بدھ، 26 نومبر، 2008

ایک ویب سائیٹ

جو لوگ آئیڈیا پیدا کرتےهیں ان کو زمانه موجد کہتا
ورنه
هم جیسے تو جی آئیڈیا کو یاتو نقل کرتے هیں یا پھر کچھ ائیڈیاز کو مکس کر کے ایک نیا آئیڈیا بنا لیتے هیں
بہت پہلے میں نے کہیں پڑھا تھا که یورپ کے کسی ملک میں کسی نے ایک دن کوئی چیز فروخت کرنے کے لیے ایک پرچی لکھ کر ایک بارونق جگه پر ایک درخت پر لگا دی
جس کی وجه سے سے کی چیز فروخت هو گئی
اس بات سے اور بھی لوگوں نے اسی درخت کو پرچی والی مشہوری کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا
که ایک وقت یه تھا که اس شہر میں کسی بھی ایڈروٹایزنگ سے زیادھ اس درخت پر لگائی پرچی کی اهمیت هوتی تھی
بیلٹن بورڈ کے نام سے کچھ دوکانیں یا سٹور یا پھر چرچ بھی ایک پھٹا (بورڈ) مہیا کرتے هیں
جہاں مکان کی تلاش مین جوان سٹوڈنٹس کا هجوم هوتا ہے
سیکنڈ ہینڈ کتابیں هوں که روز مرھ کے استعمال کی چیزیں
ایک سٹوڈنٹ جب اپنی تعلیم مکمل کر کے جا رها هوتا ہے تو اس کی کوشش هوتی ہے که اس کی یه پرانی چیزیں پیسوں میں بدل جائیں یا پھر کسی کے کام آ جائیں
تو جی یه لوگ بھی ان بیلٹن بورڈز پر اپنے پیغام لگا دیتے هیں

ایسے مفت رسائیل تو پاکستان سے باهر رہنے والے سبھی لوگ جانتے هیں جن پر اس طرح کے اعلانات اور پیغامات هوتے هیں
مزدور پیشه لوگ جو که بیرونی ممالک مین اخبار تو خریدتے نہیں که اجنبی بولی
اور پیسے کا ضائع
مگر
یه لوگ بھی ایسے رسائیل سے استفادھ کرتے هیں
ان رسائیل کو دسترخوان کے طور پر استعمال کرکے !!ـ
لیکن میں نے ایسی کوئی چیز
اردو میں
نہیں دیکھی
ناں تو پرنٹڈ میڈیا میں اور ناں هی
اون لائین
انٹر نیٹ پر !!!ـ
اخبارات کا اشتہارات کا صفحه ایک قسم کی چیز ہے اردو میں لیکن ناں تو یه فری هے اور ناں هی هر بندے کی دسترس میں ـ
پیرس میں میں نے بہت کوشش کی که ایسی کو چیز بناؤں مگر کتنی هی کوشش کے باوجود میں بمشکل روزی روٹی کا انتظام هی کرسکا
اپنی بقا کی کوشش میں هی باقی سارے خیالات خاک هوئے ـ
جاپان آکر میں نے بھی میں نے اس بات کو ذہن میں رکھا که کیسے اس ملک میں هی وه کا کام کر لیا جائے جو که میں کرنا چاهتا تھا
ایک تو جاپان میں لوگوں کا رویه بہتر ہے فرانسیسی لوگوں کی نسبت اور
کچھ بات یه بھی ہے که میں افورڈ بھی کر سکتا هوں
کسی حد تک خرچ کرنا !ـ
جاپان میں پاکستانی پورے جاپان میں بکھرے هوئے هیں
جاپان میں میرے علم میں ایسا کوئی بھی علاقه نہیں هے جہاں که ایک کلومیٹیر کے علاقے میں بیس پاکستانیوں کے گھر هوں ـ
هاں ایسے علاقے ضرور هوں گے که دس کلومیٹر کے علاقے میں ایک بھی پاکستانی ناں هو ـ
اس لیے یہاں جاپان میں اگر ایک ایسی ویب سائیٹ هو جس سے که سارے اردو پڑھنے والے ایک دوسرے كے حالات سے اگاھ هو سکیں تو یه ایک یونیک چیز هو گی
یاد رہے یه کوئی اون لائین نیوز نہیں ہے
جس میں بادشاهوں کی باتیں هوتی هیں
یه ایک اناؤنس اعلان ، اشتهار ٹائیپ پیغام کو شائع کرنے کی جگه هو گی ـ
یه سائیٹ کچھ اس طرح کام کرے گي که کوئی بھی بندھ کہیں سے بھی مجھے فیکس کر دے

جس پر که ھاتھ سے هی لکھا هو ـ
مثال کے طور پر کہیں کوئی مرگ هو جاتی ہے تو اگر میت کا کوئی قریبی بندھ مجھے فیکس کر دے که فلاں بندھ قضائے الہی سے انتقال کر گیا ہے تو
اگلے دن سارے جاپان میں زیادھ تر اردو پڑھنے والے اس بات سے اگاھ هو کر اس کے جنازے میں شامل هوسکتے هیں
یا احباب اور جاننے والے افسوس کرنے کے لیے جاسکتے هیں
یاپھر فرداً فرداً مجھے فیکس کر کے افسوس کا پیغام انٹر نٹ پر لگوا سکتے هیں
یا اس میت کی تدفین پر انے والے خرچے کے لیے چندھ اکٹھا کرنے والے کارکنوں کے لیے بھی سہولت هو سکتی هے

دوسری طرف کسی کی شادی کی خبر
اور
اس پر مبارک باد کے پیغامات
گاڑیوں کی فروخت میں میں نے دیکھا ہے که بہت سے پاکستانی
گھوم پھر کر گاڑیا ں تلاش کرتے رهتے هیں
جب کوئی گاڑی مل جاتی ہے تو اس کو خرید کر ایکسپورٹ کرنے والے لوگوں سے رابطه کر کے بیچ دتے هیں
اور هر بندے کی پہنچ چند هی ایکسپوٹروں تک هوتی هے
دوسری طرف ایکسپوٹروں کی پہنچ بھی تھوڑے هی لوگوں تک محدود هو جاتی هے
یا پھر اوکشن
اس طرح اگر کوئی بندھ اپنی گاڑی کے لیے مجھے لکھتا هے تو اس کی پہنچ بھی زیادھ ایکسپوٹروں تک هو جائے گي اور ایکسپوٹر حضرات کو بھی سہولت هو گي که
اوکشن کی نسبت کچھ کم قیمت پر گاڑی مل جایا کرے گی ـ

گاریوں کی حد تک تو پحر بھی ایک سسٹم بن هی چکا ہے مگر
کبھی کبھی کوئی مشینری مل جاتی ہے جس کی که کسی ناں کسی ملک میں ضرورت بھی هوتی ہے مگر
روابط کے ناکافی هونے کی وجه سے یه میشنری سکریپ هو جاتی هے

کیا هی اچھا هو که ایسی مشینوں کے متعلق بھی اطلاعات کا کوئی پیلٹ فارم بن جائے
اور وه پلیٹ فارم هو گا جی یه سائیٹ
اب مثالکے طور پر میرے پاس کچھ مشینیں پڑی هیں
پلاسٹک کی پٹی بینڈ !ـ
وه مشین جو که کارٹن کے ڈبوں یا کسی اور مال پر پلاسٹک کی پٹی باندھتی ہے
میرے پاس پڑی هیں تین عدد اور ایک سریه کاٹنے والی مشین اور ایک کمپریسر پڑا ہو جو که تھری فیز چار سو وولٹ ہے
اس کمپریسر کی بنی هوا میں نمی نہیں هوتی
لیکن مجھے کسی بھی ایسے بائیر کا معلوم نہیں ہے جو اس قسم کی چیزیں کسی ملک کو بھیجتا هو
لیکن کوئی ناں کوئی هو گا ضرور

بس جی ایسی هی باتیں اور معاملات کو اکٹھی کر کے کسی ایک جگه کرنے کی خواهش دل میں اٹھتی تھی
جس کے لیے بنائی ہے یه ایک سائیٹ
http://gmkhawar.net
اس سائیٹ میں ایک صفحه هو گا نمائندگان کا جس میں که ان لوگوں کا تعارف اور فوٹو فون نمبر هو گا جو که اس سائیٹ کی اهمیت کو سمجھتے هوں گے اور لوگوں کو اس سائیٹ کے استعمال کی ترغیب دیں گے ـ
یه نمائیندھ آپ بھی هو سکتے هیں
آپ دنیا کے کسی بھی ملک میں رہتے هیں کوئی بات نہیں اگر آپ میرے ساتھ شامل هونا چاهتے هیں
تو مجھے لکھیں
اس سائیٹ کے لیے جو ای میل استعمال کی جائے گی
gmkhawar@gmail.com
اور فیکس نمبر هو گا
0480 68 3588
میں تکنیک طور پر زیادھ اهلیت نہیں رکھتا هوں
اس لیے بلاگر دوستوں سے یا وه قارئین جو ویب ماهر هیں ان کے مشورے میرے لیے مشعل راھ هوں کے
آپ کی تنقید بھی '' ویل کم''ـ
اردو میں دنیا بھر میں یه اپنی طرز کی پہلي سائیٹ ہے
جی هاں پہلی سائیٹ !!ـ

سوموار، 24 نومبر، 2008

ملنے والے

کل مورخه تئیس نومبر کو یہاں اباراکی کے شہر کوگا میں فیض میاں ٹریڈنگ والوں نے مسلم لیگ نون کی ایک تقریب رکھی تھی
جس میں میں بھی گیا تھا
باتیں سب وهیں تھیں جن سپ سب لوگ بھی واقف هیں
کچھ مبالغے اور کچھ مفالطے ، خرابیوں کی تشخیص هی تشخیص علاج ندارد!!ـ
بہرحال هم تو جی میاں عظمت کی دعوت پر گئے تھے
اور اسی طرح کتنے هی لوگ جو که پیپلز پارٹی کے هیں اور کئی دوسری پارٹیوں کے مگر میاں برادران کی دعوت پر یہاں شامل تھے
انہی میں همارے ایک بہت هی اچھے دوست عبدلالقدوس صاحب بھی تھے
بھٹی صاحب اور گورایه صاحب کے ساتھ کچھ مہمان پاکستان سے ائے هوئے تھے
جناب ملک طارق صاحب اور ان کے ساتھ چوھدری آصف صاحب
یه دونوں صاحبان جاپانی حکومت کی دعوت پر چاپان مین ایک کانفرنس میں شامل هونے کے لیے تشریف
لائے تھے
سیونتھ گلوبل هیومن ڈولپمنٹ کانفرنس


ملک طارق صاحب سے گفتگو کا کافی مزا آیا که
کافی پڑھے لکھے بندے هیں
پاکستان می کتنے هی سکول چلاتے هیں اور غالباً دس که بارھ ہسپتال بھی
ان کے ایک بھائی ٹیکسلا میں پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر هیں
لیکن ملک صاحب کو سیاسیت سے زیادھ ملاحی کاموں کا شوق ہے
بقول ان کے فلاحی کاموں میں ان کا ''اندر '' راضی هوتا ہے
ملک صاحب آئیڈیل ایجوکیشنل اینڈ ویلفیر سوسائیٹی کے چئرمین هیں ـ



محمد دلاور گورایه دائیں طرف اور بائیں طرف چوھدری آصف صاحب هیں اور ان کے ساتھ ملک طارق صاحب

عبدلاقدوس بھٹی اور محمد دلاور گورایه ملک طارق صاحب کے دائیں بائیں کھڑے هیں

محمد دلارو گورایه اور ملک طارق صاحب

جمعرات، 20 نومبر، 2008

آیت مصطفے

چھبیس آگست دوهزار آٹھ کو
ایت مصطفے کی میں پیڈائیش کے بعد آیت مصطفے کی پرورش کی مصروفیت کی وجه سے
نیٹ کو صرف پڑھنے کی حد تک هی استعمال کررها هوں

آیت مصطفے

جمعہ، 14 نومبر، 2008

یه جاپان ہے

بات کہاں سے شروع کروں ؟؟
آپنے گھر کی غریبی سے یا ملک کی غریبی سے
نہیں اس طرح کرتے هیں که غریبی کا رونا بعد میں سہی
پہلے
جاپان کی امیری کی بات کرتے هیں ـ
اخلاقی طور پر بھی جاپانی بہت رِچ هیں
اور مالی طور پر تو پاکستان کے ان داتا هیں جی
امریکه کی گارنٹی پر پاکستان کو سب سے زیادھ قرضه دینے والا ملک جاپان هی هے ـ
اج کل جاپان میں ایک مسئله کھڑا هوا هے اور ساری قوم اس موضوع پر کچھ ناں کچھ کہـ رهی ہے
مسئله هے جی جاپانی قوم کے لیے
اور اس مسئلے کو اگر پاکستانی قوم کو بتائیں تو هو سکتا ہے که
پاک سوچ میں سسٹم ایرر آ جائے
مسئلے کو سمجھ کر اس کا حل نکالنا تو بات هی دوسری هے
مجھے ایک پرانی کہانی یاد آ گئی میں نے کہیں
کسی ڈائیجسٹ میں پڑھی تھی
که
کرامتی مراثی کی وفات هوتے هیں منظر هی بدل جاتا ہے
موت کے فرشتے کرامتی مراثی کو
کرامت صاحب کرامت صاحب کہـ کر پکارنے لگتے هیں
یه بگھی آ گئی ہے جی کرامت صاحب قبله !ـ
ادھر تشریف لائیں حضور کرامت صاحب !ـ
کرمتی مراثی که ٹک ٹک دیدم
اور گھگی بندھی آواز میں کہتا ہے که جی کوئی غلطی لگ گئی ہے آپ کو فرشته صاحب میں هوں جی سدا کا کرامتی مراثی !ـ
سجی دھجی سواری میں بٹھا کر کرامتی کو عدالت میں پیش کیاجاتا ہے
تو کرامتی سجدے میں گر جاتا ہے که جی سچے بادشاھ صاحب اپ کا درشن هو گيا اب بے شک جہنم میں پھینک دیں ساری زندگی کی کچلی حیاتی کا کوئی گله نہیں !ـ
ایک دفعه میں چوھدریوں کے گھوڑے پر چڑھ گیا تھا
اور اس پر بڑی لترول هوئی تھی
اپ کو بھی اکر کوئی غلطی لگ گئی تو جی معافکردیں میں کرامتی مراثی هی هوں !ـ
فرشته رضوان فائیل کھول کر پڑھنے لگا که جی
پیدائیشی نام کرامت علی قوم مراثی ساری زندگی کسی کو دکھ دیا ناں دھوکه
گناھ کوئی ناں بندوں که خدمت هی خدمت اس لیے کرامت صاحب کو جنت میں محل الاٹ کیا جاتا ہے ـ
کرامتی کو لے کر پروٹوکول افسر ٹائیپ فرشتے لے کر محل میں جاتے هیں اور کرامتی کو سارا محل دکھاتے هیں که جی اب یه آپ کا ہے
اور آپ اب جنت میں هیں
یہاں اپ کی هر خواهش پوری کی جائے گي !ـ
کرامتی نے محل کی ڈیوڑھی میں مجی ڈلوا لی اور کہنے لگے که جی مجھے یہی ٹھیک ہے
فرشتوںنے بہت کہا که جی یه سارا محل آپ کا ہے اور اب آپ کی هر خواهش پوری هوگي
مگر کرامتی کو یقین هی نہیں آ رها تھا ـ
فرشتوں کی بار بار تکرار پر که یہاں هر خواهش پوری هو گي
کرامتی جھجکتے هوئے کہنے لگا
اچھا ؟ کیا آپ لوگ مجھے هر روز تندور کی پکی دو روٹیاں اور کم شورے والی گاڑھی دال دے سکتے هو؟؟
یه سن کر فرشتوں نے شرم سے سر جھکا لیا که
جی اس بندے کی سوچ هی اتنی ہے

تو جی
تو جی بات یه ہے که جاپانی حکومت کے پاس پیسے فالتو پڑے هیں اور ان کو ان کے استعمال کا کوئی طریقه نہیں سوج رها
اس لیے وزیر آعظم آسو صاحب کا خیال ہے که یه رقم سب لوگوں میں بانٹ دی جائے
اس بات پر بحثیں هو رهی هیں که یه غلط ہے که صحیع
حکومتی پارٹی کا خیال ہے که جاپان کے هو بالغ کو ایک سو بیس ڈالر اور کم عمر کےلوگوں اور ریٹائیر لوگوں کو دو دو سو ڈالر نقد دے دئے جائیں ـ
اب نکته یه نکل آیا که دولت مند لوگوں کو اتنے سے پیسوں کی پرواھ هی نہیں هے اور وه لوگ اس کی خیاهش بھی نہیں رکھتے
تو آسو صاحب نے کہا که چلو امیر لوگوں کو نہیں دیتے
تو سوال پیدا هو گیا که امیر اور غریب کا معیار کیا مقرر کریں گے
اور کون کرے گا
کیا حکومت یه کر سکتی هے؟
تو جی حکومتی پارٹی کو احساس هوا که یه تو بڑا ذمه داری کا کام ہے اور کی ذمه داری نہیں لی جاسکتی
اس لیے
آسو صاحب نے کہا که جی
شہری کونسل اس بات کا تعین کرے
تو جی شہروں نے بھی اس ذمه داری کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے
ایک آئیڈیا یه بھی ہے که کیوں ناں یه رقم
لگا کر اس طرح کر دیا جائے که هائے وے کا ٹول ٹیکس کم کردیا جائے
که جاپان میں ایک سرے سے دوسرـے سرے تک انے کا ٹول صرف ایک هزار ین کر دیا جائے
جی که اب اس وقت آدھے لاکھ ین کے قریب بن جاتا هے
اور اپوزیشن بھی اس بات کا گله کر هی هے که الیکشن قریب هیں اور حکومتو پارٹی کہیں یه رقم دے کر ووٹروں کو اپنی طرف مائیل کرنے کی کوشش تو نہیں کر رهی ؟؟
اور لوگوں کا رویه کچھ ایسا ہے که اس رقم کی وصولی کے لیے کہیں بھی کوئی گرم جوشی نہیں ہے
ٹ وی پر دیکھائے جانے والے خیادھ تر انٹرویو میں لوگوں کا تاثر کچھ اس طرح ہے که
اچھا ؟
ههم؟
مل بھی جائیں تو کیا کریں گے؟؟
چلو کہیں گھومنے چلے جائیں کے !!ـ
اب دیکھیں که یه اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے
جاپان میں !!ـ
اور پاک قوم کی باتیں هین جی که پاک فوج کے ناپاک کارناموں کی بدولت پاک حکمران
بھیک مانگنے نکلے هوئیے هیں
دے جا سخیا ـ ـ ـ ـ ـ
هاں میں بھی ایک بھکاری قوم کا فرد هوں
جس کے سربراهاں آپنی عیاشیاں بھیک اور قرضے سے پوری کرتے هیں
پاک حکمران قرضے کو منافع سمجھ کر خرچتے هیں

بدھ، 12 نومبر، 2008

جیالے

ای میل کیا
جس میں ناصر ناکا گاوا صاحب کے ساتھ پیپلز پارٹی کے جیالوں کی بد تمیزی کی خبر تھی یا خبر نما کالم
ناصر صاحب اردو سپیک اور پولائیٹ سے بندے هیں
میں نے انکو فون کیا که کیا هوا تو انہوں نے بتایا که پیپلز پارٹی والوں نے جو فنگشن کروایا تھا نودا اوکشن میں اس میں ناصر صاحب بھی گئے تھے
ایک تو ناصر صاحب اردو کے ایک اخبار ''دنیا کے صحافی بھی هیں اور کچھ مقامی کمیونٹی میں گھلنے کی خواهش بھی هو گی

میں خود تو اس فنگشن میں شامل نہیں تھا
لیکن کچھ دوستوں نے بیاتا که وهاں چندھ اکٹھا کیا گيا
جس کو اکٹھا کرنے میں کافی سے زیادھ جوش خروش دیکھایا گيا تھا
اب جی بقول ناصر صاحب کے انہوں نے کھوڑو صاحب کو ان کی تقریر کے بعد یه بات کہي که جی
آپ ایک اهم شخصیت هیں اس لیے اگر اپ بھی ایک دفعه چندے کے لیے اپنی تقریر میں کہـ دیتے تو اس کا بہت اثر هوتا
یه بات سن کر کھوڑو صاحب نے بہت تاسف کا اظہار کیا که یه بات ان کے ذہن سے کیوں نکل گئی
که واقعی اگر تقریر میں یه بات کہز دی جاتی تو اجھا تھا
لیکن ناصر صاحب کے کھوڑو صاحب سے اس بات کہنے کو مقامی جیالوں نے برا جانا
اور ناصر صاحب '' کچھیا ترویا''ـ

[caption id="attachment_507" align="alignnone" width="300" caption="چيبا کین کے یو ایس ایس اوکشن نودا میں "]چيبا کین کے یو ایس ایس اوکشن نودا میں [/caption][caption id="attachment_506" align="alignnone" width="300" caption="سٹیج پر سے ڈالر اکٹھے کیے جا رهے هیں "]سٹیج پر سے ڈالر اکٹھے کیے جا رهے هیں [/caption][caption id="attachment_505" align="alignnone" width="300" caption="زلزله زدگان کے لیے چندے کی اپیل کی جارهی هے"]زلزله زدگان کے لیے چندے کی اپیل کی جارهی هے[/caption][caption id="attachment_504" align="alignnone" width="300" caption="یہاں کچھ جاپانی فنکاروں کو بھی بلایا گیا تھا "]یہاں کچھ جاپانی فنکاروں کو بھی بلایا گیا تھا [/caption][caption id="attachment_503" align="alignnone" width="300" caption="پاکستان سے جناب کھوڑوکی صاحب بھی تشریف لائے تھے"]پاکستان سے جناب کھوڑوکی صاحب بھی تشریف لائے تھے[/caption][caption id="attachment_501" align="alignnone" width="300" caption="فنکار اور پارٹی کے جیالے سٹیج پر باتیں کر رهے هیں اورپاؤں میں امریکی ڈالرز بکھے پڑے هیں "]فنکار اور پارٹی کے جیالے سٹیج پر باتیں کر رهے هیں اورپاؤں میں امریکی ڈالرز بکھے پڑے هیں [/caption]

اتوار، 9 نومبر، 2008

پرانی پوسٹ دوبارھ

لو جی سائبر کرائم آرذینیس جاری هو گیا ہے
میں نےاس پر ایک سال پہلے ایک پوسٹ لکھی تھی


جناب سیدناں مصرف صاحب
اسلام علیکم
ہم سب یہاں خیریت سے هیں اور اپ کی خیریت خدا سے نیک مطلوب '' چاهتے '' هیں ـ
صورت احوال یه ہے که
آپ نے میرے پچھلے خط کا جواب تو نہیں دیا مگر میری درخواست پر آرڈینینس جاری کرکے ہم ہم راشی سرکاری کارندوں پر بڑا احسان فرمایا ہے ـ
هم لوگ دھڑا دھڑ موبائیل فون اور دوسرے قیمتی برقی الات ضبط کر رہے هیں ـ
اصل میں لوگوں کی بهی تو عادتیں خراب هیں موبائل پر گندے گندے پیغامات بهیج دیتے هیں جس سے همارے کام میں اسانی هو جاتی ہے ـ
کل ایک بندے نے کسی کو پیغام بهیجا تها که
میں ملکی حالات سے دلبر داشته هوں ـ
میں نے پکڑ لیا جی اس کو فحش پیغام بهیجنے کے جرم میں
ایک هی فقرے میں '' دلبر '' اور '' داشته '' کا ذکر کر رها ہے
میں سے اس کو بتایا که چلو '' دلبر ''کی حد تک تو درگزر کی جاسکتی هے مگر داشته تو هے هی فحش لفظ ـ
موبائل بهی کافی قیمتی تها
میرا بیٹا اس موبائل فون کو پا کر کافی خوش ہے اور آپ کے اقتدار کے لیے دعا گو ہے ـ
آپ کی مہربانی سے جلد هی ہمارے گھر میں کمپیوٹر سکینر اور ڈیجیٹل کیمرے کے علاوه کلر پرنٹر بهی آجائے گا ـ
میرے کتنے هی ساتهیوں نے تو کمپیوٹر حاصل کر بهی لیے هیں
مگر ایک قباہت بن رهی ہے کچھ لوگ یونکس کا آپریٹنگ سسٹم استعمال کرتے هیں ان کے کمپیوٹر ٹهیک کروانے میں خرچا وغیره آ جاتا ہے
کوئی ایسا طریقه کریں که ان مکینک لوگوں کا بهی کوئی حل نکلے که ان سے بهی مفت میں کام کروا کر ان پر احسان کیا جاسکے ـ
مہربانی هو گی ـ
اس بات کا خاص طور پر خیال رکهیں که کہیں پرانے جج بحال نه کرديں یه ناں هو که افتخار چوھدری اور رانا بگھوان داس جیسے لوگ واپس آجائیں اور
اچھی بهلی چیزیں واپس کرنی پڑ جائیں ـ
یه جج صاحبان بہت جیلس لوگ تهے جی ـ
ہم راشی لوگوں کو تو بہت هی چبتے تهے
آپ نے ان کو چھٹي کروا کے ہم پر بڑا احسان فرمایا ہے ـ

اس کے علاوه ایک بڑا قیمتی مشورھ تها جی آپ کے لیے
سنا ہے جی که آپ شراب اور شباب کے بڑے شوقین هیں
اسی لیے روشن خیالی پهلانا چاهتے هیں ـ
سرجی آپ روشن خیالی کی بجائے
مذہب کی ترکیب استعمال فرمائیں
آپ تو جی آل رسول هیں آپ کے لیے تو کچھ مشکل هی نہیں ہے
آپنے پیش رو جرنل ضیاع صاحب کی طرح اسلام اسلام کیا کریں
کچھ ماھ کے بعد خود کو آل رسول هونے کا کہـ کر خلیفة المسلمین کا دعوھ فرمادیں
آل رسول هونے کے ناطے آپ کو بخاری وغیره جیسی کتابوں میں سے کافی مواد مل جائے گا آل رسول کی حکمرانی کے حق میں ـ
اس کے بعد آپ بهی ایک حرم بنائیں جس میں جتنی چاهے لونڈیاں رکھ لیں
لونڈیوں کو پروڈکش کی آپ فکر هی ناں فرماییں
وه آپ کو ـ ـ ـ ـ ـصاحبان کردیں گے
آپ میرے اس مشورے پر سنجیدگی سے غورفرمائیں
روشن خیالی کی بجائے یه فارمولا آپ کی تاحیات حکمرانی کےلیے بهی راھ هموار کرے گا
آپ کی انے والی نسلوں کو بهی پاکستان کا حکمران بنا دے گا اور
باقی کے بهی شوق پورے هوتے رهیں گے
بس صرف افتخار چوهدری اور رانا بگوان داس جیسے آل رسول کے گستاخ لوگوں سے بچ کر رهیں ـ
سیدناں مصرف صاحب دهلی والی سرکار کے مزاج کے خلاف سوموٹو ایکشن لینا آل رسول کی گستاخی هی هوئی ناں جی ؟؟؟
بس جی همیں آپ کے سائبر آرڈینینس جاری کرنے سے هی یقین هو گيا ہے که آپ ہمارے آقا مولا هیں اور آپ کی حکومت میں هم راشی اور خود غرض لوگوں کو کوئی ڈر اور خطره نہیں ہے ـ
آيک دفعه آپ کی بہت بہت مہربانی
آپ کے خادم آپ کے در کے کتے
راشی آفسران

جمعرات، 6 نومبر، 2008

اے کاش که

اے کاش که میرا وطن بھی ایک ملک هوتا
اس کا مطلب ہے که بندے کی '' جمن پوئیں '' (جائے پیدائیش)تو اس وطن هوتا ہے
اور اس کے انتظام کو ملک کہتے هیں
تو جی میرا وطن ایمان داری کی بات ہے که ملکوں میں ملک نہیں ـ
ایک ڈنگروں کا ریوڑ ہے جو بے نظم بے ضبط اور بے کار چلا جارها ہے ـ
اور اس پر رکھوالے هیں جی کتے لوگ
جو اپنوں پر تو بھونکتے اور غراتے هیں اور غیر ملکی اقاؤں کے سامنے دم هلاتے هیں ـ
میرے وطن میں ادارے دوسرے ممالک کی طرح نہیں هوتے
که لوگوں کے لیے کام کریں
بلکه کتی خانے هوتے هیں که لوگوں پر بھونکتے کاٹتے هیں
اور اگر کبھی کو گدھا اکڑ جائے تو پھر یه کتے دولتی کھا کر ٹیاؤں ٹیاؤں کرتے هیں ـ
میرے وطن میں ملکوں کی طرح سسٹم نام کی کوئی چیز نہیں هوتی
بلکه صاحب کی مرضی هوتی هے
میرے وطن میں ملکوں کی طرح الیکشن نہیں هوتے
بلکه سلیکشن هوتی هے

میرے وطن میں ملکوں کی طرح سیاسی پارٹیاں جمہوری نہیں هوتیں
بلکه
خاندانی هوتی هیں ـ
میرے وطن میں ملکوں کی طرح لوگوں کو ووٹ نہیں سمجھا جاتا
بلکه
مرید سمجھا جاتا ہے جس کی اپنی کوئی سوچ هی نہیں هوتی ـ
مرے وطن میں کوئی بھی کام ایسا نہیں هوتا جو که ملکوں والا هو ـ
اس لیے میرے دل میں خواہش اٹھتی ہے که کاش میرا وطن بھی ایک ملک هو تا تو هم بھی انسانوں جیسی زندگی گزارتے ـ