اتوار، 30 مارچ، 2008

انداز فکر

اچ کل جاپانی ین کا ریٹ ڈالر کے مقابلے میں کافی مہنگا هے ـ
تقریباً پچانوے ین کا ایک ڈالر هے ان دنوں ـ
اگر ین سے ڈالر خریدیں تو کافی سستا مل رها هے
عام طور پر ایک ڈالر اک سو بیس ین کا هوتا ہے
کبهی کبهی ایک سو پچاس کا بهی هوجاتا ہے ، میں نے اب تک جوسب سے مہنگا ریٹ دیکها هے ایک سو ستر ین کا ڈالر کا دیکها هے ـ
ان دنوں اگر کسی کے پاس دولت هو تو ڈال خرید کر دکھ لے تو اک مہینے ميں پندرھ پرسنٹ تک منافعے کا موقع ہے ـ
میں اپنے ایک جاننے والے جاپانی دولت مندسے کہا که تم کیوں نہیں ایک دو کروڑ ڈالر خرید لیتے ؟
لاکھو ڈالر کے منافع کی امید هے ـ
تو اس نے مجھ سے تفصیل کے ساتھ ڈالر کی خرید فروخت کا طریقه کار پوچھا ، جب اس کو ساری سمجھ اگئی تو بولا که یه تو صرف هندسوں کو حرکت دے کر پیسے بنانے والی بات هوئی ناں ؟
میں نے کہا ،هاں!ـ
تو اس نے کہا که مجھے اس طرح کے منافع سے نفرت ہے جس میں مال حرکت نه کرے ، مال کی خرید فروخت کو بات کرو تو سوچتے هیں ـ
ان دنوں هیوی ڈیوٹی کرینوں کی ایکسپورٹ مین مندی کا رجحان ہے اس لیے منڈی میں سستی مل جاتی هیں میں نے اس کو کہا که پھر لفٹر کرینیں خرید کر سٹاک کر لیتے هیں ـ
وه چونک بولا یعنی زخیرھ اندوزی؟؟
میں نے کہا هاں
تو اس نے کہا که اب کے بعد یه بات نه کرنا اگر میرے ابا جی کو پته چل گیا تو تم سے نفرت کرنے لگے گا اور تمہارا ہماری کمپنی میں آناجانا بند هو جائے گا ـ
میں اس فیملی کو جانتا هوں ، ان کا ردی کاغذ کا کاروبار ہے اور یه فیمل کافی سے زیادھ دولت مند ہے ـ
جاپان جہاں کی زمین دنیا کی مہنگی ترین زمین ہے اس ملک میں ان کی ایکڑوں میں پھلی فیکٹریاں هیں اور کتنے هی شہروں میں هیں ـ
میں نے پھر اس سے پوچها که آپ کی فیملی میں سود کے منافع اور زخیرھ اندوزی کے متعلق یه فلسفه آیا کہاں سے هے ؟؟
تو اس کا وه کوئی تسلی بخش جواب نه دے سکا مگر کہنے لگا که هماری فیملی کا یہی اصول ہے ـ
پهر میں نے اس ک بتایا که میں جس دین کو مانتا هوا اس میں سود کو حرام کیا گیا ہے اور زخیرھ اندوزی کی ممانعت ـ
میں نے اس کو یه بتا تو دیا مگر مجھے خود سے بهی شرم سی انے لگی که میں اس کو ان باتوں کی تجویز دے رها هوں جو که میرے هی دین میں منع هیں
اور بے دین جاپانی ایک دین (سسٹم)کا پابند ہے ـ
یارو اللّھ بڑی بے نیاز ذات ہے
پہلے خود هی کسی کو عقل دے دیتا ہے اچھے برے کو سمجھنے کے لیے اور پھر اس کو مال دولت سے بهی نواز دیتا ہے ـ
اور جس کو سزا دیتا ہے اس کو کملا سا کردیتا ہے ـ
پنجابی کا ایک محاورھ ہے
رب ناں مارے ڈانگاں
پر پُٹھی کر دے مت ـ
رب لاٹھی چارج نہیں کیا کرتا بندے کی عقل الٹ دیتا ہے ـ

سوموار، 24 مارچ، 2008

سیرت کانفرنس

سیرت نبوی کو اجاگر کرنے کے لیے ایک پروگرام رکھا تها جی
اسلامک سرکل اف جاپان والوں نے
ٹوکیو میں فونابوری هال میں ـ
هماری مسجد سے بهی کافی لوگ جارهے تهے جن میں مں بهی شامل تها ـ
بینر

اس میں چھ مقررین نے تقاریر کیں جن میں سے ایک کو عمره کا ٹکٹ ملنا تها
ان میں سے ایک افریقی مسلمان نے جاپانی زبان میں تقریر کی جو که بهت هی بہتریبن زبان میں تهی
جاپان مسلمان نے انگریزی میں تقریر کی اور باقی صاحبان نے اردو اور انگریزی میں تقاریرکیں ـ
مقررین
انڈیا سے تعلق رکھنے والے ان قریشی صاحب نے پہلا انعام جیتا هے
ان کی تقریر انگریزی میں تهی بولنے میں روانی تهی اور اجھے الفاظ کا انتخاب کیا گيا تها مگر ان کی اواز بڑی بے تاثت تهی مگر جج صاحبان پاکستانی تهے اور انگریزی سے بهی کافی متاثر لگتے تهے ـ
قریشی صاحب
ہماری مسجد سے ظهور بھائی نے بهی تقریر کی تھی اور چھٹے نمبر پر ائے تهے برحال انعام تو ان کو بهی ملا تها
اصل مین ظهور ابهی جوان ادمی ہے اور گراؤڈ کو دیکھ کر اس کا گلا خشک هو گیا تها
اس لیے اچهی پرفارمنس نہیں دیکها سكاـ
کچھ اس کے لہجے ميں پختون رنگ بهی جەلک رها تها ناں جی ـ
ظہور بهائی
فیض الدین بھائی بهی هماری هی مسجد سے هیں انہوں نے نعت رسول مقبول پڑهی تهی
فیض بھائی کرچی سے هیں مگر ان کا میکه گوجرانوالہ کا ہے
ا
فیض الدین
تقریری مقابله جیتنے والے قریشی صاحب کو جماعت کے امیر عشرت هاشمی صاحب اور پی آئی اے کے جاپان اور کوریا کے لیے کے مینجر صاحب انعام دے رهے هیں

انعام دیا جارها ہے
ارکان کا گروپ فوٹو
فرداً فرداً میں سب کے نام نہیں جانتا اس کے لیے معذرت
ارکان کی گروپ فوٹو

اتوار، 23 مارچ، 2008

نچ ملنگا

نیا پنگا پانا تو آپ نے بهی سنا هوگا مگر یہاں ميں نے ایک پرانا پنگا دیکها هے جی ـ
کل اویاما اوکشن میں عمران (عمران جاپان کی کین گنماں کے شہر تاتے بیاشی کی مسجد قبا کے حلقه ذید بن حارث کا ناظم هے )نے ذکر کیا تها اس ویڈیوکا ـ
نیا پنگا تو جب هو گا ناں جی که کوئی نیا کام هوتو
پرانا پنگا اس لیے هے که
یه روحانیت ہے
اسمانی کتابوں میں جتنا غیر اللّه (شخصیات) کی پرستش سے منع کیا گيا ہے اتنا کسی بهی کسی اور بات پر زور نہیں دیا گیا
مگر انسان بهی ایسا واہیات جانور ہے که اسی ایک بات میں بار بار غلطی کرجاتا ہے
جی یه قادری صاحب کی روحانیت هے
همارا ایک دوست ان کو پادری صاب بهی کها کرتا تها ـ
اس ویڈیو کے آخر پر حال پڑے ایک بندے کو لمبا لٹا کر
مولوی طاهر صاحب اس کو پھلانگتے هیں اور اس کو امن اتا ہے
یه جاهلیت ہے یا که میں هی پاگل هوگیا هوں
نچ ملنگا
کی خیال اے جی تہاڈا ؟
اصل وچ میں اس پوسٹ نوں پنجابی وچ لکھناں چاھندا ساں
پر
فیر میں سوچیا که سارے لوگ پنجابی نہین سمج سکدے
یارو اے مولوی بڑا ای ڈرامے باز اے
هور تے هور میرے آپنے خاندان دے کنے لوک اس دے پچھے لگ گئیے نے دسو یارو کی کریے ایس طرحاں دے بندیاں دا ؟؟
ایہو جیے بندے نوں انگریزی وچ کہندے نے
ایول جینئیس

میرا رب میرا گواھ رہو اور سب پڑهنے والے بهی که میں اپنی سی کوشش کر رها هوں اس بندے کے شرک اور غلط کاموں کی نشاندهی کی ـ

بدھ، 19 مارچ، 2008

گرگ باراں دیدھ

ملک صاحب بڑے سیانے بندے هیں جی
ان کی سیانف کی سب سے بڑی دلیل ہے ان کی دولت مندی ـ
بڑے بادشاھ گر اور ٹولے باز بهی هیں جی
جوانی میں بندوں کی اسمگلنگ میں بهی نام اور دولت کمائی
اور اب جوانی ڈهلنے پر ہے اس لیے دهارمک (مذهبی) بن گئے هیں ـ
اور نمازی ٹولے بنانے کی کوشش میں هیں اور پھر اس کے بعد کاروباری ٹولے بنیں گے ـ
لیکن کہتے ناں جی که بندھ مشاهدے کا غلام هوتا هے
اس لیے نمازی ٹولا بنانے میں تو کامیاب هو هی گئے هیں مگر کچھ باتوں میں جاپان کے ماحول کو ابهی سمجھ نہیں سکے هیں ـ
لیکن هیں بڑے عقلمند اس لیے سمجھ ضرور جائیں گے ـ
فجر کی نماز میں جاپان کی کسی بهی مسجد میں نمازی کم هی هوتے هیں
که صبح اٹھنا کافی مشکل هوتا هے ناں جی ـ
لیکن ملک صاحب نے ٹھاٹھ کے چند نمازی لوگ پرکھ کر ان کو صبح کی نماز ميں انے کی درخواست کرنے لگے
اور پھر تلقین
چند دن بعد غیر حاضر نمازی کو کھانا کھلوانے کی سزا کی کا شغل شروع کردیا ـ
اب هر روز فجر کی نماز میں کوئی نه کوئی غیر حاضر هو هی جاتا ہے
تو ملک صاحب چاهتے هیں که سب لوگ ان کے ساتھ چلیں که غیر حاضر نمازی کے گھر چلیں که ناشته کروائے
مگر سب لوگ جانے سے جان چھڑواتے هیں
کیوں که
جاپان میں رزق اتنا زیاده ہے که کوئی بهی کهانے کا لالچ نہیں کرتا بلکه لوگ اس بات کی خوشی محسوس کرتے هیں که اگر کوئی ان سے کچھ کها لے یا ان کی دعوت قبول کرلے ـ
لیکن ملک صاحب ابهی اس بات سے واقف نهیں هیں ـ
ملک صاحب کا جاپان سے تعلق تو بہت پرانا ہے
که اسی کی دهائی میں جاپان بندے بھیجا کرتے تهے
ملک صاحب کے چمچے کڑچھے ان بندوں کو وصول کرکے ان سے ٹریول چیک اور ٹکٹ لے کر ملک صاحب کو بهیج دیا کرتے تهے
جب جاپان کا ویزه هو گيا تو اس ویزے کے لیے ملک صاحب ملک ملک پھر کر جاپان کو بندے اسمگل کیا کرتے تهے اس سیاحت کے دنوں میں گاڑیوں کے کاروبار میں پڑکر کافی سے زیاده دولت کما چکے هیں ـ
ایجنٹ ملک صاحب ، کے گرد مجبور لوگ شکم کی آگ بچهانے کے لیے ان پر ڈپنڈ کرتے تهے
سالہاسال اسے هی لوگوں سے تعلق سے ملک صاحب کو یه مغالطه لگ گیا ہے که سارے هی بندے کھانے کے لیے آجاتے هیں
یا آگر کسی کو کهانا کھلانے کا کہا جائے تو اس کے لیے مشکل هو گي که کھانے میں خرچ کرنا پڑتا ہے ـ
لیکن
جاپان مختلف هے ـ
میں نے خود یورپ میں بھوک دیکھی ہے
گھر سے باهر کا کھانا افورڈ کرنا مشکل هوتا ہے ـ
کئی لوگ اپنے دوستوں سے ملنے سے کترا جاتے هیں که کهانا نه کھلوانا پڑے ،

نحی ان المنکر اور امربلمعروف
میں توازن هی اسلام ہے
صرف نیکی هی کی تلقین کیے جانے والے بهی زیاده تر ریاکار هوتے هیں اور بدی سے هی منع کیے جانے والے پھر طالبان کی طرح انتہا پسند کہلواتے هیں ـ
نیکی کی تلقین ایسی بهی نہیں هونی چاهیے که سننے والا بے چارھ شرمندھ هی هوجائے
اور بدی سے منع کرنا ایسا بهی نہیں هونا چائے که بندھ ضد پر اتر آئے ـ
نیکی کی تلقین اور بدی سے منع کرنے میں ایک توازن هونا چاهیے، بلکه اسلام تو هر بات میں توازن چاهتاهے
کچھ ہمارے مولوی بهی نیکیاں کمانے کے گر هی بتائے جاتے هیں حقوق العباد کا نہیں بتاتے ـ
میرے خیال میں اگر ایک بندھ کسی دن نماز سے غیر حاضر هو تو اس کو اس بات کا احساس دلانے کے لیے ایسا کرنا چاهیے که
باقی کے سب نمازی اس غیر حاضر سے باری باری تشویش کا اظہار کریں که جناب کی طبیت تو ٹھیک تهی ، یا کوئی مسئله تو نہیں بن گیا تها،
یا کسی بچے کی طبیت تو خراب نہیں تهی
اس بات کا دھیان رکھنا چاهیے که باجماعت نماز کے لیے انے والے ٹھاٹھ کے نمازی کی غیر حاضری کو اس طرح کا معامله نہیں بنا دینا چاهيے که شرم کے مارے بندھ جماعت هی چھوڑ دے ـ
بار بار تشویش کا اظهار اور ان کی کمی کو محسوس کرنے کا احساس دلانا هی ایک باجماعت نمازی کے لیے کافی ہے ناں که
تھڑے بازوں کی طرح بات بات پر ''پارٹی '' کھلانے کی دھر بنانا کوئی اجھی بات نہیں ہے ـ
باقی جی تسی وی سیانے او ، اسی تے کملے لوگ هاں جی ـ
جنہاں دے گھر دانے (اناج) انہاں دے کملے وی سیانے ـ

منگل، 11 مارچ، 2008

لسوڑے دی گٹک

پرانے محاورے بهی بڑی گہری بات کهـ جاتے هیں کیوں که یه گہرے مشاهدے کا نچوڑ هوتے هیں ـ
لیچیڑ بندے کے لیے لسوڑے کی گٹک (لسوڑے کے بیچ) کی مثال دتے هیں ـ
کیا کبهی کس کو لسوڑے کی گٹک کو جھٹکنے کا اتفاق هوا ہے ؟انگلیوں پر لگ جانے کے بعد ـ
بندھ پھاوا هوجاتا ہے اس کو جھٹکنے میں ، ایک انگل سے اترتی هے تو دوسری پر لگ جاتی هے دوسری سے الگ هو تو تیسری پر لگ جاتی هے اور اگر هاتھ کو جھٹک کر علیحده کریں تو کپڑوں پر کہیں چپک جاتی ہے اور کپڑوں سے علیحده کرنے میں پهر هاتھ لگائیں تو ، پھر اسی بات کو تکرار که اترتی هی نہیں ہے ـ
میں تو هاتھوں کو مٹی میں ڈال کر گندھ کر کے اس کو اتارا کرتا تها
که که لسوڑے کی '' لیس '' مٹی سے هی اترتی تهی ـ
اپنے مشرف صاحب بهی لسوڑے کی گٹک کی طرح چپک هی گئیے هیں که جان هی نہیں چهوڑ رهے پاکستان کی ـ
توں کی لسوڑے دی گٹک وانگوں چمبڑ ای گیاں ایں ـ

بی بی سی پر ان کا بیان آیا ہے که
’میں سبکدوش ہوجاؤں، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا
ڈنڈه پیر ہے وگڑیاں تیگڑیاں دا ـ
اب اس کا کیا علج کریں که ڈنڈے والے فوجی اس کی حمایت کر رہے هیں ـ
چوکیداروں نے گھر پر قبضه کیا هوا ہے اور اور گھر والے چوکیداروں كا منه دیكھ رہے هیں ـ


راولپنڈی میں دیئے گئے اس انٹرویو میں صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے کہا کہ ’مجھ پر کڑی سے کڑی تنقید کرنے والوں نے بھی اس امر سے اتفاق کیا ہے کہ حالیہ عام انتخابات آزادانہ اور منصفانہ منعقد ہوئے اور وہ اسی خیال کو تقویت دینا چاہتے ہیں
مشرف صاحب کا یه بیان بهی مجھے تو جهوٹ کا پلندھ لگتا ہے
کیوں که پاکستان کے یه الیکشن بهی شفاف نهیں تهے ـ لیکن دهاندلی کیوں که ''ق'' لیگ کے خلاف هوئی ہے اور ق لیگ کے مظالم سے لوگ تنگ تهے اس لیے کسی نے بهی اس دهاندلی کا ادراک نهیں کیا ہے ـ
غالباًدو هزار چار کی بات ہے که پیرس میں حاجی یوسف نے مجھے ایک دعوت میں ساتھ چلنے کا کها تها ، میں بهی فارغ تها اس کے ساتھ اس دعوت میں چلا گیا جو که کسی ایم پی اے کے اعزاز میں دی گئی تهی ـ
شیخ کے ریسٹورینٹ میں تهی یه دعوت اور زیاده تر گوجرانواله کے علاقے قلعه دیدار سنگھ کے لوگ تهے اس دعوت میں ، ان هوا یه که میري کرسی ان ایم پی اے خاغب کے سانے آگئی یا حاجی یوسف نے جان بوجھ کر رکهوائی تهی ـ
میں نے دیکها که ان سیاستدان صاحب کی هر بات پر لوگ دانت نکال نکال کر هنس رهے تهے ـ
بہرحال
میرا حلیه بهی عجیب تها که تین دن کی بڑهی هوئی شیو اور کام والے کپڑے جن کو '' کھنگی '' بهی لگی تهی ـ
میں ویسے بهی گفتگو میں حصه نہیں لینا چاهتا تها مگر جن ان صاحب نے سب کو اگاھ کرنے والے انداز میں بتایا که اب اگلی حکومت پیپلز پارٹی هی کی هو گي ـ
تو میرے منه سے نکل گیا که کیسے ؟؟
تو ان صاحب کا جواب تها که پاک فوج کا یه فیصله ہے که اگلی باری پیپلز پارٹی کو دی جائے ، نون لیگ کی حکومت کو ختم کرکے ان کو باری دے دی گئی ہے اب اصولی طور پر بهی هماری هی باری بنتی ہے یاد رہے که صاحب پیپلز پارٹی کے تهے ـ
اس بات پر مجھے کافی انسلٹ کا احساس هوا که میں ایک ایسے ملک کا باشندھ هوں جہاں کے سیاستدان فوج کے ماتحت چلتے هیں ـ
اور فوج اپنی آئینی مالکوں کی مالک بنی بیٹھی هے ـ
یہاں ایک لمبی بحث هوئی تهی اور ان صاحب نے ثابت کردیا تها که اگلی حکومت پپلز پارٹی کی هی هوگی ـ
اب جب میں ان الیکشن کے نتائیج دیکھتا هوں تو مجهے ان صاحب کی بات صحیع ثابت هوئی لگتی ہے ـ
مگر کیوں که حکومتی ٹولے کو هرانے والی دهاندلی هوئی ہے اس لیے عوام ایک دفعه پهر دهوکه کها گئے هیں ـ
گجراتی چوھدریوں کا آپنی هار مان لینا بهی اس بات کا ثبوت ہے که ان کو ڈاهڈے لوکوں نے بتادیا هوگا که اب '' کھپ '' نہیں ڈالنی ہے ـ
لو جی کشمیر سنکھ کی رهائی کے بدلے بهارت نے ایک پاکستان کو ایک لاش کا تحفه بجھوایا هے ـ
لو جی کرلو گل اپنے کمانڈو شاھ ، آپے شاھ صاحب تھلے لگو پالیسی میں ریکادڑ قائم کرنے کے چارے میں هیں اور انڈیا والے هیں که بے عزت هی کیے جارهے هیں ـ
ان صاحب نے اگر ملک پاکستان کی جان چھوڑ بهی دی تو کب چهوڑیں گے ؟ ان صاحب کا کیا نقصان ہے هے جی سارا ملک بهی تباھ هو جائے
پنجابی وچ کہندے نے
پنڈ نوں آگ لگی تے کتّی روڑی تے ـ
گاؤں گاؤں والوں گا ہے کتّی کو کیا کسی اور ملک چلی جائے گی ـ

جمعہ، 7 مارچ، 2008

بلاگ هسٹری

اب مجهے یاد نہیں که میں نے پہلی دفعه بلاگ کا لفظ کہاں سنا تها ـ
لیکن ہے یه اکیسویں صدی کے پہلے سالوں هی کی بات جب یه لفظ مجهے سنائی دیا یا کہیں پڑها تها ـ
انٹرنیٹ سے میرا تعارف هوا تها انیس سو پچانوے میں ـ
ان دنوں میں دنیا کی آوارھ گردی کیا کرتـا تها که جاپان ایا تها ننها جی کو ملنے که ایک دن جب ننها جی کام پر تهے که میں گهر پر ٹی وی دیکھ رها تها
جاپان کے قومی ٹیلی وژن این ایچ کے کے ایک چینل نمبر تین پر میں نے ایک پروگرام دیکها جس میں بڑی تفصیل کے ساتھ انٹرنیٹ کے متعلق بتایا جارها تها ـ
اس پروگرام میں میں نے پہلی دفعه انٹرنیٹ کا نام سنا تها
یه وه وقت تها جب کمپیوٹر نام کی چیز کے متعلق میں اتنا هی جانتا تها که امیر لوگوں کے استعمال کا ایک پرزه ہے جو که بہت اوپر کے لیول کے لوگوں کے کسی استعمال میں اتا هے ـ
کمپیوٹروں کو ایک دوسرے کے ساتھ کونکٹ کر سکنے کا بهی سنا تها
اس لیے مجهے ٹی وی پر اس پروگرام کو دیکھ کر اور سن کا یه اندازه هوا که کسی بندے نے بهت سے کمپیوٹروں کو ایک نیٹ ورک پر رکھ دیا ہے ، جس سے اب ان کمپوٹروں کی انفارمیشن دوسرے لوگ بهی جو اس نیٹ ورک سے منسلک هوں گے دیکھ سکیں گے اور انفارمیشن کو ایک دوسرے کے ساتھ شئیر بهی کر سکیں گے ـ
اسی نیٹ ورک پر فیکس کی طرح تحریری پیغامات کی ترسیل بهی ممکن هو گی جس کو الیکٹریک میل یعنی ای میل کها جائے گا ـ
یه تها جی میرا پہلا ایمپریشن انٹر نیٹ کے متعلق اور یهی تهیں ٹوٹل معلومات ـ
اس کے کچھ ماھ بعد جنوبی کوریا میں ایک جاپانی دوست '' کو تهاکے'' کے گهر پر کمپیوٹر کو چلتے هوئے دیکها اور یہیں پر پہلی دفعه انٹر نیٹ چلتے هوئے بهی دیکها تها ـ
اس وقت تک انٹر نیٹ براؤزر صرف نیٹ سکیپ هی هوا کرتا تها یا شائد مجهے هی علم نہیں تها ـ
بہرحال میں نے انٹر نیٹ ایکسپرولر بہت بعد میں دیکها تها ـ
چهیانوے میں کوریا میں هی ایک دفعه کوتهاکے نے کہا که یا ر تم ای میل کیوں نہیں بنا لیتے ؟
تم هر وقت ملکو ملک پهرتے رهتے هو تم سے رابطه کرنا مشکل هوجاتا ہے
اگر تمهاری ای میل هو کي تو رابطه کرنا اسان هو جائےگا
اس وقت تک میں سمجهتا تها که ای میل بنانے کے لیے بهی کوئی ماهانه ادائیگی کرنا پڑتی هو گی ، اس لیے میں نے کوتهاکے سے کہا که یار جی میں ماهانه ادائیگی نہیں کرنا چاهتا کیوں که میرا کوئی کاروبار تو ہے نہیں اس لیے پته نهیں که کب میں ادائیگی نه کرسکوں اور میل بند هو جائے ـ
تو کو تهاکے نے بتایا که ای میل مفت میں بن جاتی ہے صرف اس کو دیکهنے کے پیسے لگتے هیں وه بهی جب تم کسی انٹر نیٹ کافے پر دیکهو تو ورنه کسی دوست کے گهر پر مفت میں دیکهی جاسکتی هے ـ
انیس سو چهیانوے میں میں نے ای میل بنائی تهی جس کا ایڈریس تها
allha@hotmail.com
میں یه ایڈریس دوهزار ایک تک استعمال کرتا رها هوں ـ
پهر اپنی مجبوری کی وجه سے تیس مہینے تک اس اکؤنٹ کو نه کهول سکنے کی وجه سے یه اکاؤنٹ ختم هوگيا ـ
اسی دوران (آپنی آوارھ گردی کے دنوں)کراچی میں ایک بندے سے ملاقات هوئی جس نے مجهے کمپیوٹر کے پرزه جات کی اسمگلنگ کا آئیڈیا دیا تها ـ
ميں اسمگلنگ کی جرأت تو نه کرسکا مگر هارڈوئیرز کے نام اور کام کے متعلق معلومات اکٹھی کرنا شروع کردیں
اس بات نے مجهے کمپیوٹر کی ساخت کو سمجھنے کا موقع فراهم کیا ـ
سنگا پور جنوبی کوریا اور جاپان کی الیکٹرونکس کی مارکیٹوں میں میں نے اتنی آوارھ گردی کی ہے که بہت سے دوکان دار مجهے اب بهی کتنے سالوں بعد بهی وهاں جاؤں تو پہچان لیتے هیں ـ

انیس سو ستانوے میں میں نے ایک هوم پیج بهی بنایا تها ایک فری هوسٹ پر یه هوسٹ بهی ختم هوگيا اور اکاؤنٹ بهی ـ
اس هوم پیج کا ایڈریس تها
http://allha.goplay.com
سن ننانوے میں میں نے اینٹر نیٹ پر دوکان بنانے کا پروگرام بنایا اور اس کے لیے دومین نیم بهی لیا مگر تکنیکی صلاحیت کی کمی کی وجه سے یه بیل منڈھے نه چڑھ سکی ـ
میں نے اپنا پہلا کمپیوٹر خریدا تها فروری دوهزار میں ـ
اور پہلا میکن توش کمپیوٹر خریدا تها اپریل دوهزار میں ـ
آئی میک نام کے اس کمپیوٹر میں ڈی وی ڈی پلئیر لگا تها
یه میرا پہلا ڈی وی ڈی پلئیر بهی تها ـ
دو هزار ایک کے اخری دنوں سے دوهزار تین کے وسط تک حالات کچھ اسطرح کے رہے که میں انٹر نیٹ تک رسائی نه کرسکا ـ
دو هزار تین میرے پاس ایپل کمپیوٹر کی میکن توش پاور بک تهی
ایڈونس ترین اپریٹنگ سسٹم اور طاقتور پروسیسر که مجهے اس کے استعمال کے لیے بهی تربیت کی ضرورت تهی ـ
ان دنوں میں پیرس کے حالا ت سے دل برداشته هوکر سپین کے شهر بارسلونا منتقل هوگیا تها
بارسلونا میں پرانے شهر کے وسط میں ایک گلی ہے ری اے ریتا ـ
اس گلی ری اے ریتا کے مکان نمبر پانچ میں میري ملاقات کچھ ایسے لوگوں سے هوئی که میں نے تکنیکی طور پر ان سے بہت کچھ سیکها ـ
غار نما یه تاریک سا مکان جس کا لوہے کا دروازه عموماً بند رهتا ہے
دروازے کے ساتھ هی ایک شٹر بهی ہے جو کبهی کبهی کهلا هوتا ہے جب کا مطلب ہے که کوئی اندر ہے اور یه سارا دن اندر کا کرے گا ورنه شارٹ ٹائم کے لیے آنے والے شٹر کهولنے کی تکلیف نہیں کرتے ـ
جی یه هے ری اے ریتا نیٹ
http://riereta.net
اندر داخل هوں تو کمپوٹر مشینوں اور میوزک مشینوں کا ایک سلسله هے یہاں سے انٹر نیٹ ریڈیوں
ری اے ریتا ریڈیو چلایا جاتا تها
اور ان دنوں سٹریم پر کام کرنے والے محقق یہاں جمع هوتے تهے ـ
ری اے ریتا پر جب کبهی موقع ملا میں تفصیل سے لکهنے کی کوشش کروں گا ـ
کیونکه ری اے ریتا آپنے اندر ایک جہاں ہے اور یہاں ملنے والے کردار بهی اپنی اپنی جگه ایک انجمن ـ
یہیں میں نے اردو کے انسائکلوپیڈیا پر لکهنا شروع کیا تها
اور اس سے پہلے میں اپنا هوم پیج بنا چکا تها جو که ری اے ریتا نیٹ کے سرور پر هی ہے
http://khawar.riereta.net
یہیں میں نے ڈریم وویور نام کی اپلیکیشن کو چلانا سیکها
فلیش کی فائیلوں پر کام سیکها ـ
حتی که میک پر اردو یا عربی کیسے لکهی جا سکتی هے یه بهی میں نے یہیں سیکها تها ـ
دو هزار چار میں گوگل پر اردو میں سرچ ممکن هو چکی تهی
اس لیے اس سرچ کے ذریعے میں کچھ اور بلاگروں کے بلاگ تک بهی پہنچا تها
جس میں سے ایک تها دانیال اور دوسرا اردو کے پہلے بلاگ کے دعوے دار ایک صاحب تهے بهلا سا نام تها ان صاحب کا جو اب مجهے یاد نہیں رها ـ
کچھ لکهنے کا تو سوچتے رهتے تهے مگر لکهنے کا پلیٹ فارم ملا
بلاگر ڈاٹ کم
جب میں نے لکهنا شروع کیا تها تو اردو کو نیٹ پر ٹیکسٹ کو صورت لکهنا تو مشکل تها هی پڑهنا بهی مشکل تها ،ایسے میں آپنی تحاریر کے لیے کسی قاری کے هونے کے هونے کی تو امید هی نہیں تهی ـ
لیکن میں نے کہیں پڑها تها که تاریخ مرتب کرنے کا طریقه یه ہے که اس دور کی میسرتحاریر کو دیکھ کر اس دور کے حالات کا اندازه لگایا جاتا ہے اور اس کو تاریخ کہتے هیں ـ
اس لیے میں بهی یه سوچا کرتا تها که هر دور میں تاریخ کو جن تحاریر کی بنیاد پر لکها گیا تو اس دور کے فاتح لوگوں نے لکهوائی تهیں یا ان ظالم اور غاظب لوگوں کی خوشامد کے لیے لکهی گئیں تهی ـ
کسی بهی دور کے عام سے لوگوں کی تحاریر کہیں نہیں ملتی هیں
تو کیوں نه اب جب کے اکیسویں صدی میں یه ممکن ہے اور مجهے میسر بهی تو میں جو که ایک عام سا بنده هوں آپنے احساسات کو لکھ دوں ـ
میرے آپني تحاریر مین اپنے کمہار هونے کا بار بار ذکر اور آپنے تعلیم نه حاصل کرسکنے کا باربار لکھنا بهی اس بات کو ثبوت کے طور پر چھوڑنا ہے که یه واقعی ایک عام سے بندے کی تحاریر تهیں جو که حادثاتی طور پر اپنے باتوں کو تحریر کے قابل هوگیا تها ـ
آپ اج بهی اس بات کا اندازه لگا سکتے هیں که لکهاری کتنے غیر جانبدار هو کرلکھتے هیں
گجرات کے چوھدریوں کے مظالم پر ان کے دور حکومت میں کسی نے بهی نهیں لکها ، اب ان کے هارنے پر شرماتے شرماتے کچھ باتیں لکھنے والے هوں بهی تو کیا یہی جرنلزم ہے؟؟
حکمرانوں کی خامیوں اور حکومتی ملازمین کی کوتاهیوں پر گلا پهاڑ کر للکارا مار کر لوگوں کو بتانے کا نام ہے
جرنلزم!!ـ
دو هزار چار میں جب میں نے بلاگ سپاٹ پر بلاگ بنایا تو دور دور تک میرے ذہن میں خیال نہیں تها که کوئی اس کوپڑھے گا بهی ، میرے خیال میں تها که پانچ سے سات سال کے بعد کچھ لوگ اس کو دیکهے کی زحمت گواره کریں ـ
ایک تو اردو کو کمپیوٹر پر پڑھنا مشکل ہے اور کچھ همارے لوگ بهی احساس کمتری کے مارے هیں ان کو اپنی زبان ہمیشه سي کمتر هی لگتی رهی ہے
پہلے جب تهوڑا پیسا آتا ہو تو پنجابی سے جان چھڑاتے هیں اور جب کچھ اور پیسه آ جائے تو اردو بهی دیسی دیسی سے لگنے لگتی هے ـ
ولایتی زبان ولایتی مشینین ، ولاتی لوگ ، اور ولایتی غلام حکومت ـ
اس لیے میں اردو کی انٹر نیٹ کی ترقی سے کافی مایوس تها
لیکن پچهلے سالوں میں اردو کی ترقی کے لیے جوان لڑکوں نے کافی کام کیا ہے
ان میں سے زیاده تر اردو محفل کے ممبران هیں
میں ان کے نام نہیں لکهنا چاهتا که اگر کسی کا نام ره جائے تو اس کو دکھ نه هو
مگر اردو محفل پر جانے والے لوگ بهی جانتےهیں اور جو نہیں جانتے ان میں سے بهی کافی لوگوں کو ان میں سے کچھ نام معلوم هیں ـ
اردو کی ترقی کے لیے کام کرنے والوں کی مہربانی سے یه ممکن هوا که میں میری توقع سے پہلے هی ایک بلاگر کے طور پر پڑها جانے لگا
لیکن یقین کریں که اب بهی اپنے بلاگ لکھنے سے زیاده اپنے وکی پیڈیا سے تعلق هونے پر فخر ہے ـ
وکی پر کام کرنے والے ثاقب سعود کے مشورے پر هی میں نے اردو کے سب رنگ بنایا
http://khawar.riereta.net/urdu
مگر اس میں ایک خامی ہے که یه کھلنے میں دیر لگاتا ہے
شائد که کبهی میں تکنیکی طور پر اس کو ٹھیک کرنے کے قابل هوجاؤں ـ
اس وقت اردو میں بلاگ لکھنے والے زیاده تر بلاگر میرے دیکھتے هی بنے هیں ـ
اور ان میں سے زیاده تر کا لکھنے کا معیار بہت اچها هے
اتنا اچها که یه کسر نفسی نہیں ہے که میں اپنی تحاریر کو غیر معیاری پاتا هوں ان کے سامنے ـ
نئے لکھنے والوں کا معیار دیکھ کر میں اردو کے مستقبل کے متعلق بہت پُر امید هوں ـ
هر بندے کا اپنا آپنا لکھنے کا انداز بهی هوتا ہے اور نقطه نظر بهی ، جیسے که میرا پاکستان والے افضل صاحب سیاسی تجزیے کرنے میں ماهر هیں تو اجمل صاحب معاشرتی کجیوں پر لکھتے هیں مگر جب جب ان کی عمر بڑهتی جا رهی ہے کچھ زیاده هی مذهبی هوتے جارہے هیں
بلکه جذباتی مذہبی
بدتمیز صاحب کو پاکستان کی پس ماندگی کا افوسوس ہے اس لیے
ترقی یافته قوموں کی باتیں لوگوں کو بتانے کی کوشش میں پھاوے هوئے جارہے هیں ـ
قدیر احمد رانا بچوں کی طرح روٹھتا رهتا هے اور چهوڑجانے کی دهمکیاں دیتا رهتا ہے
بس بچوں کی طرح لوٹنیاں لگانے کی کسر ره جاتی هے ـ
شیعب صفدر صاحب بهی پاک مقیم وکیل هیں
پاک سیاست کو پاک کرنے کی کوشش میں لگے رهتے هیں
محب علوی صاحب ایک بلاگر بهی هیں اب انہوں نے وکی پیڈیا پر بهی لکهنا شروع کیا ہے
ایک بہت هی تعمیری کام کی طرف ایک باصلاحیت بندے کا قدم ـ
منیر احمد منیر صاحب بهی ایک پرانے لکھنے والے هیں ان کی غالب کو سرائیکی میں پیروڈی والی نظمیں تو بهت هی اچهی تهیں ـ
باقی بلاگروں کے متعلق بهی تاثرات بهر کبهی سہی ـ
باقی فیر سہی

بدھ، 5 مارچ، 2008

کیویں گزاریے زندگی نوں

تهوڑا عرصه پہلے میرا پاکستان والے افضل صاحب نے بهی اس مسئلے کو اٹھایا تها
اور اب میں نے کسی اور سائیٹ پر بهی دیکها ہے که کسی بلاگر کے لکهے پر کی گئی کومنٹس کچھ واہیات سی هوگئی تهیں که کچھ اور مسئله تها ـ
اس سائیٹ کے کرتا دهرتاؤں نے کومنٹ لکھنے والوں کو کسی ضابطے کا پابند بنانے کی کوشش کی ہے ـ
مجھے اس معاملے میں ضابطه اخلاق بنانے کی کوشش کرنے والوں کی تو حمایت کروں گا مگر اپنی قوم کی اخلاقی حالت پر افسوس اتا ہے که کسی صابطے پر اتی هی نہیں ہے ـ

استاد دامن نے لکھا تها
خون جگر دا رکھ کے تلی اتے
دهرتی پوچدے پوچدے ٹر چلے
ایتھے کیویں گذاریے زندگی نوں
ایھو سوچدےسوچدے ٹر چلے
ساری قوم ضابطه ہائے اخلاق هی بنانے میں لگي ہے ـ کوئی شلوار اونچی کروا رها ہو نماز میں اور کوئی داڑهی کے سائیز پر بحث کر رها ہے
اور اب یه بلاگنگ اور اس کی اخلاقیات ـ ـ ـ ـ
سن دو ہزار چار سے لکھ رها هوں بلاگ اردو میں ـ
جب میں نے اردو میں لکھنا شروع کیا تها تو انگلیوں پر گنے جاسکتے تهے اردو کے بلاگر ـ
اردو کو ٹیکسٹ میں لکھنے والی سائیٹ بی بی سی کے بعد اردو کاانسائکلوپیڈیا وکی پیڈیا تها
اور یا پهر چند لوگ بلاگ لکھتے تهے
ایک دانیال نام کا لڑکا تها
ایک شعیب صاحب تهے ایک دبئی والے اور ایک دوسرے ،
ایک اردو کے پہلے بلاگ کے دعوے والے هندوستانی صاحب تهے
جب میں نے لکھنا شروع کیا تها تو میرے خیال میں یه تها که کون پڑهے گا همارا لکها تها ابهی کمپیوٹر پر اردو پڑهنا بهی مشکل هے ـ
هاں کبهی مستقبل میں جب تکنیک ترقی کرجائے گی تو شائد کوئی ہم کو بهی پڑهنے لگے
دوهزار چار اور پانچ کے سالوں میں غالباً صرف دو کومنٹس تهیں ـ
ایک رومن لفظوں میں اور دوسری اردو میں تهی
جو که پہلی اردو کومنٹ تهی میرے بلاگ پر اجمل صاحب کی جو که اب خود بهی ایک جانے پہچانے بلاگر هیں
پهر ایک بڑا گلا هوا کرتا تها میرے لکھے میں که ڈبے بن جایا کرتے تهے میری تحریر میں ـ
اس کی وجه یه تهی که میں کمپیوٹر کے ایڈوانس ترین اپریٹنگ سسٹم میکنتوش پر لکها کرتا تها اور پڑهنےوالے مائیکروسوفٹ کا اپریٹنگ سسٹم استعمال کرنے والے تهے
جو که اب بهی میکنتوش سے پیچھے هے
لیکن چار سال پہلے کی نسبت بہتر ہے که میرا چار سال پہلے لکها هوا اب بغیر ڈبوں کے مائیکرو سوفٹ کے آپریٹنگ سسٹم پر بهی پڑها جاسکتا ہے
اب بهی جب میں لکھ رها هوں تو میرے خیال میں ہے که یه تحاریر بهی مستقبل کے لیے هیں
جب اردو سرچ انجن عام هوں کے جب اردو میں لکها جاسکے گا ہر کمپیوٹر پر
تب هی مکن هو گا که میری قوم کے لوگ میری میری باتیں پڑھ سکیں گے ـ

اپنے لکھے کی وجه سے دھمکیوں کے فون بهی سنے هیں اور گالیاں بهی ـ
جب اپ لکهیں گے تو ردعمل تو هوگا ناں جی؟
میاں محمد بخشنے فرمایا تها
خاصاں دی گل عاماں اگے تے نہیں مناسب کرنی
دوده دی کهیر بنا محمد ، تے کتیاں اگے رکهنی ـ

یا پهر یه بهی هوسکتا ہے که میں هی عام هوں اور خاصوں کو میری بات کی سمجھ نه لگ رهی هو
بہت سی باتیں هوسکتا ہے که مستقل کے قاری کو هی سمجھ لگیں
یا کم از کم یه تو هوگا ناں که مستقبل کا قاری یه جان سکے گا که اکیسویں صدی کے شروع میں اردو کے بلاگر کیا احساسات رکهتے تهے ـ

اتوار، 2 مارچ، 2008

احادیث کی تشریح

احادثت کی ازسر نو تشریح کے نام پر بی بی سی پر ایک خبر شائع هوئی هے
اور یا پھر اردو کے ایک بلاگر راشد کامران صاحب نے اس موضوع پر لکھا ہے
لیکن میں اس کو احادیث کی از سر نو تشریع کی بجائے احادیث کے نام پر لکھی گئی کتابوں کی از سر نو تشریع کا نام دوں گا ـ
میں نے دیکها ہے که پاکستان میں اهل حدیث کہلوانے والے لوگ قران کے ساتھ ساتھ سنت اور حدیث پر بهی بہت زور دیتے هیں ـ
لیکن حقیقت میں ان لوگوں کے نزدیک احادیث صرف وهی هیں جو ان کے گمان میں احادیث کے نام پر لکهی گئی کتابوں میں ہیں
اور اس کے بعد سنت کو بهی احادیث کے ساتھ کچھ اس طرح مکس اپ کر دیتے هیں که قران کا علم رکهنے والا یه سوچنے پر مجبور هوجاتا ہے که اب ان کو سمجهانے کی ضرورت نہیں ہے
میرے نزدیک حدیث وه ہے که جو بات رسول نے اللّه کے پیغام کے نام پر بتائی
اور سنت وه هے جو اللّه کے رسول نے آپنی زندگی میں کر کے دیکهائیں ـ
جس نےحديث کی کتاب پڑھی ہوگی وہ خود يہ بتا سکتا ہے کہ نبی کے نام سے ایسی جھوٹی اور من گھڑت حديثيں منسوب کی ھوئی ہيں کہ پڑھ کر شرم آتی ہے
ان کتابوں میں روایات کے نام پر الله کے رسول سے ایسے ایسے بیانات دلوائے گئے هیں که مجهے تو یہی توهین رسالت لگتے هیں ـ
مسلمانوں کی ستم ظريفی يہ رہی ہے کہ ہم نے قرآن کو صرف تعويذوں والي کتاب سمجھ رکھا ہے اور مسائل کے حل کے ليے من گھڑت احاديث نامی کتابوں کا سہارہ ليتے ہیں۔
جو لوگ احادیث کے نام پر لکھی گئی کتابوں پر اعتراظ کو مسلمانوں کے خلاف يہودی سازش سمجھتے ہیں ميرا ان سے سوال ہے کہ کيا آپ نے احاديث کی چند ايک کتابوں کا بغور مطالعہ کيا ہے؟
بعض احاديث پڑھ کر آپ کا دماغ چکرا جائے گا اور آگر اپ اهل فکر هیں تو آپ پریشان هو جائیں گے کيا يہ کتابیں مسلمانوں نے اقوال رسول کے نام پرلکھی ہیں يا پھر کسی اور نے؟

اصل میں بات یه ہے که ہم پاکستان یا برصغیر کے مسلمانوںنے اسلام بهی ایمپورٹ کیا ہے
اور ہماری قومی عادت ہے که کوئی چیز ایمپورٹ کر گے بهی اس کی افٹر سیل سروس کے لیے پرزه جات بهی اسی ملک سے یا کسی اور ملک سے منگوانے کو ترجیع دیتے هیں بلکه باهر سے هی منگواتے هیں ـ
گاڑیان جاپان سے ایمپورٹ کر لیں اور پرزھ جات چین سے
ٹرانسسٹر ولائت سے آگیا اور پرزه جات سنگا پور سے
اسلام مکے مدینے سے منگوا لیا ور افٹر سیل کے لیے
سیّد لوگ منگوالیے ایران افغان ستان سے ـ
سلطان سلیمان کی بنائی سلطنت عثمانیه کے عروج کے دنوں میں ہمارا اسلام ترکی سے ٹیونگ کیا جاتا تها
اهل سنت کے نام سے بنا فرقه بنا كر تركی کے علماء کے تربیت یافته مقامی علماء هواکرتے تهے
پهر اب
ال سعود کے سعودی عرب سے ٹیونگ هوتا ہے جی همارا اسلام اور اهل حدیث کہلواتے هیں مقامی علماء ـ
سعودی عرب کی ایک هی پروڈکٹ ہے کھجور ، اور یه علماء کھجور کی تعریف میں احادیث سناسنا کر پھاوے هوئے جاتے هیں ـ
آج بهی برصغیر کے درودراز مقامات پر دیهاتی مولوی خطبے میں ترکی خلیفے کی درازی عمر کی دعائیں کرتے هیں ـ
جس خلافت کو ختم هوئے بهی زمانے هوئے ـ
هماراھ معاشره ہے که جہاں اج بهی لسانی بنيادوں پر مسجدوں کے جھگڑے ہیں، جہاں چندے کی تقسيم پر گروہ باہم برسر پيکار ہیں، مسجدوں کو عدالتوں ميں گھسيٹا جارہا ہے، جہاں پيچيدہ صورتحال ميں ايک ہی مسجد ميں دو دو نمازيں پڑھی جاتی ہیں، جہاں اسلام کے پيروکار بانی اسلام الله کے رسول کے قول فعل کے تضاد والی کتابوں کو احادیث کی کتابیں کہتے هیں
جہاں اسلام کے پيروکار، تبليغی جماعتيں، مذہبی سياسی افراد اور ملا لوگ اپنے تعصبات، سياسی رنجشوں اور لسانی جھگڑوں کا مظاہرہ کرتے ہوں،
جہاں ماحول کی آلودگی بارے پريشانی تو ہے ليکن ’صوتی آلودگي‘ پر توجہ هی نہ دی جارہی ہو وہاں پر ترکی حکومت کا يہ اقدام ، برصغیر کے مسلمانوں کےلیے شائد ٹیونگ ثابت هو ـ
مجھے يقين ہے کہ اگر غير جانبدارانہ اور بے لاگ تشريحات ہونگي
تو
اسلام کی حقانيت مزيد واضح ہو جائے گي۔ دوست ذہن ميں رکھیں کہ صرف تشريح کرنے کی بات ہو رہی ہے اور وہ بھی بذريعہ علما،
اور آپ گے پاس هر گھر میں قران تو ہے هی آپ اس کا ترجمه پڑھ کر اس کو کسوٹی بنا کر ترکی کی تشریحات کو پرکھ سکتے هیں که صحیع هیں که غلط ؟
اس کے بعد بھی ہر کسی کو يہ حق ہوگا کہ وہ ان تشريحات کو قبول کرتا ہے يا نہیں۔ يہ تشريحات ترکی کے علما کی رائے ہوگی، اور یه تشریحات اگر قرآن سے میل نہیں کهاتی هوں گی تو ہم سب کے ليے حجت نہيں ہوں گی
هاں تفرقه پسند مولوی کی بات دوسری ہے که اس بات پر بهی اچهل اچهل کر باتیں کرے گا اور پهر انهی کتابوں سے حوالے نکال نکال کر لوگوں کو لڑائے گا ـ