بدھ، 31 دسمبر، 2008

جاپان سیاست

جاپان کی سیاست کی باتیں جب میں لکھتا هوں تو اس میں میرا مقصد اپنی پاک سیاست کی ناپاکی کی طرف توجه دلانا هوتا ہے ـ
جاپان لوگوں کا رویه اپنے وزیر اعظم کے ساتھ کچھ اس طرح کا هوتا ہے که کبھی ایسے لگتا ہے که اس کو ایک هیڈ منشی سا سمجھ رہے هیں اور کبھی ایسا لگتا ہے که اس کو گھر کا بڑا سمجھ رہے هیں ، بڑا بھی ایسا که جس سے شائیستگی کے ساتھ مذاق بھی کیا جاسکتا ہو اور گلے شکوے بھی ـ
جب بات هو اپنے وزیر اعظم کی انگریزی کی اهلیت کی تو
جاپانی اپنے کسی پرانے وزیر خارجه کی بات بتایا کرتے هیں که جب اس کو کسی کانفرنس میں بہت سے لوگوں کو انگریزی میں باتیں کرتے سنا تو
اپنی انگریزی جھاڑنے کا شوق چرایا
لیکن انگریز ی سکول میں پڑھی بھی تھی تو اپنے چھٹی جماعت کے لیول کی ان کوایک هی فقره ان ماحول سے میل کھاتا یاد ایا
دس از اے پین
جاپانی کہتے هیں که هماری تزارت خارجه کا لیول ہے
دس از اے پین
امریکی صدر بل کلنٹن کے دور میں جاپان کے وزراعظم تھے موری صاحب
انهوں نے انگریزی میں حال چال پوچھنے کی انکریزی کا یک سیٹ یاد کیا هوا تھا
کسی سو بھی پوچھنا ہے هاؤ آر یو
اس کے جواب میں وه کچھ بھی کہے اپ نے اس کو کہنا ہے
می ٹو
موری صاحب کو ایک جگه اپنے صدر بل کلنٹن صاحب سے ملاقات هوئی تو موری صاحب نے اپنی انگریزی کی دھاک بٹھانے کے لیے ان سے جب حال پوچھاتو فقرھ کچھ یوں تھا
هُو آر یو ؟؟
کلنٹن بڑا دل دل بندھ ہے
اس نے جواب دیا
ائی ایم هیلری زو هاسبینڈ!!ـ
موری صاحب فرمانے لگے
می ٹو !!!
اس پر جو قہقے اج بھی جاپان لگاتے هیں
لیکن جب بات هو اپنی بولی کی تو جاپانی لوگ اتنی باریک بین هین که لفظوں کے انتخاب میں لرزش کسی بھی بندے کا مستقبل تباھ کر سکتی هے
کسی بھی غیرت مند بندے کو خود کشی پر مجبور کر سکتی هے
اج کل سابق وزیر آعظم فوکودا صاحب کی سختی ائی هوئی هے
کسی پریس کانفرنس میں ایک صحافی نے سوال کیا که
آپ کا رویه باهر سے دیکھنے والے جیسا هوتا ہے اور اپ کی باتیں مشورے جیسی اس پر عوام کو اعتراض هے
فوکودا صاحب اس پر غصه کر گئے اور جواب میں کہـ بیٹھے
میں خود اپنی ذات پر بھی باهر سے دیکھنے والے کی طرح نظر ڈال سکتا هوں ، میں تم سے مختلف هوں ـ
اب جی میڈیا اس بار کو لے اُڑا ہے
که بات کا کیا مطلب ہے که آپ نے ایک صحافی کو کهـ دیا هے که اپ اس مختلف هیں ـ
کیا مختلف هے؟؟
کیسے مختلف هے ؟
ایک خاتوں صحافی تو پنجابی محاورےمکے مطابق ان '' پچھے اي پئے گئی جے ''
وه فوکودا صاحب کے علاقے گنماں کین (یه وه کین هے جہان تاتے بیاشی والی اور ایسے ساکی والی مسجد ہے) بھی گئی ہے
اور ان کے برادری والوں سے پوچھ رهی هے که ان کی عدات کیسی تھیں بچپں اور جوانی میں
ان کے استادوں سے پوچھ رهی هے
ان کے اس استاد سے جن کے ساتھ فطکودا صاحب بچپن میں گیند جوپن (اردو میں کیا کہتے هیں معلوم نہیں انگریزی میں کیچ بال) کھیلا کرتے تھے
ان کا انٹریو لیا جارها ہے
فوکودا صاحب کے جہاں جہاں ملنے کا امکان ہے واهاں ان کا انتظار کیا جارها ہے
فوکودا صاحب کے پيچھے چین تک پروازیں کی جا رهی هیں ـ
اور فوکودا صاحب هیں که سنجیدھ سا منه بنا کر هلکی سی خفگی کے انداز میں جان چھڑا رهے هیں ـ
فوکودا صاحب کے بجائے اگر همارا کوئی پاک حکمران هوتا چاهے فوجی یا غیر فوجی تو اس نے جو ناپاک رویه اپنانا تھا
اس کا سارے هی اهل علم کو علم هے ـ

اتوار، 28 دسمبر، 2008

ایک اور سال

رفته رفته اپنے اختتام کے قریب دوهزار آٹھ ـ
کیا کھویا کیا پایا؟؟
کون گيا کون آیا؟
هر بندے کے اپنے اپنے حالات هوں گے ـ
مجھے تو جی ایسے لگتا ہے که دن لمبے اور سال چھوٹے هوتے هیں ـ
صبح سے شام کرنا که جیسے جوئے شیر لانا
اور پلٹ کے دیکھنا تو عمر کا چوتالیسواں سال شروع !!ـ
ابھی کل کی بات لگتی ہے که کلینڈر لگایا تھا دیوار پر ، هر مہینے ایک ایک پیج پھاڑتے ابھی اخری پیج که نیا کلینڈر لا کر رکھا دیوار پر لگانے کے لیے ـ
اسی لیے شائید کہتے هیں که روز محشر لوگوں کو لگے گا که دنیا میں ایک پل رهے که ناں رہے ـ
سال کے شروع میں جذبات عروج پرتھے که اب اس ملک میں رهنا ہے
اور اب اکنامک کے حالات اتنے ٹھنڈے هو گئےهیں که موسم کی ٹھنڈک بھی سخت لگ رهی هے که جذبات بھی ٹھنڈے ٹھار ـ
کل کی بات لگتی هے که میں باسلونا سپین کے ری اے ریتا نیٹ کے غار نما ورک شاپ میں بیٹھا هوں
جب میں نے یه بلاگ شروع کیاتھا
ویسے تو پانچواں سال ہے مگر دوهزار نو کے چڑھتے هی اگر میں کوئی پوسٹ لکھ دیتا هوں تو آرچیو میں چھٹا سال اجاگر هو جائے گا ـ
جی هاں چھ سال کا آرچیو
لیکن کل کی بات لگتی هے ـ
اس سال جاپان کا ویزھ ملا ، ڈرائیونگ لائیسنس کا امتحان پاس کرلیا ، نیا مکان خرید لیا ،بیٹا پیدا هوا جس کا نام آیت مصطفے رکھا ـ
میرے رب اللّه نے کتنی هی چیزیں عطا کیں
میں اپنے ساتھ هونے والے کچھ دھوکوں کا ذکر کرنا چاھتا تھا لیکن میں نے پایا زیادھ هے اور کھویا کم هے
هر سال کی طرح اس سال بھی ـ
اللّه جی تہاڈی مہربانی !!ـ
انے والا سال اللّه سب کے لیے خیر کا کرے
اور اللّه صاحب مجھ پر بھی اپنی مہربانیاں بڑھائیں اور جاری رکھیں
آمین!!ـ

جمعہ، 26 دسمبر، 2008

مثبت سوچ

هم خود ساخته جلا وطن لوگوں کی اکثریت کا شروع میں یہی خیال تھا که چار پیسے کما کر اپنے وطن میں زندگی گزاریں گے ـ
مگر اپنے وطن کو حالات کی مسلسل خراب هوتی حالت نے هماری سوچ اتنی بدل دی ہے که همیں اب اپنا وه ارادھ هی بھول گیا ہے که کبھی هم نے پاکستان میں بسنے کا سوچا تھا ـ
اب تو یه حالت ہے که باهر کے ممالک میں مکان خرید لینے اور کسی ملک کی نیشنیلٹی مل جانے کو بھی فخر سمجھنے لگے هیں ـ
لیکن یارو پاکستان جا کر بسنے کی ایک چنگاری حالات کی راکھ میں دبی رهتی هے
کبھی کبھی اگر یه چنکاری شعله بنے بھی لگے تو پاکستان گے سیاسی حالات اس پر پانی ڈال کر جاتے هیں ـ
نواز شریف کی پہلی وزارت عظمی کے دنوں میں یه چنگاری میں نے شعله بنتے دیکھی ـ
ان دنوں میں دنیا کی سیاحت پر نکلا هوا تھا
ملک ملک پھر رها تھا که جہاں کسی پاکستانی سے ملاقات هوتی تھی اس کے منه سےنکلتا تھا که
جی میں اب پاکستان منتقل هونے کا سوچ رها هوں
که کاروباری حالات ٹھیک هی گئے هیں ـ
کتنے هی لوگوں نے مجھے بتایا که انہوں نے پیسا پاکستان منتقل کرنا شروع کر دیا ہے ـ
اور پاکستان میں حالات یه تھے که مزدوروں کے پاس وقت نہیں تھا
ٹریکٹر ٹرالی پر مٹی ڈھونے والے کمہاروں کو مٹی کھود کر ٹرالی میں ڈالنے والے مزدور نہیں مل رهے تھے
دوکان دار اور دوسرے کاروباری جو که باهر سے آنے والوں كو رشک كی نظر سے دیکھتے هیں انہوں نے بھی کہنا شروع کردیا تھا که جی
هم تو جی اپنے ملک میں هی مطمعن هیں ـ
محلاتی سازشوں نے نواز شریف کی حکومت گرا دی
اور حالات پھر خراب هونے لگے
بعد میں نواز شریف کو بھی موقع دیا تو گیا مگر اس وقت تک پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہـ چکا تھا
که شریفین کی کرپشن کی بھی اڑنے لگیں ـ
عام بندے کے حالات خراب سے خراب تر هونے لگے
اور باهر والوں نے پھر سے انہی ملکوں میں ٹکنے کو بهتر جانا ـ
لیکن ایک بات میں نے ان تارکین وطن میں هر دور میں دیکھی ہے که جس ملک میں رھ رہے هوتے هیں اس ملک سے زیادھ پاکستان کے حالات پر نظر رکھتے هیں ـ
ان کے دل پاکستان میں رہنے والوں سے زیادھ پاکستان کے لیے دھڑکتے هیں ـ
جب بھی کہیں محفل لگتی هے تو پاکستان گے سیاسی حالات هی موضوع هوتے هیں ـ
پاکستان سے تارکین کی اس محبت کو چالاک لوگوں نے اپنی اپنی سی سکت کے مطابق کیش بھی کروایا
که کسی نے
مذھبی ادارے کے نام پر پاکستان کے حالات کو سنوانے کی امید دلا کر هر ملک میں اپنی اولاد کے لیے جائیداتیں بنائیں ـ
تو کسی نے هسپتال کے نام پر
یه هسپتال کے نام پر چندھ اکٹھا کرنا تو جی بہت هی اسان ہے
که ان تارکین وطن لوگوں کے گھر والوں نے جنہون نے ان کو طرح طرح سے بیوقوف بنا کر پیسے بٹورے هوتے هیں
جب دیکھتے هیں که اب باهر والے پیسے بھیجنے میں ہچکچانے لگے هیں تو ماں کی بیماری کو بہانه بنا کر پیسے منگوانے لگتے هیں
اس لیے باهر والے سارے هی لوگ اس بات پر پیسے دینے پر فوراً راضی هو جاتے هیں که جی
غریب لوگوں کا علاج مفت هو گا
کیونکه انہوں نے اپنی ماں کے علاج پر اٹھنے والا بے بہا خرچ دیکھا هوتا ہے
حالانکه وه پیسے بھائوں بہنوئیوں اور رشته داروں کی عیاشیوں پر خرچ هو چکے هوتے هیں ـ
هسپتال میں مفت علاج هو هی نہیں سکتا !!ـ
دوائیوں پر خرچ ائے گا هی تو ڈاکٹر کا گھر کیسے چلے گا ؟؟
عمارت کی مرمت وغیرھ کا بھی خرچ هوتا ہو تو جی مشینوں کی ٹوٹ پھوٹ بھی
اس لیے جب لوگ عمران خان کے هسپتال میں جاتے هیں تو مایوس هو جاتے هیں که
عمران خان نے تو غریبوں کے لیے هسپتال بنایا تھا
تو اب یه پیسے کس لیے مانگ رها هے ؟؟

میں یه ساری باتیں اس لیے لکھ رها هوں که
همارے ایک بڑے هی مہربان دوست هیں جی
میاں عظمت صاحب


میاں صاحب ، فیض میان ٹریڈنگ کے نام سے جاپان میں کاروبار کرتےهیں
میاں صاحب ایک مضبوط کاروباری حثیت کے مالک هیں
دو دن پہلے ان کے ساتھ بیٹھے تھے که انہوں نے یه بات چھیڑ دی که پاکستان کے لیے کچھ کرنا چاهیے ـ
میاں عظمت کے بڑے بھائی میاں سلیم یہاں مسلم لیگ ن کے بڑے سرگرم کارکن هیں جی !ـ
میں نے ان کے سر کو ھاتھ لگا کر تو نہیں دیکھا که کتنا گرم ہے
لیکن مسلم لیگ ن کے لیے ان کے لہجے میں کافی گرمی هوتی هے اس لیے هو سکتا ہے که سر بھی گرم هو ـ
میان عظمت صاحب کیونکه کاروباری هیں اس لیے ان کو کسی سیاسی پیلٹ فارم میں صرف پیلٹیں هی پلیٹیں نظر اتی هیں ـ
پچھلی نشست میں میان صاحب کی گفتگو میں ایک درد تھا که جی پاکستان گو لیے کچھ کریں
ان کے خیال میں همیں جاپان میں رہنے والوں کو کسی بھی سیاسی پارٹی کی بجائے خود سے یه کام کرنا چاهیے که
که کچھ لوگ ایک جگه اکھٹے هو کر اس طرح کریں که پیسے اکھٹے کر کے پاکستان میں کہیں فیکٹری یا مل لگائیں که ایک تو لوگوں کو کاروبار میسر هو گا اور دوسرا پاکستان میں کوئی تکنیک بھی جاگے گی ـ
میں نے پوچھا که پاکستان میں کہاں ؟؟
تو ان کا جواب تھا که کہیں بھی !!ـ
جاں سب مل کر فیصله کر لیں
ضروری نهیں که میرے گاؤں میں !ـ کہیں بھی !!ـ
ان کے خیال میں جاپان کے کاروباری لوگوں کے لیے ایک ملین ین کوئی بڑی رقم نہیں هے
اور اگر ایک سو ادمی مل کر ایک ایک ملین ین ڈالیں تو سو ملین ین سے کافی بڑا پروجیکٹ شروع کیا جاسکتا ہے ـ
یاد رہے که ایک ملین ین کے پاکستانی روپے بنتے هیں ساڑھے آٹھ لاکھ !ـ
میان صاحب کے یه خیالات بتارہے هیں که ان کے اندر کی اس آگ کو کوئی کسی دن کیش کروانے کے لیے اجائے گا
اور ان سے چندے کے نام پر پیسو بٹور لے گا
چاهے ایک دو ملین ین سے میان صاحب کوکوئی فرق ناں بھی پڑے
لیکن ـ ـ ـ ـ ـ

جمعہ، 19 دسمبر، 2008

لتّر !ـ تبدلی کی نوید

آپنے بش صاحب کو لتر پڑنے پر هر بندے کا اپنا اپنا انداز ہے جی
تبصرے کرنے کا ـ
سوچنے والے بھی بڑی دور کی سوچتے هیں جی
ایک لاله جی کہیں توند نکالے سو رہے تھے که
ایک چوھا ان کی عظیم توند پر سے گزر گیا
جس سے لاله جی کی انکھ کھل گئی
اپنی توند کو چوھے کی گزرگاھ بنتے دیکھ کر
لاله جی کرنے لگے واویلا ، وه شور مچایا که خدا کی پناھ
کسی نے کہا که لاله جی چوھا هی گزر گیا ہے ناں جی کون سی قیامت آ گئی ہے؟
تو لاله جی کہنے لگے که جی اج چوھا گزرا ہے راسته تو بن گیا ناں جی کل کلاں کو ھاتھی هی گزر جائے تو؟؟
بس جی کچھ اسی طرح کی دور اندیشی کا خیال پیش کرهے تھے جی اپنے ایک دوست
که
جس طرح شوشلیزم ختم هوئی اسی طرح ایک دن یه سرمایه دارانه نظام بھی ختم تو هونا ہی ہے
تو جی پھر اسلامی نظام هی آئے گا
اب اپ دیکھ هی لیں گے که کانفرنسوں میں لوگ ایسے جوتے اتار کر جائیں کے جیسے مسجد میں جاتے هیں
اسی طرح اہهسته آهسته ماحول اسلامی بنتا جائے گا ـ
میں تو جی اس بات سے متفق نہیں هوں
میرے خیالات کیا هیں ؟؟
اگر میں نے بتائے تو هو سکتا ہے که همارے یه دوست اپنی انسلٹ سمجھیں
اور
دوسری بات یه ہے که اسلام کے ٹھیکیدار کہیں مجھے قتل هی ناں کر دیں !ـ
پہلے هی کتنے لوگ مجھے کہـ چکے هیں که جی اپ کے خیالات کافرانه هیں
کسی دن کوئی آپ کو قتل کردے گا !!
ثواب کے لیے!!ـ
قصور میرا یه ہے که میں قرآن کی '' باتاں '' کرتا هوں !!ـ
آپ کا کیا خیال ہے جی بیچ اس بات کے؟؟؟

منگل، 16 دسمبر، 2008

پاک غدّار

بی بی سی کی ایک خبر کے مطابق
محترمه گوجرانوالہ کی عدالت
میں یه ایک مقدمه آیا ہے جی غدّاری کا !!ـ
عدالت میں
سب انسپکٹر نذر محمدگوندل نے ضمانت کی مخالفت کی وجه یه بتائی ہے کہ ملزم محمد رضوان کتب کی دکان کا مالک ہے۔
اس کے قبضے سے ایک ایسا کتابچہ برآمد ہوا ہے جس میں ''عسکری تربیت '' کی ترغیب دی گئی ہے۔ تفتیشی آفسر کے بقول یہ ایسے لٹریچر پر مبنی ہے جو'' فوج '' کے خلاف نفرت پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے۔
تفتیشی افسرکی ایک دلیل یه بھی تھی کہ اس کتابچے سے عام پاکستانیوں (بلڈی سیویلین ) میں فوج کے خلاف نفرت پھیل سکتی ہے
اس لیے ملزم کو گرفتار کیاگیا ہے۔
انسداد دہشت گردی کے جج صاحب نے ملزم کی درخواست ضمانت خارج کردی اورفرمایا کہ ملزم سےبظاہر فوج کے خلاف باغیانہ لٹریچر برآمد ہوا ہے اس کے لیے ضمانت کی رعایت کا حقدار نہیں ہے۔
یہاں میرے ذہن میں سوال پیدا هوتے هیں که جی
یه بغاوت ہے کیا اور غدّاری کس کو کہتے هیں ؟؟
لال مسجد بھی پاکستان کا ایک حصه تھی اور لاله موسی کا محمد رضوان کتب فروش بھی ایک پاکستانی ہے
اور پاک فوج بھی پاکستان کا هی حصه هے
لیکن پاک فوج اپنے آپ کو پورا پاکستان هونے کی ایکٹنگ کیوں کرتی ہے
پاکستان کا آئین پامال هو یا پاکستان کی سرحدیں ـ مشرقی پاکستان کے ڈھاکے میں بربریت کی هو یا اسلام آباد کو فتح ـ
بلوچوں کا قتل هو یا پٹھانوں پر بم باری ـ
اس کو کوئی بھی بغاوت یا غدّاری نہیں کہتا
اور ایک پاکستانی اپنے پاکستان کی محبت میں اگر پاک فوج کے ان جرائم پر انگلی بھی اٹھائے تو
جی
غدّار کہلوائے ؟؟
بھلي مانس شہریوں کے خلاف اس طرح کے مقدمات فوج کی رهی سہی عزت بھی ختم کردیں گے ـ
پاک فوج کے کرتاؤں دھرتاؤں سے میں ایک پاکستانی هو نے کے ناطے اپیل هی کر سکتا هوں که
پاکستانیوں کا قتل بند کریں !ـ
آئین کی بار بار پامالی بند کریں ـ
پاکستانیوں کو غداری اور بغاوت جیسے مقدموں میں هراساں ناں کریں ـ
بلکه اگر هو سکے تو جی پاکستان کی جان چھوڑيں اور اپنے آقاؤں کے ملک کو چلے جائیں ـ

اتوار، 14 دسمبر، 2008

عید نامه

محترمه فرحت کیانی صاحبه کی میل وصول هوئی
که مجھے عید نامه لکھنے کے لیے ٹیگ کیا گیا ہے
یه سلسله شروع کیا ہے جی آپنے ساجد اقبال
صاحب نے اور جی حاضر ہے اپ کی خدمت میں ٹیگ لگوا کر خاور کھوکھر عید نامه لے کر ـ
عید سے پہلے
هر سال عید پر نماز کے بعد ایک عجیب سی اداسی طاری هو جاتی ہے
اس لیے میں نے اس سال پہلے هی اپنے مسجد کے ناظم عمران صاحب کو کہنا شروع کردیا تھا که جی کوئی شغل وغیرھ هونا چاهیےـ
کیون که مسجد کے زیادھ تع نمازی اس سال کہیں ناں کہیں چلے گئے هیں
مثلاً ٹوکیو ٹریڈنگ والے راشد صاحب حج کے لیے چلے گئے هیں
هجویری ٹریڈنگ والے فیاض مغل صاحب افریقی ممالک کے دورے پر نکلے هوئے هیں
نجیب خان صاحب بھی برما (مینمار)جانے کا کہـ کر نکل گئے هیں
برما والے سلیم بھائی بنگله دیش چلے گئے هیں ـ
ان دنوں فجر کی نماز میں پاکستانیوں کی نسبت برما اور بنگله دیش والوں کی تعداد زیادھ هو تی هے ـ

یوم عید
عید کی نماز کا ٹائم نو بجے مقرر هوا تھا هر روز کی طرح صبح چار بچے اٹھے
انٹر نیٹ پر براؤزنگ کی سوا پانچ بجے گاڑی کا انجن اسٹارٹ کر کے اندر آکر وضو کیا ، کافی پی ،اور نماز کے لیے مسجد کی طرف نکلے ـ
نماز چھ بجے تھی
هر روز نماز کے بعد گفتگو هوتی ہے لیکن عید کے دن سبھی نمازی جلدی گھروں کو چلے گئے
میں نے بھی گھر آ کر غسل کیا کپڑے استری کیے
اور نماز کے لیے چلے ـ
نماز کے بعد عید ملن '' جپھیاں '' ڈال کر لوکاں کو ملے ـ
تو عمران کہنے لگا که
نماز عید
جی اس کے بعدآپ اپنے حاجی مشتاق صاحب کی پارکنگ میں پہنچ جائں که سبھی دوست وهاں هوں گے
حاجی مشتاق صاحب گیلانی ٹریڈنگ کے پریزیڈنٹ هیں جی ـ
ان کا معاملات کو دیکھنے کا جی اپنا هی انداز ہے ـ
میں حاجی مشتاق صاحب کو کافی جگتیں کیا کرتا هوں
جس کا حاجی صاحب نے گله کیا تھا کہیں میری غیر موجودگی میں جس کا مجھے
اپنے طارق خان صاحب نے بتایا ہے
میں دو دن پہلے کافی کے کینوں کا ایک کارٹن خرید کر گاڑی میں ڈال رکھا ہے که اب جب مجھے حاجی صاحب ملیں گے تو میں ان سے اس بات کی معافی مانگوں گا
کیونکه حاجی صاحب ایک سادھ دل بندے هیں
اور میں ایسے بندوں کا دل نہیں ٹوڑنا چاهتا ـ
تو جی
ان حاجی مشتاق صاحب کی پارکنگ میں تھا
جی
قربانی کا انتظام
اور یہاں پر بکروں کو ذبح کرنے کا بھی انتظام کیا هوا تھا
جاپان میں جانوروں کے ذبح کے قوانین کافی سخت هیں مگر جی
جس طرح برانیه میں پرانے زمانے میں سائیکل کی دو سواریاں غیر قانونی هوتی تھیں مگر کیونکه قانون کی کتاب میں تین سواریوں کچھ نہیں لکھا هوا اس لیے تین سوایوں والے سائیکل پولیس والے نہیں پوچھتے تھے
اسی طرح جی سور گائے بیل کے ذبح کے تو قوانین هیں مگر بکری کے ذبح کا پر کچھ بھی نہیں لکھا هوا اس لیے بکری کا ذبیح کا کام چل هی جاتا ہے
میں نے اس ذبح کے وقت کوئی بھی تصویر نہیں لی تھی کیونکه میں نهیں چاهتا تھا که کہیں کوئی تصویری ثبوت پھر بھی رھ جائے ـ
اس بعد حاجی صاحب کی پارکنگ کے ساتھ هی ایک اور پارکنک بھی ہے

جس میں چولہا وغیرھ بنا هوا ہے
اس لیے گوشت کو اس حاجی مشتاق صاحب کی پارکنگ کے ساتھ والی کسی اور کی پارکنگ والے چولہے پر پکایا
گوشت ابھی کچا پکا هی تھا که اسلام خان بھائی اور میں نے اس کو نکال کر کھانا اور کھلانا شروع کردیا
اس گوشت نے میرے پیٹ میں تین دن گڑ بڑ مچائے رکھی
مگر جی گوشت تھا مزے کا
اور جی هیں اس دن کی کچھ تصاویر





آپنے آپنے اصول

قلم کی حرمت اور صحافطی عظمت یا اسی طرح کے کچھ جذباتی الفاظ اپنی جکه لیکن
اگر کوئی بندھ اس بات کی توقع رکھتا ہے که جی میں اپنے زرداری صاحب کے خلاف کچھ لکھوں تو یه میں اس کی یه توقع پوری نہیں کر سکتا
اس لیے نہیں که جی زرداری صاحب بڑے چنگے بندے هیں
بلکه جی اس لیے که زرداری صاحب بڑے زورداری بھی هیں ـ
اور جی میں ٹھہرا پنجابی
سدا کے طاقت کے پجاری
کمزور پر تو مجھے غصه هی بہت آتا ہے
جی چاهتا ہو که جی اس کا بازو مروڑ کر اس کی کمر میں کونی مار کر گرا دوں
اور جی طاقت ور کے سامنے جی میرا دل بڑا رقیق القلب هو جاتا ہے
جی چاهتا ہے جی که اس کے سامنے لوٹنےلگانے لگوں
اگر مجھے دم لگی هو تو ایسے ایسے بل دے کر هلاؤں که اپنے آقا کا تو جی '' هاسا '' نکال دیا کروں ـ

ایک پاکستانی انجنیر اپنے کسی دوست انجنیر کو ملنے گیا جو که کسی افریقی ملک میں کام کرتا تھا
اپنے اس دوست کے ٹھاٹھ باٹھ دوکھ کر تو جی پاک والا انجنیر حیران هی رھ گیا که
یه کیسے ممکن هوا ہے که تم اتنے دولت مند هو گئے
تو اس میزبان انجنئیر نے اس کو کھڑکی سے باهر ایک پل کی طرف اشارھ کر کے پوچھا وه پل دیکھ رہے هو ؟؟
هاں !!ـ
دس پرسنٹ!!ـ میزبان نے کہا ـ
کجھ سال بعد میزبان انجنئیر کا پاکستان انا هو تو اس نے دیکھا که پاک والے کے ٹھابھ باٹھ اس سے بھی پڑھ کر هیں
تو اس نے باگ والے سے پوچھا که یه کیسے ممکن هو ا؟؟
تو پاک والے انجنئیر نے اس کوکھڑکی کے پاس بلایا
اور ایک طرف اشارھ کر کے پو چھا
وه پل دیکھ رهے هو ؟؟
نہیں !ـ مجھے تو کوئی پل نظر نہیں آ رها !!ـ
پاک والے انجنئیر نے کہا
سو پرسنٹ!!ـ
اب کوئی اس لطیفے کو زرداری صاحب پر لگا دے تو جی اس کا اپنا قصور ہے
که زرداری صاحب مسٹر ٹین پرسنٹ سے ٹوٹل پرسنٹ هو گئے هیں ـ
میں تو جی ایسی بات نہیں لکھ سکتا
اب کچھ دوست بتا رهے تھے که اپنے زرداری صاحب جب چین گئے تھے بھیک مانگنے تو جی چین نے مشینری اور تکنیک دینے کی بات کی تو
زرداری صاحب نے فرمایا که جی دینا هے تو کیش دو جی
اور کیش کی ضرورت پوری کرنے کے لیے انہوں نے ائی ایم ایف کی شرائط مان کر ملک کو مقروض کر دیا ہے
یه ساری باتیں لوگ کر رهے تھے ميں تو ایسی کوئی بات بھی ان کے خلاف نہیں کرنا چاهتا
اب اگر بھانڈ ان کو منگتا کہـ رہے هیں یا
ان کی ماضی کی کرپشن کے افسانے گردش کررہے هیں تو جی
ان لوگیوں کو میں تو یه هی کہـ سکتا هوں جی که ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا ہے اور
ان کو ایسے هی بد نام ناں کریں جی ـ
یقین کریں که میں تو زرداری صاحب کے خلاف تنہائی میں بھی کوئی بات نہیں سوچتا
که کہیں پکڑا هی ناں جاؤں
اپنے بلاول صاحب کہیں امریکه میں کوئی ایوارڈ وصول کرنے گئے تھے که کسی امریکی صحافی نے ان کو پارٹی کا چئیر مین سمجھ کر کوئی سوال کردیا
اب ان امریکیوں کو کو سمجھائے که جی
جس کو اپ چئیر مین سمجھتے هو
اردو میں اس کو سجادھ نشین کہتے هیں
سجادھ ذرا چئیر سے مختلف هوتا ہے
ناں جی
اور
آپ لوگوں کے چئیرمین اور همارے سجادھ نشین میں زمین اسمان کا فرق هوتا ہے جی
آپ امریکی هوئے جی عام سے لوگ اور اپنے عام سے لوگوں میں سے کسی کو پکڑ کر چئرمین اور پته نہیں که کیا کیا بنا دیتے هو
همارے سجادھ نشین اور صاحبزادگان کچھ اور '' چیز '' هوتےهیں
اس لے بلاول صاحب نے جو جواب دیا میں تو جی اس کے غلط یا صحیع هونے کا نہیں لکھ سکتا هاں امریکیوں کو سمجھانے کی کوشش کرسکتا هوں که جی سجادھ نشین کی ڈیفینیشن سمجھنے کی کوشش کریں
اس طرح آپ لوگوں کو معاملات کرنے میں اسانی رهے گي
که کیسے سلام کرنا ہے
کیسے نذرانه () دینا ہے ـ
وغیرھ وغیرھ ـ
یه لکھ دیا گيا ہے تاکه سند رہے
که میں زرداری صاحب کے خلاف نہیں هوں
اور اللّه سائیں مجھ پر کرم فرمائیں
آمین!!ـ

ہفتہ، 13 دسمبر، 2008

اج کی بات

موسم بھی ٹھنڈا هوتا جارها هے اور کاروبار بھی
ڈالر کی مندی نے جاپان میں هم پاکستانیوں کے کاروبار کو بہت متاثر کیا ہے
جی اج کا ریٹ تھا آٹھاسی ین کا ایک ڈالرـ
اگر کسی کا ایک ٹرک افریقه میں دس هزار ڈالر کا بکتا ہے تو چار مہینے پہلے اس کو بارژ لاکھ ین مل جاتے تھے جاپان میں
اور اب هی دس هزار ڈالر والے کے پیسے جب جاپان اتے هیں تو ان کے بنتے هیں آٹھ لاکھ اسی هزار ین ـ
کچھ لوگوں بڑا شوق ہے جی امریکه کو اجڑتے دیکھنے کا ـ
امریکی اس کو ان لوگوں کا حسد کہتے هیں ـ
میں بھی اس بات میں '' کسی حد '' تک امریکیوں سے متفق هوں ـ
سارا نئیں !!ـ
اب کر لو جی باتاں ـ
ساری دنیا کے کاروباروں پر مندی چھائی هوئی ہے ـ
کیونکه امریکه کی اکنامک پر مندی چھائی ہے
امریکه دنیا کی ضرورت بن چکا ہے امریکه کا نقصان صرف امریکه کا نقصان نہیں هوتا بلکه بہت سے ملکوں کا لوگوں کا نقصان بن جاتا ہے ـ
پچھلي دنو ں جب امریکه کے کار میکر تین بڑوں کے کاروبار کے بحران کا سنا تو سوچا که شائید هم کاریں بنانے والے جاپان میں رهتے هیں اس لیے هو سکتا ہے که جاپان کی کاروں کی صعنت ک لیے یه اچھا هو
مگر جی جب سیانے لوکاں سے بات کی تو انہوں نے بتایا که امریکه کی موبائیل انڈسٹری کے لیے پرزے سارے جاپان سے جاتے هیں
اس لیے اس بحران کا جاپان کو بھی نقصان هو گا
اور ایسا هی هوا که جی جاپان کی بڑی بڑی کمپنیاں اپنے ورکرں کو کام سے نکال رهی هیں ـ
سونی الیکٹرونس اور ٹیوٹا والوں نے هزاروں لوگوں کو کام سے نکال دیا ہے
سال کے اخری مہینے میں جب بونس ملنے کی امید هوتی هے
کام سے جواب مل گیا ہے
ناں بونس اور ناں هی اگلے مہینے سے تنخواھ ـ
اللّه هم مزدوروں کے حال پر رحم فرمائے !!ـ
پاکستان گو حالات پر بندھ کیا کہے ؟
که هر چیز هی کجیوں سے بھری پڑی ہے
کسی بھی بات کا هم اور ممالک سو موازنه هی نہیں کرسکتے
که موازنه کرنے کے لیے بھی کچھ ناں کجھ تو هونا چاهیے
یہان هے هی کچھ نہیں
بھانڈ جگتیں کر رهے تھے کسی کی شادی کی تقریب میں
ایک کہتا ہے جی
اب تو جی اپنی هی حکومت ہے
سارے حکمران اپنے میں سے لگتے هیں
دوسرا کہتا ہے
اؤے وه کیسے ؟؟
ہم اس شادی میں بھیک مانگنے آئے هوئے هیں اور جی همارے صدر صاحب امریکه مانگنے گئے هوئے هیں ـ

سارے ای منگتے!ـ
ساری قوم کو انڈیا سے جنگ کرنے کا شوق چڑھا هوا ہے جی !!ـ
کسی گاؤں ميں لڑائی هو جائے تو جی گوجرانواله کے ہسپتال اس لڑائی کے زخمیوں کو سنبھالنے کی سکت نہیں رکھتے
تو جی جنگ جیسی ایمرجنسی کو کیسے سنبھالیں کے ؟؟
بڑا فخر ہے جی میری قوم کو اپنی '' پاک فوج '' پر لیکن یه فوج تو کسی زلزلے کی مدد کے لیے بھی تین دن میں پہنچتی ہے
محاذ پر تو جی ''اگلے '' بھی گولیاں چلا رہے هوتے هیں ـ

اتوار، 7 دسمبر، 2008

اردو رسالے

آج صبح میل چیک کی تو جی میل بکس میں ایک مشکوک سی میل بھی تھی
جس میں سینڈر کا نام لکھا تھا
*~*sMiLiNg DoLL*~*
اورمیل کا عنوان تھا
A humble Request...
پہے تو میں اس ڈلیٹ کرنے جا رها تھا مجھے خیال آيا که دیکھ لیتے هیں بڑی بڑی رقموں کو ترسیل کے لیے میری مدد کے طلب گار کسی افریقی کی هو گی اور اس نے کتنی رقم مجھے ٹرانسپورٹ کروانی هے
میل کھولی تو جی اسلام علیکم سے شروع اس میل کو کھول کر میں نے شکر کیا که اس ڈلیٹ نہیں کیا
یه میل تھی جی اردو رسالے والوں کی
جن کا دومین لنک ہے
http://www.urdurasala.com
اس سائیٹ کو کھول کر بھی ایک خوش گوار احساس هو که اس کا ڈیزائین کسی اچھۓ ڈیزائینر نے بنایا ہے
اور اس پر کگی کتابیں دیکھ کر جی اپنی جوانی میں پڑھی هو ئی کتابیں یاد اگئیں
سوناگھاٹ کا پجاری
ایک کتاب ہے جی بازی
جو که اردو کے ایک ماهانامے سب رنگ میں چھپا کرتی تھی یه ماهنامه پھر سالوں نامه هو گیا که سالوں میں ایک دفعه چھپا کرتا تھا
اس کہانی کو پورا پڑەنے کی خواهش میں جی بوڑہے هو کئے
شوکت صدیقی صاحب کی ایک کہانی تھی جی جانگلوس
اس کہانی کی تیسری قسط کا چربه تھاجی پی ٹی وی کا مشهور زمانه ڈرامه
وارث
اس کہانی کو بھی پرا پڑھنے کے لیے ترستے رهے که پچھلی دفعی پاکستان گیا تو گوجرانواله اسٹیشن کے سامنے والے کتابوں سٹالوں میں سے ایک سٹال پر اس کے کچھ حصے دیکھے لکن اس کا اخری حصه اس کتابوں والے کے پاس نہیں تھا تو اس نے کہا که جی آپ پیسے دے جائیں میں یه کتابیں آپ کے پنڈ(گاؤں)پہنچا دوں گا
لیکن جی اس نے نہیں پہنچائیں
اردو رساله کے نام سے بنی اس سائیٹ کو دیکھ کر میرے اندر ایک خسارے کا سا خفیف احساس گذر گیا
که کاش اج میرے پاس وھ کتابیں هوتی جو میں نے اپنے بچپن میں پڑهی تھیں اور اج وه نایاب هو چکی هیں
آنه لائبریری
کا نام سنا ہے کسی نے ؟؟
پاکستان بننے سے پہلے اس نام سے بچوں کی کتابوں کی اشاعت کا ایک سلسله چلا تھا
ان کتابوں کے بھے صندوق میاں ممتاز خاں صاحب کے مکانوں میں پڑے تھے
میاں ممتاز خان سیکرٹری وزارت خزانه هوا کرتے تھے
عمر کی چالیسویں دەائی کے پاکستانیوں نے ان کا نام ایک روپے والے نوٹ پر ضرور دیکھا هو گا
یه میاں ممتاز خان صاحب همارے گاؤوں کے تھے
ان کے گاؤں چھوڑ کر چلے جانے کے بعد ان کے مکان خالی پڑے تھے که کسی نے ان کے تالے توھ کر یہاں سو کتابیں چوری کر کے ردی میں بیچ دی تھیں
ان دنوں مجھے کتابیں پڑھنے کا جنون هوا کرتا تھا
همارے ایک کلاس فیلو رزاق درزی نے مجھے ان کتابوں کا بتایا
اور مجھے پوچھا که کیا تم یه کتابیں خرید لیا کروں گے
میں نے کتابیں خریدنے کی حامی بھر لی
اب زراق درزی نے مجھ سے پیسے لے کر ایک ایک کتاب کرکے مجھے لا کر دینے لگا اور جبمین کتاب پڑھ لیتا تھا تو رزاق کہتا تھا که کتاب تو تمهاری هی ہے لیکن یه زرا مجھے بھی
دو که میرے چاجے نے پڑھنی ہے
اس طرح سو وه کتابیں واپس رزاق کے پاس هی چلی جاتی تھیں تھیں
ایک دفعه جاوید درزی نے مجھے بتایا که رزاق کہـ رها تھا که اس نے خاور کو ایک فراڈ لگایا هوا هے جس میں خاور اور اس کوپیسے دیتا رهتا ہے
لیکن وه فراد کی تفصیل نہیں بتا رها تھا
تم هی بتا دو که کس مد میں اس کو پیسے دے رهے هو ؟؟
میں نے جاوید کو تو نہیں بتایا کیوں که همارے ابا جی کو کتابوں سے اللّه واسطے کا بیر تھا
اگران کو معلوم هو جاتا که میں نے کتابوں پر پیسے خرچ کیے هیں تو هو سکتا ہے مجھۓ مار مار کر لہولہان هی کردیتے
اپنے اردو کے بلاگر علوی صاحب کے کتابوں کو اون لائین کرنے کی شروعات کے بعد مجھے کتنی هی دفعه اس بات کا احساس هو ا که کاش وه کتابیں میرےپاس هوتیں
اور اج اردو رساله دیکھ کر تو یه احساس اور بھی بڑھا
کبھی کبھی سوچتا هوں که شائید رزاق نے وه کتابیں سنبھال کر رکهی هوں
چاهے وه اس بات سے مکر بھی جائے که کتابیں خاور کی ملکیت هیں
میں ایک دفعه پھر سے اس کو ادائیگی کر کے بھی وه کتابیں خریدنا چاهتا هوں
بہرحال مجھے
یه سائیٹ پسند ائی ہے
اور میرا خیال ہے که کتابیں پڑھنے والے کسی بھی شخص کو پسند آئے گي