جمعرات، 24 اپریل، 2008

ایم ڈی طاہر

عوامی مسائل پر عدالتی چارہ جوئی کی شہرت رکھنے والے قانون دان ایم ڈی طاہر لاہور میں حرکتِ قلب بند ہونے سے پینسٹھ برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔
ایم ڈی طاهر انتقال کر گئے !ـ
عجب آذاد مرد تھے جی یه این ڈی طاهر صاحب بهی ـ اللّه ان کی مغفرت فرمائے ـ
آمین
ان کی وفات کا بڑا دکھ هوا ہے ، جانا تو سب هی کو ہے ایک دن مگر ایسے لوگ جو ظلم کو ظلم کا نام دے کر لوگوں کو اس کی نشاندهی کرتے رهتے هیں کم هی هوتے هیں ، اس لیے ان جیسے لوگوں کا چلے جانا اداس سا کر دیتا ہے ـ
بڑی خواهش تهی کبهی ان سے ملاقات هو
دلچسپی تهی ان صاحب کے متعلق اور سنا تها که لاهور هائی کورٹ میں پھٹا لگاتے هیں ـ
پھٹا لگانا ویسے تو بغیر دوکان کے چیزیں بیچنے کے لیے لگائے گئیے سٹال کو کہتے هیں
مگر
بغیر دفتر کے وکیل کے ٹھکانے کو بهی پھٹا هی کہتے هیں ـ
ایم ڈی طاهر صاحب انتقال فرما گئے
ایم ڈی طاهر صاحب نے ساری زندگی حکمرانوں کے غیر آئینی کاموں کے خلاف ان کے غلط هونے کا للکارا مارا ہے
نتیجه کیا هوگا یا هو گا بهی که نہیں ان سے درویش کو تعلق نہیں تها
بس آپنی سی ایک کوشش تهی جو ایم ڈی طاهر صاحب نے ساری زندگی جاری رکھی
لوگوں کو ایم ڈی طاهو صاحب کی اس قانونی چارھ جوئی پر ہنسی بهی آتی تهی مگر گنوار تو ہنسا هی کرتے هیں ـ
بی بی سی والے اسد علی صاحب نے ان کے متعلق تفصیل سے لکھا ہے
غریبوں کا وکیل
اسد علی صاحب کی مہربانی ہے که انہوں نے لکھا ورنه بے اقتدار لوگوں کو کون لکھتا ہے که انہوں نے بهی کچھ کیا تها ـ
ایم ڈی طاهر کا انتقال هوگیا ہے جی اس دنیا سے اس دنیا میں
اس دنیا میں دائر کی گئیں ان کی درخواستیں ، آخری عدالت میں بهی لگیں گی ، جہاں اللّه صاحب جج هوں گے اور گواھ بهی ـ
چلو اوتھے اسیں وی ویکھاں گے ـ

جمعہ، 11 اپریل، 2008

ایل وی مونکی

مونکی موٹر سائیکل
مونکی موٹر سائیکل
لیوی ویٹون کی سیٹ والا یه مونکی ایک غیر معمولی بات والا ہے که اس پر لیوی ویٹون کی سیٹ لگی ہے ـ
مذاق کرنے والے بهی بڑے مذاقیه هوتے هیں ـ
میرا ایک کک باکسر دوست لیوی ویٹون کے باکسنگ گلوز اور رک سک بنوانا چاهتا تها ـ
ایک چیز جو اگزسٹ هی نہیں کرتی ایسی چیز رکھنا کیسا لگتا ہے ؟؟
لیوی ویٹون لیدر کی چیزیں بنانے والی ایک ڈیزائین کمپنی ہے
ایک برانڈ نیم انتہائی اعلی درجے کا برانڈ!ـ
جیب میں ڈالنے والا ایک پرس بهی پانچ سو ڈالر کا آتا ہے
یعنی تیس هزار پاک روپے کا ـ
کہتے هیں که جب ٹائی ٹینک جہاز کے ڈوبنے کا حادثه هوا تها تو میں لیوی ویٹون کے بیگ اور صندوق هی تیرتے پائے گئیے تهے ـ
شانزے لیزے پیرس
پیرس میں شانزے لیزے پر لیوی ویپون والوں کی دوکان جس کے سامنے امریکیوں اور جاپانی گاهکوں کی لائین لگی هوتی ہے ـ
باقی جی اکر سمجھ نه لگے تو ؟
مٹی پاؤ !!!!ـ

سوموار، 7 اپریل، 2008

کہانی سے مطابقت

سب سے پہلے تو اس بات کو بتانا پڑے گا که جاپان کی سیاست ان دنوں کیا چل رهی ہے
جاپان سے مراد جاپان کے پاکی لوگوں کی سیاست ہے ـ
اگست دوهزار سات میں میں نے ایک کہانی لکھی تهی
مملکت چوبا
اس کہانی میں اگر اپ ملکت چوبا کو مملکت پاکستان اور جزیرھ کو جاپان سمجھ لیں تو پاکستان ایسوسی ایشن آف جاپان کے صدر شهزاد علی بہلم کے بقول ایسا هو چکا هے ـ
ایک طبع زاد کہانی کے واقعات کی اتفاقی مطابقت والی بات ہے جی ـ
اس کہانی میں لکھی گئی انجمن کو اپ پاکستان ایسوسی ایشن آف جاپان سمجھ لیں ـ
انهی دنوں یعنی اگست دو هزار میں هی میں نے ایک اور پوسٹ لکھی تهی جس میں که میں نے ایک کمینه سا خواب دیکھا تها
پاکستان خصوصی نیشن
اتفاق دیکهیں که ایگزیکٹلی ایسی هی ایک سائٹ جاپان میں ہے اور اس سائیٹ کی مہربانی سے پاکستان ایسوسی ایشن کے دو ٹکرے هو چکے هیں اور ان میں بیان بازی اور گالی گلوچ کے مقابلے هوتے رهتے هیں ـ

دو هفتے پہلے مجھے قیوم بھٹی صاحب کا پیغام ملا که جمعرات کو شام کا کھانا ہمارے ساتھ تناول فرمائیں
گنماں کین میں راجے ریاض ریسٹورینٹ میں کچھ دوست جمع هو رهے هیں آپ کے انے سے ذرھ محفل جم جائے گی
اس لیے همیں مایوس نه کریں اور ضرور آئیں
جب میں وهاں پہنچا تو معلوم هوا که پاکستان ایسوسی ایشن کا گنماں کے لوگوں کا اجلاس تها جس میں کچھ اہم فیصلے کرنے تهے ـ
میرا اس ایسوسی ایشن کے ساتھ کچھ تعلق نهیں هے
مگر اس کے ممبران سے تو تعلق ہے اور تعلق نبھانے هی پڑتے هیں
اجلاس کی شروعات میں تلاوت کے بعد
صدر صاحب کو دعوت دی گئی تو انہوں نے کچھ بیزاری سی سے کہا که کام وام کچھ نہیں هوا اس لیے میرے پاس کچھ کہنے کو نهی ہے آپ لوگ آپنی هی طرح سے اجلاس جاری رکهیں ـ
گنمان کین کے صدر صاحب کا نام تها سرفراز
اور میں نے محسوس کا که ان کو لوگ پسند بهی کرتے تهے ـ
لوگوںکے اصرار پر جن سرفراز اٹھا بهی تو اس نے پہلا سوال هی یه کیا که سب سے پہلے تو آپ سب لوگ یه بتائیں که آپ کون سی ایسوسی ایشن کے ساتھ لگنا چاهتے هیں
ان کی اس بات کی معونیت کو کسی نے بهی نه پایا اور ان کو آپنی تقریر جاری رکھنے کا کها
تو میں ي کھڑے هو کر کها که اس بندے کی بات کو بهی سمجهیں که کہـ کیا رها ہے ؟
انتشار کا شکار انجمن جو خود ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اپ لوگوں کو کیا نظم دے گی ؟
تو تجمل خان صاحب جن کا تعلق صوبه سرحد سے هے انهوں نے بڑے دکھ کے ساتھ یه گلا کیا که کسی بهی بندے نے جاپان میں هونے والی اس ایسوسی ایشن کی لڑائی میں دونوں فریقوں میں صلح کی کوشش نہیں کی ـ
تجمل خان صاحب کی یه بات بڑی اهم تهی اور اس میں آپنی قوم کی پھوٹ کا دکھ بهی شامل تها
اس دوران ایک اور خاں صاحب نے بهی جن کا نام مجھے معلوم نهیں ہے نے بهی کچھ اسی طرح کی بات کی تهی که
یارو جاپان میں لڑائی جھگڑا نه کرو که یهاں هم میں همارا کوئی بزرگ نهیں هے جو هماری صلح کروادے
جیسا ک پاکستان مین هوتا ہے که جوانوں کی اگر بد مذگی هو بهی جا'یے تو کوئی نه کوئی بزرگ دونوں کوڈانٹ کر یا کسی ایک کو سمجھا کر معاملے کو ٹھنڈا کر لیتا ہے ـ
میں نے تجمل صاحب کو بتایا که جہان تک مجھے علم ہے
رانا ابرار حسین جو که مسلم لیگ نون کا جاپان میں نائب صدر يے اس نے شهزاد علی بہلم کو اس بات بر تیار کرنے کی کوشش کی ہے که آپ لوگ کر لیں ـ
تو تجمل خان صاحب نے کہا که اکر رانا سنجیدگی سے صلح کی کوشش کرے تو وه یه کام کرسکتا ہے ـ
ان کے لہجے سے ایک بے یقینی سی جهلک رهی تهی ـ
مگر میں نے اتفاقاً اویاما اوکشن میں کچھ تصاویر بنا لی تهی جب رانا ابرار شہزاد بہلم کو صلح کے لیے کهز رها تها اور
شہزاد بہلم اپنی شکایات میں بهرا هوا تها اور غصے بھرے لہجے میں ان کا اظهار کررها تها ـ


مرزا خلیل بیگ بهی ساتھ کھڑا ہے

اس تصویر میں بهی آپ مرزا خلیل بیگ کو دیکھ سکتے هیں اور تھوڑا ہٹ کر جاوید بهی کھڑا ہے

کوشش تو میری بهی یہی ہے که ان لوگوں مین صلح هو جائے مگر زیادھ تر لوگ تماشه دیکھنا جاهتے هیں ـ