڈھول بجانا پڑتا ہے نا جی۔۔۔
سب کچھ کرکے بھی باتیں سنیں۔۔۔
پھر ایک دن ۔۔۔ تنگ آمد بجنگ آمد کردیا جی۔۔۔۔
اس کے بعد سب خیریت ہے۔۔۔۔

DuFFeR - ڈفر کہا...

جی پاکستانی بھائیوں سے ہونے والے پاک سلوک کا تو میں چشم دید گواہ ہوں
یں نے دبئی اور سعودی عرب میں ایسے ایسے لوگ دیکھے جنہوں نے سالوں سے پاکستان کا منہ نہیں دیکھا
کمائی وہی جو جعفر نے لکھی
وہ دن جب میں رات کو بھی باہر نہیں نکلتا تھا کہ رات کو بارہ بجے بھی ایسا لگتا تھا لُو چل رہی ہے
میں نے جولائی میں دبئی میں پاکستانی مزدور کو ننگے پاوں دھوپ میں تپتے توے جیسے فرش پر چپ بورڈ کی دو دو تین تین چپ بورڈ کی شیٹیں اٹھاتے کئی چکر لگاتے دیکھا
پوچھا ملتا کیا ہے تو بولا ۸۰۰ درہم
اور جو کام اور جتنی دیر وہ کام کرتا تھا پاکستان میں کرے تو اتنے ہی یہاں بھی کما لے
اور ایسی بری مزدوریکرتے میں نے پاکستان میں نہیں دیکھا
یار لوگ بھی تو یہ سوچ کر کہ "باہر" درختوں پرلگے پیسے توڑنے کے چکر میں اپنا سب کچھ لُٹا بیٹھتے ہیں
حتٰی کہ اپنا آپ بھی
میں نے تو اپنی زندگی میں پاکستان سے باہر کام کرے والا کوئی مطمئن مزدور نہیں دیکھا