اتوار، 27 جولائی، 2008

دھونکل

دھونکل نام کا ایک قصبه ہے جو جی ٹی روڈ پر گوجرانواله اور وزیر آباد کے درمیان واقع ہے ـ
یہاں ایک قدیم مندر ہے جس میں ایک ٹل (گھنٹه) لگا هوا ہے ـ
جس کو چومنے کے لیے لوگ آتے هیں که اس سے مرادیں پوری هوتی ہیں
اپنے جرنل ضیاع صاحب بھی گئے تھے اس قصبے میں !ـ
امیرالمومنین بننے کے چکر میں ساری قوم کو خوار کر جانے والے ان صاحب کو پته نہیں کیا کام تھا یہاں ـ
کچھ دهائیاں پہلے اس گاؤں گے لڑکوں نے کیا کیا که
اس ٹل کی زنجیر کی کچھ کڑیاں باندھ کر اس کو اونچا کر دیا
اور خود کمر میں رنگ برنکے پٹکے(ڈوپٹے) باندھ کر متوّلی بن کر کھڑے هو گیے
اور جو بھی خاتون ٹل چومنے اتی تھی اس کو پیچھے سے جپھی ڈال کر اٹھاتے تھے اور ٹل چومنے میں مدد کرتے تھے
کسی پنجابی شاعر کی بیوی کو بھی ٹل چومنے کا شوق چڑھا اور اس نے اصرار کر کے اپنے خاوند کو ساتھ لیا اور دھونکل پہنچ گئے
شعر نے جب اپنی انکھوں سے اپنی بیوی کو جپھی ڈلتے دیکھی تو اس نے ایک قصه نظم لکھی تھی جو ان دنوں کافی چلی تھی
اس کےجو شعر مجھے یاد رھ گئے هیں وه کچھ اس طرح هیں
واھ واھ ترونکل جائے دا
لک وچوں جپھا پائی دا
تھلیوں گوڈا ڈائی دا
تے اتوں ٹل چموائی دا
واھ واھ ترونکل جائی دا
کہتے هیں اس نظم کے انے کے بعد لڑکوں نے ٹل کی زنجیر کی کڑیاں کھول دی تەیں اور
آئیں بائیں هو گئے تھے ـ
اس گاؤں کی ایک اور بات مشہور ہے جو که مجھے
آپنا پاکستان والے افضل صاحب کی
یه پوسٹ پڑھ کر یاد آئی
کہتے هیں اس گاؤں کے ایک ترکھان کو ایک دن کوئی مجذوب ملا جس کی اس ترکھان نے بڑی خدمت کی ـ
کچھ دن بعد جب مجذوب جانے لگا تو اس نے ترکھان سے پوچھا که تمہاری کوئی خواہش ہے تو بتاؤ
تمہاری کوئی سی بھی ایک خواهش پوری هو گی
ترکھان نے خوشی اور بے یقینی سے پوچھا که واقعی ؟
مجذوب نے کہا هاں بتاؤ کیا خواهش ہے تمہاری ؟
تو ترکھان نے کہا که دعا کریں جی که اس علاقے کی ساری ٹاہلیاں (شیشم) کالی هو جائیں ـ
مجذوب نے دعا کی اور قبول هوئی !ـ
کہتے هں که دھونکل یا ترونکل کی سرزمین کی کسی بھی ٹاہلی کو توڑ کر دیکھيں چاهے ایک مہینے هی کی کیوں ناں هو اندر سے کالی هو گي ـ
کالی ٹاهلی کی کیا کوالٹی ہے ؟
که اس سے بنا هوا فرنچر مضبوط اور خوبصورت هوتا ہے اور اس کو گھن نہیں لگتا ـ
کچھ لوگ اس ترکھان کو سادھ دل کهتے هیں اور کچھ چھوٹی سوچ کا مالک ـ
که اس نے دولت مند بننے کا موقع ضائع کر دیا ـ
لیکن اہل دل اور اہل نظر اس کو اجتماعی فائدے کی سوچ کہتے هیں ـ
اک عظیم سوچ که ایک عظیم دل میں هی اُٹھ سکتی ہے ـ
مگر همارے معاشرے میں ترکھانوں کو کمی اور کمینه کہا جاتا ہے
اس لیے ہمارے حکمران کبھی بھی کو کام ایسا نہیں کریں گے که اس ترکھان جیسی سوچ کے مالک کہلوا کر کمی کمین نه بن جائیں ـ
آپني ذات سے اوپر اٹھ کر سوچتے هوئے ان کی سوچ کے پر جل جاتے هیں ـ

منگل، 15 جولائی، 2008

استاد فُجی مورا

ایک سوال تھا که
آپ کس شخصیت سے ملنا چاهتے هیں ؟
ان دنوں میں جس شخصیت سے ملنا چاهتا هوں وه هیں جی
فُجی مورا سینسے!ـ
سینسے کهتے هیں جاپانی میں استاد کو !ـ
فوجی مورا صاحب ایک سائنسدان هیں !ـ
تھوچی گی کین میں ناسو شہر کے رہنے والے هیں ـ
ان کو شمالی جاپان کا ایڈیسن بھی کہتے هیں ـ
فجی مورا صاحب کی کتنی هی چھوٹی چھوٹی ایسی ایجادات هیں که جو روزمرھ کی زندگی کو اسان کرتی هیں
انهوں نے ایک ایسی فریج ایجاد کی ہے جو که بغیر بجلی کے چلتی هے ـ
جی بغیر بجلی کے !ـ یعنی که شمسی بجلی بھی استعمال نهیں هوتی اس میں ـ
میں اس تکنیک کی باریکی کو تو نہیں سمجھتا لیکن یه کچھ اس طرح کی تکنیک ہے
جیسی که همارے کمہار لوگ ایک برتن جس کو پنجابی میں چجر کہتے هیں میں استعمال کیا کرتے تھے ـ
چجر ایک دیسی قسم کی فریج هی هوا کرتی تھی
یه برتن جو که گھڑے کی هی شکل کا هوتا تھا مگر اس میں استعمال کی گئی مٹی کو ایک خاص طریقے سے گوندھ کر بنایا جاتا تھا که یه برتن کتنی بھی دھوپ میں کیوں نه رکھا هو اس میں پڑا پانی حیران کر دینے کی حد تک ٹھنڈا هوا کرتا تھا
اسی طرح فجی مورا سینسے کی بنائی هوئی یه فریج اپنے اندر کے درجه حرارت کو پانچ درجه سینٹی گریڈ پر برقرار رکھتی هے ـ
پچھلے دنوں فجی مورا سینسے نے اس طرح کی ایک فریج منگولیا کے دیهاتی علاقے میں بنا کر دی هے
جس کا سائیز کچھ مربع میٹر تھا
دنیا کے چھبیس ممالک سے فجی مورا صاحب کو دعوتیں ملی هوئیں هیں که ان کے ملک میں بھی کچھ بنا کر دیں ـ
ان ممالک میں پاکستان شامل نهیں هے
کیونکه پاکستان کے حکومتی لوگوں میں اتنی عقل هوتی توط اج کیا ملک کا یه حال هوتا ؟؟
بہرحال
مجھے اگر مقدور هوتو میں چاهتا هوں که فجی مورا سینسے مجھے ایک کولڈ سٹوریج بنا دیں پاکستان میں ناں بجلی کا خرچا اور ناں لوڈ شیڈنگ کو چخ چخ ـ
ہینگ لگے ناں پھٹکڑی رنگ بھی آئے چوکھا
لیکن اس کو چلائے گا کون؟؟
فجی مورا سینسے کی ایک تصویر


مجھے ابھی یہی ایک تصویر ملی هے

کچھ دن پہلے کی بات ہے که ٹی وی پر ایک پروگرام چل رها تھا
جس میں جاپانی مہارتوں کی بات هو رهی تھی
میں نے اس پروگرام کو شروع سے نہیں دیکھا
لیکن جہاں سے میں نے دیکھنا شروع کیا تھا اس میں بتا رهے تهے که
جاپان کے پلوں پر جلنے والی بجلی کیسے پیدا هوتی هے ـ
یاد رہے که جاپانی لوگ بجلی کے استعمال میں انتہائی کفایت شعاری سے کام لیتے هیں ـ
جاپان میں پلوں پر ایک محراب سی بنی هوتی هے جو که پل کا هی ایک حصه هوتی هے اور پل کا سہارا بھی ـ
اس محراب نما پر لائیٹیں جل رهی هوتی هیں ، نه صرف رات کو بلکه اگر دن کو بھی بادل گھر کر آئیں تو یه لائیٹس جل جاتی هیں

جاپان میں پلوں پر پل کے نچلی طرف ایک ڈبه لگا دیتے هیں جو
گاڑیوں کے گزرنے سے جو تھرتھراهٹ هویتی هے اس سے بجلی پیدا کرتا ہے
اور اس کے ساتھ لگی بیٹریاں بجلی کو محفوظ رکھتی هیں
یه تکنیک ابھی تک اس جاپانی کمپنی کا کاروباری راز ہے
جو که یه کسی کو دینا نہیں چاهتے
لیکن سانوں کی جی ؟؟؟
ہمیں تکنیک کی ضرورت هی نہیں ہے
هم تو جی تکنیشین کو کمّی اور کمینه کهتے هیں ناں جی
اس لیے جاپان کے لوهاروں کو ہم کیا سمجھتے هیں ـ
کتنی بھی ترقی کرلیں هیں تو لوهار هی ناں جی ؟؟

جاپان کی وزارت خزانه کے ملازمین کی رشوت کا بڑا چرچا چل رها ہے ٹیلی وژن پر
اس وزارت کے ملازمین کو حکومتی خرچے پر ٹیکسی استعمال کا استحقاق حاصل هے اس لیے یه لوگـ لمبے سفر کے لیے بھی ٹیکسی استعمال کرسکتے هیں
اور ٹیکسی ڈرائیور بھی اسیے گاهک چاهتے هیں جو که ایک هی دن میں کچھ سو ڈالر کا بل بنا دیں ـ
اس لیے ٹیکسی ڈرائیور لوگ ان ملازمین کو بئیر کی پیشکش کیا کرتے تھے جو که یه ملازمیں قبول کر لیا کرتے تھے
پھر اہسته آہسته یه هونے لگا که حکومتی ملازمین خود سے پوچھنے لگے که
بئیر بھی دو
اور کچھ ٹیکسی ڈرائیور وں کو تو نقدی کے لیے بھی پوچھا جانے لگا
یه جاپان هے کمیوں(ہنر مندوں) کا ملک که فوراً رشوت لینے اور دینے والوں کو قابو کر لیا گيا ہے ـ

جاپان کے جنوبی علاقے کی ایک کین او ای تا کین میں محکمه تعلیم کو ملازمین بھی رشوت لیتے هوئے پکڑے گئے هیں
یه لوگ سکولوں میں استادوں کی تعیناتی کے لیے رشوت لیا کرتے تھے
اس معاملے کو تو جاپانی لوگ بڑی هی سنجیدگی سے لے رهے هیں که محکمه تعلیم والوں نے کہیں ایسے استاد بھرتی نهیں کر لیے که جو اس بات کی اهلیت نہیں رکھتے
اب کیا یه جارها هے که ان رشوت لینے والوں کو تو گرفتار کیا گیا ہے اور ان کے تعینات کیے گئے سب استادوں کو بھی دوبارھ چیک گیا جارها ہے که یه لوگ واقعی استاد بننے کے اهل هیں یانهیں ؟؟

اولمپک میں سوئمنگ سوٹ کا معامله کچھ اس طرح چل رها تھا که جاپان کے تیراک جو که اولمپک میں شمولیت کی اهلیت رکھتے هیں ان کو سپیڈو نام کا سوئیمنگ سوٹ پسند تھا
لیکن اولمپک کمیٹی اس کو قبول نهیں کررهی تهی که جو سوٹ اولمپک کمیٹی کے منظور کردھ هیں صرف وهی استعمال کیے جاسکتے هیں ـ
مگر ان تیراکوں کا دعوھ تھا که سپیڈو کے سوئیمنگ سوٹ سے ان کی سپیڈ بڑھ جاتی ہے
کتنے هی ٹیسٹوں اور امتحانوں کے بعد اب اولمپک کمیٹی نے یه بات منظور کر لی ہے که
تیراک کوئی سا بھی سوٹ استعمال کر سکتے هیں ـ
تو مجھے انیس سو چونسٹھ کے اولمپک میں ننگے پیر بھاگ کر میراتھن میں گولڈ میڈل لینے والے افریقی کھلاڑی حبیبی صاحب یاد ائے
شائید ان کو بھی اسی لیے ننگے پیر بھاگنا پڑا تھا که حبیبی صاحب اولمپک کمیٹی کے منظور کردھ جوتے افورڈ نهیں کرسکتے تھے
یا
پھر حبیبی صاحب بھی ہمارے پینڈو لوگوں کی طرح ننگے پیر بھاگنے کے عادی تھے
آپ نے دیکھا هو گا که ہمارے پینڈوں کو جب بھی بھاگنا پڑے جوتے اتار کر ھاتھ میں پکڑ لیتے هیں ـ

اتوار، 6 جولائی، 2008

نودولتیے

خمار گندم کہـ لیں یا بقول استاد دامن
رجے ٹڈ (بھرا پیٹ ) کی باتیں ـ
یه باهر کے ملکوں میں بیٹھے پاکستانی جب سیاست میں ایڑیاں اٹھا اٹھا کر اپنا قد بڑھا رہے هوتے هیں مجھے بڑا عجیب سا لگتا ہے ـ
اور استاد دامن کا وه شعر یاد آجاتا ہے
رجے ٹڈ دیاں ساریاں گلاں نے
آٹا لگے تے طبلے پٹاخدے دے نیں
شروع شروع میں جب هاهر کے ملکوں میں جاتے هیں تو یه پوزیشن هوتی ہے
پیٹ واسطے باندراں پائی ٹوپی
ہتھ بنھ سلام گزاردے نے
اور جب تھوڑا پیسا آجاتا ہے تو
کهتے هیں
چيرپھاڑ جے کھان بندیا ں نوں
ریچھ نچدے وچ بازار دے نے ـ
تھوڑا اور پیسا آجاتا ہے تو
خود کو شیر کہلوانا پسند کرتے هیں
باندر سے ریچھ اور ریچھ سے شیر بن جاتے هیں
اور کچھ تو شیر ببر بھی بن جاتے هیں
مختلف جانور بنے جاتے هیں
انسان
کہلوانا
ان کی توهین هوتی هے
لیکن ہم جیسے للکارے مارتے رهتے هیں
اوئے بندے دے پتر بنو!!!ـ
لیکن جانور کے هی پتر بنے جاتے هیں جی یه لوگ !ـ
کوئی غیر ''مسلم '' لیگ بنا رها ہے اور
کوئی پيپل کے نیچے بیٹھی پارٹی ـ
اور پھر ان مسلم لیگوں میں بھی شاید '' مرغ مسلم '' کا مرغن پن هوتا ہے که هر بندھ ایک نئی مسلم لیگ کو جنم دے رها هوتا ہے
اور اس لیگ کی پیدائیش کرتے ان صاحبان کے جذبات سے '' دردزھ '' جھلک رهی هوتی هیں ـ
کہیں ایسا تو نہیں که
غلامانه ذہنیت کے لوگوں کو آپنی جبلت کی تسکین کے لیے ایک آقا چاهیے هوتا ہے تو یه کسی کو آقا بناکر لیتے هیں
یاکسی کی کتی طبیت کو اس وقت تک سکون هی نہیں ملتا که جب تک کسی کے سامنے دم نه هلالے ؟؟
هم خود کو تارکین وطن کہنے والے لوگ اصل میں وطن سے دھتکارے هوئے لوگ هوتے هیں
هم اپنے ملک میں کسی کام نہیں هوتے هیں اسی لیے هم باهر ان ملکوں میں چلے جاتے هیں جن اقوام نے اپنی کوشش سے ایسا ماحول بنا دیا هوتا ہے که ایک احمق ادمی بھی کمائی کرکے زندگی گزار لے ـ
اور هم احمق لوگ ان کے معاشروں میں اگر جب کمانے لگتے هیں همیں عقلمندی کے مغالطےلگنے لگتے هیں
مغالطے اس لیے که بنیادی طر پر هیں تو احمق هی ناں جی !ـ
اور اتنے احمق که جس ملک میں رھ رہے هوتے هیں جس ملک کی مہربانی سي کمانے کے قابل هوتے
اس ملک کو بنانے والے اس ملک کے لوگوں کو هی احمق ، کافر ، بے دین ، چوەڑے ، گندے اور پته نہیں که کیا کیا کہنے لگتے هیں ـ
اوقات ہماری یه هوتی هے که لوگ ہمیں بھکاری سمجھتے هیں ـ
اور پاکستان میں رہنے والے بھی جانتے هیں که باهر والے احمق هوتے هیں اور وه بھی ان کو بیوقوف بناتے رہتے هیں ـ
دهوبی کے کتے کی طرح ناں گھر کے ناں گھاٹ کے ـ
یورپ میں رہنے والے جب ٹکیس چوری اور کئی طرح کی کمینگیوں سے چار پیسے بنا لیتے هیں تو ان کو سیات کا شوق چڑھتا ہے
لیکن یورپین اقوام گھاس نہیں ڈالتیں تو پاک ملک کی سیاست میں ٹانگ اڑانے کا هی خیال آتا ہے
مگر
اس ملک میں اپنی حثیت یه هوتی ہے که
وهاں کے دھتکارے هوئے ردی قسم کے تو هوتے هیں
تو سیاست میں چلیں گے کیسے ؟؟
چلو اس طرح کر لیتے هیں که باهر رہتے هوئے هی کسی کے چمچے بن جاتے هیں ـ
اور اب یورپ سے یه رسم جاپان بھی منتقل هوگئی ہے
دولت بہت ہے اس ملک میں اور علم اور عقل بھی مگر
جاپانی لوگوں نے دولت تو ہم پاکستانیوں کو بھی بہت خیرات کی ہےمگر علم اور عقل نہیں دی
اصل میں هم میں کوئی علم اور عقل کا خواهش مند هی نہیں تھا ـ
یقین کریں جاپانی ہم پاکستانی گاڑیوں کا کام کرنے والوں کو خیرات میں پیسے دے رہے هوتے هیں ـ
ایک جاپاکی(جاپان میں پاکستانی) بزنس میں جب کسی جاپانی سے گاری خریدنے جاتا ہے تو جاپانی اس کو یه بات بتا دیتا ہے
که یه گاڑی اگر تم منڈی میں لے جاؤ گے تو دس ہزار ڈالر مں بک جائے گي اس لیے سات ہزار میں لے جاؤ !ـ
یاکه تج بے چارے کو بھی چار پیسے بچ جائیں ـ
اب اپ خود سوچیں که ایسی کمائی سے امیر بنے جاپاکی جب خود کو جاپانیوں سپیرئیر سمجحتے هیں اور جاپانیوں کو نیچ تو جاپانیوں کا رویه هوتا ہے
که ایسے بندے کی بات کا جواب بھی نہیں دیتے بس ہلکا سا کہـ دیتے هیں
یه تو هے هی بیوقوف اس کی بات کا برا کیا منانا!!ـ
یه تارکین وطن لوگوں کی بنائی هوئی لیگیں اور پارٹیاں
هیں کس کام کی؟؟؟
کسی بھی کام کی نهیں هیں ـ
ناں تو یه ووٹ ڈال سکتے هیں
اور ناں هی پاکستان کی سیاست پر کسی اور طرح سے اثر انداز هو سکتے هیں
ان لوگوں کی حثیت پرکاھ جیسی هے
اور سوچ کی پرواز که سمجھتے که عرش تک جائے گی
مگر
ان کی سوچ کے پر جل جاتے هیں وهاں تک جاتے جاتے جہان سے کسی اہل نظر کی سوچ شروع هوتی هے ـ

باقی فیر سہی ـ