جمعہ، 23 مئی، 2008

مانگا اور توهین قران

عرب میڈیا میں اس بات کا انکشاف کیا گیا اور اس بات کا گله بهی کیا گیا که 
اب جاپان بهی ـ ـ ـ ـ
قران اور اسلام کی اهانت کا معامله شروع هوا ہے ایک کارٹون کہانی سے ـ
جاپان میں ٹی وی پر اس بات کا ذکر تها که عرب میڈیا نے اس اس بات کا لکھا ہے که اب جاپان بهی مسلمانوں کی دل آزاری میں ،
اور اس كے بعد اس معاملے كا بتایا گیا تها ـ
مانگا كہتے هیں جاپانی زبان میں كارٹون كہانی كو جو كه كاغذ پر چھپی هو ـ
لیکن ان دنوں جاپانی زبان کا یه لفظ '' مانگا '' دوسری کئی زبانوں میں بهی رائج هو چکا ہے 
مثلاً فرانسیسی اور انگریزی میں کارٹون کہانیوں کی کتابوں کو اب مانگا هی کہتے هیں یا پھر جاپانی سے ترجمه کیا گئی کارٹون کہانیوں کی کتابوں کو تو ضرور مانگا کہتے هیں ـ
جاپان میں مانگا کہانیاں بڑے شوق سے پڑهی جاتی هیں اسی لیے که ان کی مانگ هے جاپان میں مانگا کتابیں بهی بہت چھپتی هیں ـ
اور مزے دار بات ہے که مانگا کی کتابوں کا فوراًهی دنیا کی دوسری کتنی زبانوں میں ترجمه هو جاتا ہے ـ
اس لیے مانگا لکھنے والے فنکار کوشش کرتے هیں که مانگا کے پس منظر میں نظر انے والا ماحول ایسا هی هو جیسا که کہانی میں لکھا جارها هے ـ
ایسا نہیں که کهانی تو هو پیرس کی اور کرداروں نے پہن رکھے هوں شلوار قمیض ـ
یا جیسا که اردو کی کہانیوں میں هوتا ہے صرف کرداروں کے نام پاک کر لیے جاتے هیں اور باقی سار ماحول انگریزی والا هی هوتا ہے ـ
جاپان کے مقبول ترین مانگا میں هے ایک '' ینگ '' نام کا ویکلی میگزین ـ
جاپان میں وی بہت پڑها جاتا ہے 
اور تقریباً ساری هی عمروں کے لوگ اس کو پڑهتے هیں ـ
اس میگزین میں سلسله وار کہانیاں اور مخصوص کردار هوتے هیں ـ
ان میگزینوں میں چپھنے والی مانگا کہانیوں کی اینمیشن فلمیں بهی بنتی هیں ـ
اب مسئکے والے بات یه هوئی که 
ایک سیریز کہانی کے کردار جو جو اور اس کے دوست ساری دنیا کا سفر کرتے ہیں۔
سیریز کی ایک قسط میں جو جو کے دشمن ڈیو کو مصرکے پس منظر میں ایک کتاب پڑھتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو دیکھنے میں قرآن جیسی نظر آتی ہے اور اس کے بعد ڈیو جوجو اور اس کے ساتھیوں کو قتل کرنے کی بات کرتا ہے۔
مانکا لکھنے والے نے کہا ہے که وه مانگا میں ڈیو کو عربی کتاب پڑھتے هوئے دیکھانا چاهتا تها
تاکه مصر کا ماحول نظر آئے 
مگر عربی کو کتاب ڈھونڈ کر لانے والے کو مارکیٹ میں عربی کی جو کتاب ملی وه قران تها 
اور لکھاری نے اسی كا عكس شامل كر دیا ـ
جاپان میں كبهی كوئی انگریزی كی كتاب بهی ڈهونڈنی پڑ جائے تو ٹوکیو تک جانا پڑتا ہے 
اور پھر بهی امید نهیں هوتی که کتاب مل جائے گی 
ایسے ماحول میں عربی کتاب کا نه ملنا واقعی ماننے والی بات ہے 
جاپانی لوگ زبانوں کی تحاریر کو زیادھ نہیں سمجھتے 
ان کے نزدیک جاپانی ، چینی کے علاوھ رومن الفاظ هوتے هیں یا پھر عربی الفاظ 
اس لیے اب اگر ان کو کوئی کتاب عربی کی مل بهی جاتی تو اس پر عراب نه هونے کی وجه سے یه عربی جیسی نہیں لگنی تهی 
کچھ اس لیے بهی
اور کچھ جاپانی لوگ مذهپ کو اهمیت بهی نہیں دیتے مگر 
کسی کی انسلٹ کرنے کو بهی برا سمجھجاتا ہے جاپانی محول میں 
کوئی بڑی خود دار اور اکڑ والی قوم هیں 
یه نه تو کسی کی انسلٹ کرتے هیں اور نه هی اپنی انسلٹ کو بهولتے هیں 
اور اگر نادانسگی میں کسی کی توهین هو هی جائے تو بڑي ندامت کا اظهار کرتے هیں اور اگر توهین زیادھ هی هوجائے تو شرم سے خودکشی هی کرلیا کرتے هیں 
یه مذاق نہیں ایک حقیقت ہے ـ
اسی کی دهائی میں شیطانی آیات نام کی کتاب لکھنے والے رشدی ک معاملے سے بهی جاپان واقف ہیں اور رشدی کی اس کتاب کا ترجمه کرن والے کا نوے کی دهائی میں اباراکی کین کی تسکوبا یونیورسٹی میں قتل اور اس قاتل کا ابهی تک نه ملنا بهی جاپانیوں کو یاد ہے ـ
جہاں تک میرے علم میں هے اور جتنا میں جاپانیوں کو سمجھتا هوں 
میرے خیال میں قران کی بے حرمتی نادانستگی میں هی هوئی هو گي 
جاپانی کبهی بهی اسلام کے خلاف نہیں رہے هیں 
امریکه کا اتحادی هونے کی وجه سے حکومت کی پالیسی ایک دوسری بات هے 
جاپانی تو ہمیشه ترک مسلمانوں کے ساتھ مل کر چلتے رهے هیں ـ
مصر کی الاظہر یونیورسٹی 
کی فتوی کمیٹی کے سربراہ نے
اس کارٹون پر یہ کہتے ہوئے نکتہ چینی کی کہ اس سے '' اسلام کی اہانت ہوتی ہے کیونکہ اس میں مسلمانوں کو دہشت گردوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے''۔
فتوی دینے والے حضرات کو بهی احتیاط کرنی چاهیے که معالات کو باریکی سے دیکھ لیا کریں 
عملوں کا دارومدار نیتوں پر هوتا ہے 
اس فتوے کو دنینے سے پهلے کیا مصر کی الاظہر یونیورسٹی کے فتاوی نے جاپانی ماحول کی اسٹڈی کی تهی؟؟
یا که ان کو جاپانیوں کا تاریخی پس منظر اسلام دشمن لگا تها ؟؟
آگر آپ کو اللّه نے کچھ ذمه داریاں دی هیں تو ان کا احساس کریں اور ایک ذمه دار بندھ هونے کا ثبو ت دیں ناں که انتشار پھلانے والی هی باتیں ـ
میرے نزدیک اسلام کی توهین هو هی نهیں سکتی
که اسلام ایک سسٹم ہے ناں که 
ایک شخصیت
اللّه اور اس کے رسول کی توهین کرنے والے کو میں بهی سخت سزا دینے کے حق میں هوں ـ
لیکن اسلام کی توهین ؟؟
یه کیا ہے ؟؟
میں نے کچھ کم علم لوگوں کو دیکھا ہے که وه کسی غیر مسلم کا قران کو هاتھ لگانا بهی برداشت نہیں کرتے که اس سے قران کی توهین هوتی هے ان لوگوں کے نزدیک ـ
آگر ایک لوٹے پانی میں پیشاب کا ایک قطرھ گر جائے تو یه پانی ناپاک هو جائے گا 
مگر 
اگر ایک دریا میں ایک بندھ پیشاب هی کردے تو کیا هو گا ؟؟؟
دریا اس پیشاب کو پاک کر دے گا !ـ
ہے که نہیں ؟؟
اسی طرح قران کو ایک لوٹا پانی نہیں هے که کسی غیر مسلم کے هاتھ لگانے سے ناپاک هو جائے گا 
بلکه بے کراں مطہر یه کتاب کسی کو بهی پاک کر دے گی ـ
خود تو قران کو سمجھنا چھوڑ دیا ہے اب کسی اور کو بهی هاتھ نهیں لگانے دینا چاهتے ـ

بدھ، 21 مئی، 2008

پنج آب اور چار آب


سیچوان کا معنی بنتے هیں چار دریاؤں کی سرزمین ـ
چین کے اس علاقے میں زلزلے نے بستیاں الٹ دی هیں 
اموات کی تعداد چار ہزار سے زیادھ بتائی جارهی هے 
اور متاثر هونے والوں کی تعداد ہے 
پچاس لاکھ 
جی هاں 
پچاس لاکھ 
یعنی ادھا کروڑ
آج کی خبر تهی که ایک سو اناسی کھنٹوں کے بعد ایک الیکٹریشن کو ملبے سے زندھ نکالا گیا هے ـ یعنی امدادکا کام جاری هے ناں که ہماری طرح زلزلے کو چار دن هو گئے هیں اب کسی کے بچنے کی امید نہیں ہے اس لیے اب مرنے والوں کی فاتحه پڑھ لیں ـ
سیچوان کی چار دریاؤں کی سرزمیں کے زلزلے نے یہاں جاپان میں میڈیا کی توجه حاصل کی هوئی هے 
ایک تو نزدیکی ملک هونے کی وجه سے اور دوسرا زلزلوں کا ملک هونے کی وجه سے اور تیسری وجه ہے که جاپان چین کو ایک ابھرتے هوئے حریف کے طور پر دیکھتا ہے 
پہلے پہل تو جب تک زیاده اموات کی خبریں نہیں تهیں جاپانی میڈیا آپنے لوگوں کو زلزلوں کے دوران اختیار کرنے والی حفاظتی تدابیر یاد کرواتا رها 
جب جب اموات کی خبریں انے لگیں تو سیچوان والوں کے دکھ کو محسوس کیا جانے لگا 
لیکں جاپانی لوگوں کا تاثر یه تها که چین اس مصیبت میں اپنے لوگوں کو سنبھال بهی سکے گا یا نہیں 
لیکن افرین هے چارآبی لوگوں پر که پنجابیوں کی طرح نه نکلے بلکه انتہائی منظم طریقے سے اس مصبیت میں بهی انتظامات کر لیے هیں
ابلے هوئے چاولوں پر ابلی هوئی سبزی هی سہی لیکں سب بچ جانے والوں کو دی جارهی هے کوئی افارا تفری نہیں هے ـ
خدائی فوجدار(ولینٹئیر) لوگوں نے کتنے هی کام سنبھالے هوئے هیں ـ
جراثیم کش دوائیوں کا چھڑکاؤ کیا جارهاهے 
چین کے فوجی بہت کام کررهے هیں جین کی فوج جو که پاک فوج کی طرح آپنے ملک پر کبهی بهی قابض بنهیں هوئی لیکن اپنے لوگوں کے لیے کام کررهی ہے 
کسی بهی ٹی وی پر کسی بهی جرنیل کو نهیں دکھایا جارها 

جاپان سے ڈاکٹر اور نرسیں چین پہنچ گئی هیں 
اور بهی کتنی هی امداد
جاپانی میڈیا اب چین کے امدادی کاموں کو تنقیدی انداز میں دیکھا رها ہے 
کیونکه یه ایک حقیقت ہے که چین جاپان جیسا منظم ملک نہیں ہے 
لیکن پھر بهی چین جیسا کررها ہے ان سے جاپانی میڈیا غیر مطعمن بهی نهیں هے ـ
اور 
دوسری طرف 
برما میں سائکلوں
آیا تها 
جس میں بهی ایک لاکھ اموات کا خدشه ظاهر کیا جارها ہے 
لیکن برما میں بهی فوج کی حکومت ہے اور ان فوجی حکومتوں کا مزاج بهی اپنی ترکیب خاص هی هوتا ہے ـ
اگر ان فوجی حکمرانوں میں غیرت نام کی کوئ چیز هو تو اپنے هی ملک پر قبضه کیوں کریں ؟؟
برما کے ڈکٹیٹر صاحب نے پہلے تو غیر ملکی امداد پر یه قدغن رکھی که امداد تو لیں گے مگر امدادی نہیں ـ
جاپان میں ایک ویڈیو ٹی وی پر دیکھایا گیا که جب غیر ملکی امداد برما پہنچی تو سب سے پہلے تو فوجی جوان هی ان پیکٹوں کو کھل کر کهانے لگے اور ولائیتی پانی کی بوتلوں سے پیاس بجھانے لگے ـ
هاں ان ڈکٹیٹروں کی بہادر فوج که هر ملک میں ایک هی جیسی هوتی هے 
پاکستان میں بهی سارے رقبے اور سارے پلاٹ پاک فوج کے هیں ـ
اور اج پھر ٹی وی پر دیکھایا جارهاتها که 
برما کی بہادر فوج امدای سامان کو ٹرک پر لادھ کر جس پر که کیمرھ بهی لگا ہے 
اس ٹرک سے سامان لوگوں کی طرف ایسے پھینک رهی ہے جیسے جانوروں کے اگے 
لوگ بهالے پیچھے پیچھے بهاگ رهے هیں اور برما کے بہادر فوجی ان کی ویڈیو بنا کر لیں گے که ڈکٹیٹر صاحب کلو دیکھائی جائے گی 
مجھے یه ویڈیوں دیکھ کر بڑا دکھ هوا که 
لوگوں کو ذلیل کر کے ان ڈکٹیٹر لوگوں کی کون سی رگ کی تسکین هوتی هے ؟؟
چین اور برما کا یه تقابل ڈکٹیٹر شب اور جمہوریت کا تقابل بهی هے 
یه پنج دریاؤں 
اور چار دریاؤں کا بهی تقابل ہے 
ڈکٹیٹر پاکستانی هو یا برما کا یا کسی بهی ملک کا یه بڑے بزدل هوتے هیں 
اتنے بزدل که کسی کو بهی پنپتا هو دیکھ هی نهیں سکتے که کہیں کسی دن آگو هی نه آجائے 
اور سب سے بری بات ان میں یه هوتی ہے که اس ملک کو بهی پنپتا هوا نہیں دیکھنا چاهتے جس پر یه قابض هوتے هیں ـ
نہیں تو دیکھ لیں آپنے پاکستان کا حال 
ان بہادر کہلوانے والے بزدلوں نے کیا کیا ہے ؟؟؟

جمعرات، 15 مئی، 2008

سیاستدان

پچھلے کتنے دنوں سے سوچ رها تها که لکھوں ، اس موضوع پر لیکن عدیم الفرصتی ـ 
سیاست کو گالی اور سیات دانوں کو گند بنا کر رکھ دیا گیا ہے پاکستان میں ـ
پروپیگینڈا کر کے ـ
لیگن کیا پاکستانی لوگ اتنے هی احمق هیں که اتنی بات بهی نهیں جانتے 
که
سوشل ورکر کی اعلی ترین ڈگری هوتی ہے سیاست دان ـ
اور یاد رهے که پاکستان بنانے والے بهی سیاست دان هی تھے ـ
نه که فوج !ـ
مگر پاک فوج نے پچھلے پچاس سالوں میں بهی پوری قوم کو برین واش کر کے رکھ دیا ہے که
آگر پاک فوج نه هوتی تو ہندو پاکستان کو کھا جاتا ـ
یه فوج هی ہے جس نے پاکستان کو سنبھالا هوا ہے ورنه سیاست دان تو هیں هی غلط
اوراس بات کا اتنا پرپیگینڈا کای گیا ہے که اللّه کی پناھ
کشمیر پاک فوج هی لے کر دے سکتی ہے
کالاباغ ڈیم فوج هی بنا کردے سکتی ہے
لیکن
سیاست دان رکاوٹ هیں ـ
مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا سبب بهی سیاست دان تهے
لیکن حقائق کیا هیں یا یه کہـ لیں که ساتھ سال سے فوج کے مقبوضه پاکستان کا کیا حال ہے ؟؟
کشمیر کو لے کر دینے کے للکارے مارتی یه فوج کس بات سے مجبور ہے ؟؟
کون سا سیاستدان ان کو روک رها ہے ؟؟
جنگل کے شیر بادشاھ کی طرح آپنی هی مرضی کے مالک فوجی آمر جن کا جب چاهے انڈے دیں اور جب چاهے بچے پچھلے پچاس سالوں سے پاکستانیوں کی چھاتی پر پھسکڑا مارے بییٹھے هیں 
لیکن کشمیر ہے که وهیں کا وهیں ، سارے پاکستان کو بیوقوف بنا رہے هیں یه فوجی آمر اور ان کے سہارا بننے والے جرنیل اور کرنیل ـ
کیا قوم کو یاد نہیں هے که جب قائد اعظم نے اس فوج کو حکم دیا تها که کشمیر پر حمله کرو، تو اسی فوجکے سربراھ نے انکار کردیا تها ، فوج کے سسٹم کو فول پروف بتانے والے جھوٹے جرنیلوں سے کون پوچھے گا که اس حکم عدولی کرنے کرنے والے کو کیا سزا دی گئی ہے ؟

اور سیاست دانوں کا چلایا هوا ہندوستان کیسا هے ؟؟
کیا هم ایک هی ڈی این اے کی لڑی سے نہیں هیں ؟؟؟
ایک هی رنگ نسل کے لوگ هیں جی ہم پاکستانی اور هندوستانی ،ہمیں اللّه صاحب نے هدایت دی اور ہم توحید کو ماننے والے هو گئے ـ
مگر ہماری هی نسل کے دوسرے لوگوں نے پرانے هی دهرم کو اپنائے رکها ـ
ان کے ملک میں جمہوریت نے ان کو یه دن دکھلائے هیں که آنے والے دنوں میں امیر ترین ممالک میں شامل هوں گے اور هم هیں که ابهی تک '' بہن پہلوان '' قسم کے جرنیلوں میں هی گهرےهوئے هیں  ـ 
ذرا مغربی ممالک سے حسد کو ایک طرف رکھ کر ایمان داری سے بتائیں که جن جن ممالک میں سیاستدانوں کو فری هینڈ ملا هوا ہے اور فوج کو آئین نے '' نتھ '' ڈالی هوئی ہے ان ممالک میں حالات کیا هیں ؟
فرانس ، اٹلی ، برطانیه ، هیں جی سیاستدانوں کے بنائے ممالک 
اور
دوسری طرف فوجی مقبوضه ممالک میں سے کون سا ملک هے جس میں خوشحالی هو؟؟
برما ، نیپال ، پاکستان ، افریقه کے ممالک لاطینی ممالک جہاں جہان فوجی حکمرانوں نے اپنی ذهانت کے جوهر دکهائے هیں وهیں وهین بیڑا غرق هوا هے ـ
لیکن ان سب ممالک میں ایک بات کامن ہے که ان کے شہری سارے مسائل کی جڑ سیاستدانوں کو سمجھتے هیں 
جن میں پاکستانی بهی شامل هیں اچھے خاصے پڑهے لکھے لوگ بهی سیاستدانوں کو گالیاں دے رهے هوتے هیں اور جب ان کو پاک فوج کی پلید هسٹری بتائی جائے تو خاموش هی هوجاتے هیں ـ
پاک فوج کی پلید ہسٹری 
پاک فوج کے پلید پلاٹ 
پاک فوج کے پلید جرنیل 
پاک فوج کے پلید کام

اتوار، 11 مئی، 2008

بتؤں (بینگن)ـ

  بتؤں کہتے هیں جی پنجابی میں بینگن کو بتؤں (بینگن) ایک بڑی هی میٹھی چیز هوتی هے 
بتؤں (بینگن) کو دودھ سے تیار کرتےهیں ـ
بتؤں (بینگن) میں ذائقے کے لیے پسته اور بادام بهی ڈالے جاتے هیں ـ
بتؤں (بینگن) کو زبان پر رکھیں تو میٹھی ٹھنڈک کا احساس هوتا ہے 
ان دنوں بتؤں (بینگن) کی کتنی کمپنیاں مارکیٹ آ گئی هیں جن میں پولکا . راکو ، یمی قابل ذکر هیں ـ
باسکن روبنسن ، بین اینڈ جیری ، بلیو بیل ، بروسٹر ، کریول ، میکو ، وغیرھ دنیا کی مشہور بتؤں (بینگن) بنانے کی کمپنیاں هیں ـ
پاکستان میں دیسی طریقے سے بهی بتؤں (بینگن) بنایا جاتاہے 
دودھ کو کاڑھ کر اس میں پسته بادام اور قند ڈال کر اس کو سانچوں میں ڈال کر برف کے صندوق میں رکھ کر بناتے هیں ـ
یہاں تک پڑھ کر اگر آپ سمجیں که خاور کھسک گیا ہے 
تو 
شائد ـ ـ ـ ـ 
لیکن آپ ذرھ تصور کریں که کسی شہر کے لوگ اگر قلفی کو بتؤں (بینگن) کہنے لگیں تو ان کے ماحول میں بتؤں (بینگن) کی ڈیفینیشنز تو یہی بنیں گی ناں جی ؟؟
اور آگر آپ جو که اصلی بتؤں (بینگن) سے واقف هیں ان کو بتؤں (بینگن) کی صحیع تعریف بتانے کی کوشش کریں تو آپ کا کتنا مذاق اڑایا جائے گا جی اس شہر میں ؟؟
ہم جس دنیا میں رھ رہے هیں یہاں کتنے هی احمقوں نے کتنی هی قلفیوں کو بتؤں (بینگن) کا نام دیا هوا ہے ـ
اور 
اور اصلی بتؤں (بینگن) کو جاننے والے ان لوگوں کی محفلوں میں احمق کہلواتے هیں ـ
مثلاً کامیابی نام کی قلفی کو دولت نام کے بتؤں (بینگن) سے جانتے هیں ـ
کامیابی نام دیا هوا ہے لوگوں نے دولت مندی کو ـ
لیکن کیا دولت مند هونا هی کامیاب انسان هونا ہے ؟؟
همارے گاؤں کے کچھ لوگ برطانیه میں هوتے هیں 
ان میں ایک هیں دو بهائی جی قصائیوں کا کام کرتے هیں ـ
ان کے پاس بڑی دولت ہے برطانیه میں کافی جائیداد بهی هے 
وافر مقدار مں پونڈ سٹرلنگ ـ
جب یه بهائی پاکستان آتے هیں تو سونے کی چینیں گلے میں ڈالی هوتی هیں ریشمی کپڑے پہنے هوتے هیں 
اب ان کے بچے بهی بڑے هوئے هیں اور پاکستان آتے هی چرس کے سوٹے کا شوق بهی پورا کرتے هیں 
گاؤں کے سارے چرسی ان کے گرد اکٹھے هوجاتے هی اور یه لوگ کافی سخاوت کا مظاهرھ کرتے هوئے ان بھنگی اور چرسی لوگوں کی لک آفٹر بهی کرتے هیں ـ
علاقے کے بدمعاش لوگ ان سے جگا ٹیکس بهی وصول کرتے رهتے هیں 
لیکن ان پاس دولت هی اتنی ہے بدمعاشوں کو جگا دینے میں کوئی فرق هی نہیں پڑتا 
لیکن ان بدمعاشوں جگا دینے سے انکار کرنے کے لیے اپنی برادری کے غریب قصائیوں کو منه نہیں لگانا چاهتے ـ
یه قصائی کها کرتے هیں که انہوں نے برطانیه جا کر صحیع معنوں میں کامیابی حاصل کی ہے 
اتنی کامیابی که اب یه اپنی برادی کے ناکام لوگوں سے ملنا بهی نہیں چاهتے ـ
دوسرے هیں جی 
غلام ربانی صاحب ہمارے گاؤں سے برطانیه میں مقیم 
ان صاحب کو جوانی میں هی کمر میں چوٹ لگ گئی تهی اس لیے یه صاحب دولت بنانے والا کوئی بهی کام نه کرسکے ـ
بیوی کو نوکری کرواکر اور برطانوی حکومت کی مدد سے ساری زندگی میں ایک مکان هی بنواسکے هیں 
اور باقی سب کچھ بچوں کی تعلیم پر اٹھ گیا ہے 
ان کے تین بچے هیں 
ایک بیٹا اور دو بیٹیاں 
بیٹا انجنئیر هے 
او ر دونوں بیٹیاں ڈاکٹر
اب آپنی عمر کی ساٹھویں دهائی میں هیں اور دھلے هوئے کپڑے پہن کر لوگوں میں بیٹھ کر علمی اور عقلی باتیں هی کرتے رهتے هیں ـ
برطانیه سے نکلنے والے اردو اخباروں میں 
غلام ربانی ریڈ هل 
کے نام سے پنجابی شاعری لکھتے هیں اور کچھ کالم بهی ـ
ان کے پاس دولت نہیں ہے اس لیے یه ناکام لوگ هیں 
اور قصائی کامیاب لوگ ـ
میں جاپان سے تیرھ سال آؤٹ رها هوںاور دنیا میں سیاحت کرکے علم کے پیچھے هی پڑا رها هوں 
اور ان تیره چودھا سالوں میں دولتمند هوجانے والے لوگوں کی نظر میں اج میں ایک ناکام بندھ هوں 
لیکں اگر یه لوگ قلفی کو بتؤں (بینگن) کہـ رهے هیں 
تو هم کیا کرسکتے هیں جی 
دولت سے اگر عقل مل جاتی تو تھوڑي سی تو میں بهی خرید هی لیتا ـ

جمعرات، 8 مئی، 2008

هارڈ وئیرز اور پولے وئیر

هارڈ وئیرز ، کا سنا پڑھا تها جی بچپن میں که جگه جگه هارڈوئیر سٹور هوا کرتے تهے قصبوں اور شہروں میں ـ
دابڑے ، کڑاھیاں ، چھریاں کڑچھے، سنگل کنڈے، کیل کابلے ، اور دیگر رچھکان کی دوکان کو هارڈوئیر کی دوکان کهتے تھے تهی ـ
هارڈ معنی سخت یا دوسرے لفظوں میں لوهاروں کی بنائی چیزوں کو هارڈ وئیر کهتے هیں جی ـ
همارے گاؤں میں بهی ایک غازی هارڈ وئیر سٹور هوا کرتا تها اس سٹور کے مالک سن اکہتر کے غازی تھے ـ
آدھا ملک گنواکر غازی ببنے والوں میں یه غریب بهی شامل تھے
ان کو یه علم نهیں که اگر کبھی پاکستان میں اصلی جمہوریت آ گئی تو اکہتر کے غازی سپاهیوں کا کورٹ مارشل هوگا
اور بنگال کے ٹائگر نیازیوں ـ ـ ـ ـ ـ
بہرحال
اب هارڈوئیر کہتے هیں کپیوٹر کے کل پرزوں کو اور انکے ساتھ هوتے هیں سوفٹ وئیرز ـ
جن کل پرزوں کو '' ٹو '' کر محسوس کیا جاسکتا ہے ان کو کہیں گے هارڈ اور جن کو صرف محسوس یا استعمال کیا جاتا ہے ان کو سوفٹ یعنی پولے وئیرز ـ
ڈاڈے وئیرز اور پولے وئیرز کو تو ان دنوں سارے هی کمپیوٹر چلانے والے جانتے هیں ـ
ان دنوں کچھ قومیں هارڈوئیرز بنانے میں آگے هیں تو کچھ قومیں سافٹ وئیرز بنانے میں ـ
اور ہم مسلمان قوم کس چیز کو بنانے میں آگے هیں یا پیچھے هی رھ کر کس چیز کو بنانے میں ایکٹو هیں ؟؟
جی وه هیں هارڈوئیرز !ـ
مگر یه هارڈ وئیرز هیں جی پرانی والی یعنی دابڑے ، کڑاھیاں ، چھریاں کڑچھے، سنگل کنڈے، کیل کابلے ، اور دیگر رچھکان !ـ
سوفٹ وئیر کی سورس فائیلیں تو ہمارے پاس پڑی هیں مگر ان کو سوفٹ وئیر کی شکل دینے کے لیے بهی نناں تو کسی کا دهیان هی جارها ہے اور اگر جاتا بهی هے تو ـ ـ ـ ـ
هارڈوئیرز سے مراد ہے که هم مسجدیں اور دوسری عمارات بنانے میں جتے هیں ـ
مگر دین کے سسٹم نام کی سوفٹ وئیرز کو بنانے کا ایکٹو کرنے کا هم سوچ هی نهیں رہے هیں ـ
هارڈوئیر کے کام میں انفرادی فائده بهت هے اس لے سارے اسی کام کو کرنے میں آگے آگے هوتے هیں مگر سوفٹ وئیر میں اجتماعی فائده ہے جس میں فرد کو تو پہلے پہل بانٹ کر تھوڑا سا هی ملتا هے اس لیے اس کام میں دلچسپی کم هی ہے ـ
پاکستان میں قیام پاکستان کے کچھ هی بعد بھکاری کلچر کی بنیادیں رکھ دی گئیں تهیں ـ
اور اب هم اس کلچر میں اتنے پخته هوچکے هیں که همارے هیرو بهی بھکاری هی بن کر رھ گئے هیں ـ
هر هیرو چندھ مانگ رها ہے
هر حکمران بهیک مانگ رها ہے ـ
کسی نے بهیک سے آپنا ہسپتال بنا لیا اور کسی بے دارھ ، کسی نے بھیک مانگ کر سکول کا کاروبار کھڑا کر لیا اور کسی نے چندے کی مسجد کو کاروبار بنا لیا ہے ـ
میں نے دیکھا ہے که پاکستان میں هسپتال بنانے کے لیے بھیک مانگنے والے کو گریٹ سمجھا جاتا ہے که یه صاحب بڑا کام کریں کے ہسپتال بنا کر ـ
لیکن کیا یه واقعی بڑا کام ہے ؟؟
هاں !ـ لیکن نہیں بهی ـ
میرے خیال میں آگر کوئی صحت عامه کے معاملے میں اتنا هی مخلص ہو تو کیوں نہیں کچھ ایسا کرتا که لوگوں کو سستا علاج مہیا هو ؟؟
مثلاً
انشورنس کا سسٹم ـ
کیا پاکستان کے لوگوں کی سوچ اتنی هی '' نکمی '' هو چکي هے که هم انشورنس کا سوچ هی نهیں سکتے ـ
آج کی دنیا میں سارے هی ترقی یافته ممالک اپنی اپنی انشورنس کی کمپنیوں کے ساتھ اپنی عوامکو سستا علاج اور معاشرتی تحفظ دے رهے هیں
اور سارے هی غیر ترقی یافته ممالک کے انشورنس کو نه اپنانے کی قسم کھائی هوئی ہے ـ
سارے هی لیڈر ڈنگ ٹپاؤ کام کیے جارهے هیں کسی کے بهی پاس سسٹم کو بدلنے کی نه تو عقل ہے اور نه هی صلاحیت ـ
صرف احساس ہے روح سے محسوس کرو
پولے وئیر کو محسوس کرنے کے لیے بهی پولا(نرم)دل هونا چاهیے ـ

درد دل کےلیے کچھ دل مخصوص هوتے هیں
یه وه نغمه ہے جو هر ساز په گایا نہیں جاتا

یا پهر پیسے پر مرنے والے نام نہاد سوشل ورکروں کے لیے هی کسی شاعر نے کها تها ـ

وه آپ تهے جوڈوب گئے ایک بوند میں
ہم آپنے سر په لے کے سمندر کھڑے هیں

ایک بات : پچھلی پوسٹ پر بد تمیز کی فوٹو کو بڑا کرنے کی تجویز کےلیو میں معذرت خواھ هوں جیسے هی موقع ملتا ہے میں نئی فوٹو لے کر پوسٹ کرتا هوں ـ

ہفتہ، 3 مئی، 2008

کوکا کولا باٹلنگ

میں نے سوچا ہے که وه سادی سی باتیں جو همارے ارد گرد هوتی هیں ان کے متعلق بهی لکھا جائے ـ
ہم جس ملک میں بهی رهتے هیں هم اس ماحول کے عادی سے هو جاتے هیں اور همیں ساری باتیں روز مرھ کی زندگی هی لگتی هیں مگر دوسرے مملک میں رهنے والوں کے لیے اس میں بهی دلچسپی کے پہلو هوسکتے هیں ـ
بعض احباب کو سارے هی ترقی یافتھ ممالک ایک هی جیسے لگتے هوں گے مگر میں نے هر ملک کو اپنی جگه اپنی هی طرز پر مختلف پایا ہے ـ
یہاں جاپان میں مشینی دوکان دار بہت هوتے هیں ـ
انگریزی میں اس کو وینڈنگ مشین کہتے هیں اور جاپانی میں جدو هانبائی گی کہتے هیں ـ
جو که کچھ اس طرح کی هوتی هیں ـ

ان مشینوں میں جوس یعنی مشروبات تو عام سی بات هیں اور اس کے علاوه بهی کتنی هی چیزیں هیں جو ان مشینوں میں بیچی جاتی هیں ـ
حتی که سگریٹ اور الکحل بهی فروخت هوتا ہے ـ


جس کا که یورپ میں تصوّر بهی نہیں کیا جاسکتا ـ
که نابالغ بچے سیگریٹ اور الکحل کے عادی نه هوجائیں مگر جاپان میں ایسی مشینیں جگه جگه پڑی هیں اور چوبیس گھنٹے سروس جاری ہے ـ
لیکن جاپان کا کلچر کچھ ایسا هے که هر چهز دسترک میں هونے کے باوجود بچے ان چیزوں کو استعمال نہیں کرتے ـ



لیکن اب جاپانی حکومت اس بات کی کوشش کر رهی ہے که وینڈنگ مشین استعمال کرنے کے خواهش مند اپنی عمر کا ثبوت دے کر ایک قسم کا کارڈ بنوا لیں کیونکه انے والے سالوں میں ان مشینوں میں بهی ایسا سسٹم ڈال دیا جائے گا که عمر کے ثبوت کے بغیر کوئی خرید داری نه کر سکے ـ
ان مشینوں میں مشروبات اور تمباکو اور الکحل کے علاوه بهی کتنی هی چیزیں هیں جو فروخت هوتی هیں ـ
سبزیاں انڈے اور پکے پکائے کھانے بهی فروخت هوتے هیں ـ
یه مشینیں عام سی جگہوں پر ایسے هی پڑی هوتی هیں
اور عموماً ان کی حفاظت کا کوئی خاص انتظام نهیں هوتا ہے
ان کا وزن سو سے ڈیڑھا سو کلو هی هوتا ہے
میرا بهائی ننها کہا کرتا تها که اس ملک کا نظام کچھ ایسا ہے که چوری کرنے والا چوری کرکے بھاگ هی نهیں سکتا ورنه
اس مشین کو تو ہماری برادری کا کوئی بهی لڑکا بمع پیسوں اور جوس کے هی اکیلا هی اٹھاکر لے جائے ـ
اور دوسری بات یه که میری برادری کے لوگ محنتی هوتے هیں نه که چور ،

پچھلے دنوں میں نے آپنے استعمال کے لیے ایک چھوٹی سی گاڑی لی هے
جاپان میں گاڑی کو سڑک پر چلانے کے لیے ''شاکین '' نام کی ایک انسپکشن سے گزارنا پڑتا ہے
جو که هو کار کے لیے دوسال بعد اور ٹرک کے لیے ایک سال بعد هوتی ہے ـ
عام طر پر شاکین کی انسپکشن کے لیے جاپانی لوگ مکینک پر ڈپنڈ کرتے هیں که ایک مکینک اس گاڑی کو اسپکشن کے معیار پر پورا اترنے کے لیے مرمت کرکے انسپکٹر کے پاس لے جاتا ہے ـ
عام طور پر مکینک اس کام کے دوہزار ڈالر لیتے هیں
لیکن اگر کوئی بندھ خود هی چلا جائے تو تین سے پانچ سو ڈالر میں کام چل جاتا ہے اور گاڑی دوسال کے لیے سڑک پر چڑھ جاتی ہے ـ
مارچ میں ایک جاپان دوست نے کہا که میرے پاس ایک ٹو سٹروک انجن والی گاڑی ہے اگر تم جاهو تو میں دوسو ڈالر میں دے دوں گا
مجھے گاڑی کی ضرورت تهی اس لیے میں نے هاں کردی ورنه عام طور پر ٹو سٹروگ انجن والی پرانی کار مفت میں مل جاتی ہے ـ
اس گاڑی گے ''شاکین '' ختم تھے اور اس کو شاکین لگوانے کے لیے لے کر جانے کے لیے بهی بلدیه کے دفتر سے عارضی نمبر لینا هوتا ہے ـ
میں اس جاپانی دوست کے ساتھ اپنے بلدیه کے دفتر گیا تو وہاں پر کافی والی وینڈینگ مشین لگی تهی اور کافی کی بهینی بهینی خوشبو اشتہا انگیز حد تک دل کو بھا رهی تهی ـ
میں نے جاپانی دوست کو اکفی کی افر کی ،
اور اسی ین کے سکے مشن میں ڈال ديے
لیکن مشین میں کاغذی کپ ختم تهے که یا کوئی اور خرابی ؟ مشین نے کافی بنا کر نہیں دی ـ
جو که ایک عجیب بات تهی بہرحال میں نے کها که چلو باهر چل کر کہیں پیتے هیں ـ
تو اس دوست نے کہا که مشین پر مفت کال والا نمبر لکھا هوا ہے کیوں نه اس پر کال کرکے ان کو بتا دیں که مشین خراب هو گئی هے اور اس کو ٹھیک کرلیں یا اس پر لکھ کر لگا دیں تاکه دوسرے لوگوں کو پریشانی نه هو ـ
مں نے اس نمبر پر فون کیا تو ایک خاتون نے ایٹنڈ کیا اور میری بات سن کر بڑی هی معذرت کا اظہار کیا اور میری رقم کی واپسی کے طریقه کار کے متعلق پوچها ـ
میں نے کہا که کوئی بڑی رقم نهیں ہے
اس لیے كوئی بات نہیں مگر اس نے میرا ایڈریس پوچها
جو که میں نے بتا دیا
چار دن بعد مجھے کوکاکولا باٹلنگ کی طرف سے ایک خط وصول هوا جس میں معذرت کا ایک لمبا چوڑا پرچا تها ور اس کے ساتھ سو ین مبلغ سکّه رائج الوقت کی ٹکٹ تهی جو که میں کسی بهی ڈاک خانے سے جاکر وصول کر سکتا تها ـ
میری اصل رقم تهی اسّی ین، مگر کوکا کولا والوں نے مجھے سو ین کی ادائیگی کی ہے
شائید بیس ین میری پریشانی کا ازاله هیں ـ
سو ین کی رسید
یه هے جی اس سو ین کی ٹکٹ کی فوٹو
اسے کہتے هیں زندھ قوم !ـ
کیا ہم بهی ایسا کرسکتے هیں ؟؟
کوکاکولا کا بائیکاٹ کرنے کے للکارے مارنے والے کیا اس کا متبادل پیش کرستے هیں؟؟