ہفتہ، 23 فروری، 2008

آپے شاھ

پنجابی میں کہتے هیں
اک نال نه کھڑے
دوجا کچھڑ چڑهے
اردو میں کہیں گے
مان نه مان میں تیرا مہمان
یه مشرف صاحب بهی کچھ سپیشل سی هی چيز هیں
پہلے یه فرمایا کرتے تهے که پاکستان کی خاموش اکثریت ان کو پسند کرتی ہے
جو که ایک مغالطه تها
اب جب که الیکشن میں جمہور نے ان کو ائینه دیکهایا ہے تو ان کو یقین هی نہیں آرها یا که واقعی مشرف صاحب ایکسٹرا بیوقوف هیں ؟؟
اس شخص کے جهوٹوں اور کہـ مکرنیوں کی ایک فہرست ہے
جب تاریخ دان تاریخ لکهے گا تو ان صاحب کا ایسا حلیه لوگوں کو دیکها ئے گا که
یارو گڑتھو چوہڑا بهی اس جهوٹے سید سے اعلی ظرف نکلے گا ـ
آب ایک بنده مانے هی ناں که اس کی بے عزتی هوئی ہے تو اس کو کون بے عزت کر سکتا ہے
ایک تمثیل ہے که
مشرف صاحب جیسے بندے کو لوگوں نے کسی بات پر سزا دی که
اس کو منه کالا کرکے گدهے پر بیٹھا کر شہر میں گمایا جائے اور پهر لتر لگائے جائیں ـ
مشرف ٹائیپ یه بندھ جب سزا بهگت کر فارغ هوا تو کہیں بیٹھا تها که کسی نے کہا
اور سناہے تمہیں لتر لگے هیں ؟؟
مشرف ٹائیپ کہتا ہے
نہیں اور لتر نہیں سی بس چهوٹی چهوٹی جوتیاں تهیں ـ
ایک نے کہا تمہیں تو گدہے پر بهی بیٹھایاتهاناں؟؟
مشرف ٹائیپ کہتا ہے
اؤے نہیں او کھوتا نہیں سی بس چهوٹی سی کهوتی تهی میرے تو پاؤں بهی نیچے لگ رهے تهے ـ
تماہارے تو گلے میں جوتوں کا هار بهی تها کسی نے لقمه دیا
تو
مشرف ٹائیپ کہتا ہے
اوئے پهر کیا ہے اس میں دو تو میری آپنی جوتیاں تهیں ـ
اور جو تمہارا منه کالا کیا گیا تها؟؟
مشرف ٹائیپ کہتا ہے
کتهے ؟ ان کو تو کالک لگانی هی نہیں آتی تهی میرا منه کتنی هی جگه سے کالاهوا هی نہیں تها ـ پانی کے دو هی چهینٹوں سے صاف هوگیا تها ـ
اب یارو اس قسم کے بندے کا کیا کریں ؟؟
ایسے بندے کو کون ہے جو بے عزت کر سکے ؟؟
مشرف شاھ صاحب شاھ بهی هیں
اب معلوم نہیں که کب شاھ بنے تهے ہمیں تو بنے بنائے هی مل گئے هیں ـ
ایسے هی لوگوں کو آپے شاھ کہتے هیں
یعنی بقلم خود
اپنے آپ
آپے شاھ
جاپان میں بڑے شاھ هوتے هیں
ہر چلنے والي چیز کو شاھ کہتے هں جاپانی لوگ
چلنے والی عورت بہرحال شاھ نہیں کہلواتی ـ
مشرف شاھ صاحب کو امریکه نے کسی چلنے والي عورت هی کی طرح چلایا هوا ہے
اور آپے شاھ هیں که چلے هی جائے جا رهے هیں ـ
جاپانی میں سائکل کو جیدین شاھ کہتے هیں
اور ٹرین کو
دین شاھ
گند اٹھانے والے ٹرک کو پھکا شاھ ـ
اور میں امریکه کے لیے چلنے والے شرفو شاھ کو آپے شاھ کا خطاب دیتا هوں ـ
کسی چالو عورت کو جاتا دیکھ کر تھڑے باز کہتے هیں
اے چلدی اے اوئے
اور مشرف صاحب بهی چلدے نے پر انہانوں صرف گورے هی چلاسکدے نے
بہتےپیسے والوں کام ہے جی ـ

بدھ، 20 فروری، 2008

جبر اور جمہور

ایک عجیب سا گھٹن کا احساس تها که خوف کا موهوم سا حصار ؟
آپنی کم زوری کے اندیشے سے ایک دھڑکا سا تها
پچهلے آٹھ سال سے چلنے والی حکومت کے پردهانوں کی بڑهی هوئی طاقت کی دهشت سےـ
دهشت گردی کہتے هیں کسی کے کہیں دهشت کی فضاقائم کردینے کو ـ
ایک بنده کہیں بهیڑ ميں اتا ہے اور کلاشن کوف سے هوائی فائرنگ کرکے لوگوں کو دهشت زده کردیتا ہے
یه هوا دهشت گرد
اور دوسرا بنده بم دهماکے سے یا فائرنگ کرکے کچھ لوگوں کو قتل کردیتا ہے یه هوئی
غارت گردی ـ
فوج کی پشت پناهی سے پنجاب کے چوھدریوں اور مشرف نے اسلامی جمہوریه پاکستان میں دهشت گردی اور غارت گردی کی ایک ایسی فضا قائم کردی تهی که میرا یه احساس تها یا که میں غلطی پر هوں ؟
یارو اس الیکشن میں نه تو پیپلز پارٹی کے جیتنے کی خوشی ہے اور نه هی ن لیگ کے جیتنے کی ـ
مگر چوھدری وجاہت کے هارنے کی بہت خوشی هوئی ہے ـ
پاکستان میں آپ نے کسی بهی لکھنے والے کو چوهدریوں کی کسی غلطی پر لکھتے هوئے نہیں پڑها هوگا
لیکن کیا یه خاندان غلطیوں سے پاک ہے ؟؟
بس سارے بزدل هیں ناں اس لیے چوهدریوں کو چهیڑ کر لتر کهانے هیں
میں بهی ایک بزدل هوں
شیخ رشید آپنی حماقت میں مارا گیا حالانکه شیخ آپنے حلقے کی ایک مقبول اور عوامی شخصیت تها
باقی مولویوں نے ریاکاری کے وه ریکارڈ قائم کیے هیں که لوگ ریاکاری کا لفظ هی بهول گئے هیں ـ
مشرف صاحب کے نیچ هونے میں تو کوئی شک هی نهیں ہے
که ان کے غیر قانونی اقدام ، ان کی کہـ مکرنیاں ، ان کی دهٹائی
مگر یارو اب اس الیکشن کے بعد ان کے صدارت سے مستعفی نه هونے کا بیان پڑھ کر اور بهی یقین هوگيا ہےکه یه بندھ ایکسٹرا چوّل (کمینه) ہے
پنجابی میں جوٹھ کہتے هیں جس کے لیے اردو میں لفظ نهیں ہے
اس بندے کو لتر لگنے چاهیے آئیں کی بے حرمتی کے جرم میں آپنے حلف کی خلاف ورزی میں
اس کا کورٹ مارشل هونا چاهئے پاکستان پر غیر قانونی قبضه کرنے کے جرم میں
پاک جمہور نے ڈکٹیٹر اینڈ پارٹی کے منه پر بڑا زور دار طمانچه مارا ہے
مگر مشرف صاحب کو اس میں بهی بے عزتی محسوس نہیں هوئی
بے عزتی تو اس کی هوتی ہے جس کی کوئی عزت هو
ان کی عزت ہے کیا؟؟

سوموار، 18 فروری، 2008

کالے کنبھ نی کاواں دے

ریڈیو پاکستان پر ایک پروگرام چلا کرتا تها اس پروگرام کا نام تو اب یاد نہیں مگر اس پروگرام کے صدا کار نظام دین اور قائم دین اب تک یاد هیں ـ
جرنل ضیاع کے پاکستان پر قبضه کرنے سے پہلے کے پنجاب میں کون هو گا جو چوھدری نظام دین کو نہیں جانتا هو گا ـ
پنجاب چاهے انڈیا والا یا پاکستان والا سارے هی پنجاب میں جظام دین کی آواز گھونجتی تهی اور لوگ بهالے اس کی باتیں سننے کے لیے کام کاج چھوڑ کر ریڈیو کے سامنے بیٹھ جایا کرتے تهے ـ
پنجابی کے شعر ، محاورے ،اور گیت هوتے تھے
طنز کے بهی بادشاھ تهے نظام دین صاحب
جرنل ضیاع کی امد پر انہوں نے ضیاع پر بهی طنز کیا تها
جس کی پاداش میں انہوں کو ریڈیوپاکستان سے نکال دیا گیا تها
کیونکه یه وه وقت هوا کرتا تها جب پاکستان میں فوج کو ایک مقدس چیز مانا جاتا تها ـ
نظام دین نے دوسری جنگ عظیم کا زمانه بهی دیکها هوا تها اور اس دور کے حالات اور واقعات کے متعلق نظام دین کی باتیں اس دور کی هسٹری کو سمجھنے کے لیے ایک اهم چیز هوا کرتے تهے
ایک واقعه سناتے هیں نظام دین صاحب
که
اکہتر کی لڑائی میں هم ایک پروگرام کیا کرتے تهے
جس میں فوجی بهائیوں کو گهر والوں کا پیغام سنایا جاتا تها
ایک دفعه سرگودھا کے علاقے سے ایک بوڑھی خاتون ائی جس کا بیٹا محاذ پر تها اس نے اپنے بیٹے کے لیے پیغام ریکارڈ کروایا تها جو که عام لوگوں کے پاکستان کے ساتھ اخلاص اور بہادری کا نشان ہے
بوڑهی مائی کہتی هے
مینڈا بچڑا فلک شیر ـ میں تیری ماں پئی بولینی آں
میڈا بچڑا کیں ویلے جے لوڑ پؤے تے مینڈا بچڑا سر دیویں کنڈ نه دیویں ـ
ترجمه
میرا بیٹا فلک شیر ، میں تمہاری ماں بلا رهی هوں ـ
میرا بیٹا اگر ضرورت پڑے تو سر دے دینا پیٹھ نه دینا ـ

جنگ عظیم کے پس منظر میں که ان دنوں جبری بهرتی هوا کرتی تهی اور ہم برطانیه کے غلام هوا کرتے تهے اس لیے ہمیں برطانیه کے مفادات کے لیے جانیں بهی دینی پڑتی تهیں ـ
جس طرح که ان دنوں ہم امریکه کے لیے جانیں قربان کر کے دەشت گردی کے خلاف جنگ پر فخر کرتے هیں ـ
برطانیه نے جرمنی کو ایک ظالم کو روپ میں دیکهاتے هوئے لوگوں سے ان کے بیٹے جنگ کی بٹھی میں جهونکنے کے لیے ڈیمانڈ کرتا تها ـ
ان دنوں متعلقه گورا افسر سرگودها کے علاقے میں گیا که جوان بهرتی کرواؤ ـ
سرگودها کے لوگوں کو جانگلی بهی کہتے هیں
جانکلی لوگوں نے کہا که اس بات کا فیصله بابا مراد کرے گا اس کو بلا کر لاتے هیں
بابا مرد بهینسیں چرنے کے لیے لے گر بیلے میں گیا هوا تها اس کو بلانے کے لیے ادمی دوڑائے گیے
جب بابا مراد گورے افسر کے سامنے آیا تو گرمی سے بے حال قمیض اتار کر کندهے پر ڈالی هوئی تهی
بابے نے پوچها که کیا بات ہے ؟
گورے کے ساتھ آئے هوئے دیسی افسروں نے بتایا که گورا صاحب آپ پاس آئے هیں که گورنمٹ برطانیه کی مدد کریں
بابے نے جب تفصیل پوجهی تو ترجمان نے بابے کو جرمنی کے ظلم اور ہٹلر کی سفاکی کی باتیں بتا کرملکه برطانیه کے نام پر فوج میں بهرتی کے لیے لڑکے مانگے
تو
بابے مراد نے بڑی سنجیدگی گورے کو مشوره دیا
که
کل اینج اے ، که ، جے ہن معامله ساڈے تے هی آ پیاء اے تے
اینج کرو ، ملکه نوں آکهو کچح بندے ڈالکر ہٹلر سے صلح کر لے ،
ساڈے کولوں منڈے نہیں مروائی دے ـ
ترجمه
بات اس طر ح ہے که اب اگر معامله هم پر آ پڑا ہو تو میرا مشوره ہے که ملکه سے کہو که کچھ آدمی دریان میں ڈال کرہٹلر سے صلح کر لے
ہم سے اپنے لڑکے نہیں مروائے جاتے ـ

ماہیا
پنجابی نظم کی ایک قسم ہے جس میں پہلے مصرعه ایک تمثیل هوتی هے اور دوسرا مصرعه تقاضا یا خیال هوتا ہے
جس طرح که
سڑکاں تے رُکھ ساوے
پته نہیں زندگی دا کیڑے موڑ تے مک جاوے
یا
پانی چھنے وچوں کاں پیتا
تیرے وچوں رب دسیا تینوں پیار میں تاں کیتا

جنگ عظیم کے دنوں میں کسی ماں کو جب اس کے بیٹے کی جنگ میں موت کی خبر ملی تو اس نےایک ماهیا کہا تها
جو که اس دور میں ایک لوک گیت سا بن گیا تها

کالے کنبھ نی کاوا ں دے
بس کر جرمنی پتر مک گئے نی ماں دے ـ

اس ماہیے کو تهوڑا سا موڈفائی کر لیں تو ایسا بهی کہا جاسکتا ہے

کالے کھنب نی کاوا دے
بس کر مقرف پتر مک گئے نی ماواں دے

ایک اور ماہیا
چهوٹے دن نی سردیاں دے
ملک دے جثے تے ، زخم لگے نے دهشت گردیاں دے
یا
مچھی ٹر گئی ڈونگیاں پانیاں نوں
مشرف تو بهل گیاں ایں سنتالی دی یاں قربانیاں نوں ـ

یا
ٹیم چنگیاں دی هار گئی
فوج نوں بهل گئی اے جیڑی اکهتر وچ مار پئی

اخری تین ماهیے میرے آپنے هیں ـ

جمعرات، 14 فروری، 2008

ایکس مین ایسوسی ایشن

ایکس ـ
ایکس سے بنتاتو بہت کچھ ہے مگر ایکسپائیر بهی بنتا ہے
ایکسپائر کے پنجابی بامحاوره ترجمے میں چلے کارتوس کو بهی کہتے هیں ـ
چلیا هوا کارتوس بهی بس ایویں هوتا ہے بندے کا تراھ بهی نہیں نکال سکتا بیچارھ ـ
بچه کهلونا بنا لے تو والدین چهین لیتے هیں که منه میں نه ڈال لے ـ

ایکس سے بنتا ہے ایکسٹرا یعنی وادوں (اوپری)ـ

ایک بندے سے میں نے پوچها
اج کل کیا کام کرتے هیں ؟
اس نے جواب دیا گانے بجانے کا ، اج کل قوالوں کے ساتھ هوتا هوں ـ
میں نے دوباره پوچها کیا بجاتے هو قوالوں کو ساتھ ؟
اس نے بتایا : تالی بجاتا هوں ـ

یه هوتے هیں جی ایکسٹرا
آپ نے بهی دیکهیں هوں گی هیروئین کے پیچھے
ایسے هی کولهے مٹکاتی هوئی لڑکیاں
ان کو بهی ایکسٹرا کہتے هیں ـ
رومن گنتی میں ایکس دس کو بهی کہتے هیں دو اور ملالیں تو سکهوں والے بارھ بن جاتے هیں ـ
آپنے آپنے زمانے کے طرم خان اور پھنے خان آپنی آپنی کرسی پر فرعون ، طاقت کے نشے میں چور لوگوں نے بهی ایکسپائر هو کر ایک انجمن بنائی ہے ـ
جس کا نام ہے
ایکس مین
اس انجمن کے سارے هی ممبروں نے آپنے آپنے زمانے میں اپنی اپنی حثیت کے مطابق پاکستان پر حملے کیے هیں ـ
اسی انجمن کے ممبروں کے کارنامے هیں که جنہوں نے مشرقی پاکستان گنوایا
جنہوں نے کشمیر گنوایا
اور جن کی بڑی بڑی فتوحات هیں اسلام اباد کو بار بار فتح ـ
اب یه لوگ قوم کو جمہوریت کا بتا رہے هیں ـ
اور مصرف صاحب بهی ایک هی کمینے هیں که فوراًبتا دیا ہے که میں نے ەڈی نہیں ڈالی اس لیے بهونک رهے هیں

لکھنے کو تو بہت خیالات تهے دل میں مگر ابهی پاکستان سے ننها جی کا فون آیا تها
اور اپنے گھر کی غربت کے احساس نے باقی کی باتیں بهلا دی هیں ـ
اللّه میری مدد کرے
آمین ـ

سوموار، 11 فروری، 2008

نام دائے مون

آج کی خبروں میں آگ لگنے کی دو خبرں تهیں
ایک تو تهی برطانیه میں ایک مارکیٹ میں آگ لگنے کی
اس پر آگ پر اپ کو بہتت خبرین مل جائیں گی
اور دوسری تهی
جنوبی کوریا کے شہر سئیول میں لگنے والی خبر کی ـ
نام دائے مون


نام دائے مون کو آگ لگ گئی ہے
مون کہتے هیں دروازے کو
گیارویں صدی میں تعمیر هوا یه دروازه ہے جو که ایک بڑے سے چبوترے پر لکڑی کے کام کا شہکار تها
اس کو انیس سو باسٹھ میں دوباره مرمت کیا گيا تها
سئیول کے سٹی هال سے پیدل چند منٹ کے فاصلے پر واقع اس مون کے گرد ایک ٹریفک روٹری بنی هوئی ہے جس سے مختلف سڑکیں نکلتی هیں ـ
اس کے نزدیک هی نام دائے مون کے نام سے جانے والی نام دائے مون مارکیٹ بهی ہے ـ
میں اپنے کوریا کے سفر میں اس مارکیٹ سے ارٹیفشل جیولری خرید کر بیچا کرتا تها
اور عموماً جب بهی کوئی جاپانی دوست ساتھ هوتا تها تو اس مارکیٹ کی ریهڑیوں والوں سے کهانے خرید کر کهایا کرتے تهے ـ
اس مارکیٹ میں چند دوکانیں ایسی بهی هیں جن کے سامنے سوّر کے سر کو پکا کر دوکان کے سامنے سجا کر رکها جاتا ہے
میں ہمیشه ان دوکانوں کے سامنے سے کترا کر گزر جایا کرتا تها
اور ساتھ چلنے والے جاپانی اور کورین دوست ہنسا کرتے تهے
یہان ایک بے بے جی کو دیکها جس نے لوهے که ایسی کرسی بنائی هوئی تهو جس کے اندر گرم پانی حرکت کرکے اس گرم رکهتا تها ـ
یاد رہے که سئیول میں سردیوں میں مائینس دس گیاره درجه حرارت عام سی بات هے
سردیوں میں مچهلیاں اور گوشت بیچنے والے ان کو ایسے هی رکھ کر بیٹھیے هوتے هیں اور یه سبزیاں اور مچھلیاں منجمد هوچکی هوتی هیں ـ
اس مارکیٹ نام دائے مون میں کچھ بوڑهی عورتیں کرنسی کا کاروبار کرتی هیں
پچاس سے ساٹھ سال کی عمر کی یه خواتین کرنسی کے لفافے بهر کے گلیوں میں بیٹھی هوتی هیں
لیکن کوئی چهینا جھپٹی یا لوٹ کهسوٹ نهیں هے
میں نے بهی ان خواتین سے کئی دفعه دسیوں هزاروں ڈالروں کا لین دین کیا ہے ـ
عینکیں اور کونٹیکٹ لینز اتنے سستے هیں که جاپانی دوستوں کا تو تراھ هی نکل جایا کرتا تها
یعنی جو عینک جاپان میں ایک لاکھ ین میں بنتی ہے وه نام دائے مون میں دس ہزار میں بن جایا کرتی تهی
سیدها سیدها ایک صفر اتارنے والی بات هوا کرتی تهی ـ
مجهے یاد ہے که میں نے کینون کا کیمره ٹھیک کروانا تها
اور جاپان میں اس پر تیس هزار ین
یعنی تین سو ڈالر خرچ آتا تها مگر کوریا میں نام دائے مون کے کاریگروں نے صرف تیس ڈالر میں ٹهیک کردیا تها

نام دائے مون نام کی اس مارکیٹ کی وجه اور کورین لوگوں کا فخر یه یاد گار جل گئی ہے
ابهی تک آگ لگنے کی وجه کا معلوم نهیں هوا ہے
اس میں کو لگنے والی آگ کورین لوگوں کے لیے ایسی هی هے جیسا که نیویارکروں کے لیے ٹوین ٹاورز کا گرنا

ہفتہ، 9 فروری، 2008

دھرتی کا غم

گلومنگ وارمنگ
یعنی دهرتی کا تپنا
تپنا جا تپ جانا پنجابی میں کسی چیز کے کافی گرم هو جانے کو کہتے هیں
تپان کسی کے غصے سے لال پیلا هونے کو بهی کہتے هیں
جیسے که لوها تپ کر لال هوجاتا هے
کسی غصه ور کو اب نظر انداز کرنے کی ضرورت کے وقت کہتے هیں که اب اس کی
پِتلاں تپ گئی هیں
اس بعد بهی اس کو چهیڑا تو کام خراب هو جائے گا
پتلاں تپنے کے محاورو کا پس منظر کچھ اس طرح ہے که
گهومنے واے بعض مشیونوں میں شافٹ پر بیرنگ کی جکه
پیتل کی ڈهلی هوئی دو نصف گولائی کی پیتلیں شافٹ کے اوپر نیچے هوتی تهی جن میں ایک سوراخ کے ذریعے گریس پہنچائی جاتی تهی
مشین کے زیاده چلنے سے یا گریس کی کمی سي یه پیتل گرم هو کر شافٹ کو جام کر دیا کرتے تهے
اور ان حل صرف پیتل بدلنے یا شافٹ کی تبدیلی بهی هوا کرتا تها
یعنی که مشین کی ایک بڑی خرابی هوتی تهی پیتل کا گرم هوجانا بهی ـ
اب دهرتی کو تپنے کابهی رونا رویا جارها ہے
لیکن اس دهرتی ماں کو تپایا کس نے هے؟؟
کسی اکیلے کاکام نهیں هے
جیسے که
پاکستان کے احساس لوگوں کو اکیلے مشرف صاحب نے تپایا هوا ہے
مگر
دهرتی ماں کو تپانے میں سب هی کا هاتھ هے ـ
ماں کو تپا کر کهاؤ گے کہاں سے اور پئیو گے کہاں سے؟؟
ماں غصے میں بهی بچوں هی کا سوچتی هے مگر
یارو جب ماں هی بیمار هوجائے اور پهر وه بچوں کے لیے کیا کرسکے گی؟؟
قطبین پر برف پگهل رهی هے
سمندروں کی سطح بلند هو رهی هے
بانگله دیش کی کتنی هی زمین سمندر برد هو چکی هے
لوگ گهر سے بے گهر هوچکے هیں
پر
یارو قدرت بندے کو ایسے هی عذاب نہیں دیتی
اللە کے کچھ اصول هیں جن کو کبهی بهی تبدیل نہیں کیا جاتا
ان میں ایک یه بهی ہے که هر دور میں انسان کي لیے ایک وارننگ سسٹم بهی هوتا ہے جو اس کو جو انسان کو صراط مستقیم کا بتاتا رهتا ہے
گلومنگ وارمنگ ، جہان موسموں کو '' اکڑ دکڑ '' کر دے گی وهاں نئی نئی بیماریاں بهی لے کر آئے گی
اور سب سے بڑا مسئله هوگا پانی کی کم یابی یا پهر عدم دستیابی کا ـ
کا واقعی پانی ختم هو جائے گا ؟؟
نہیں جی نہیں پانی ختم نہیں هوگا
نمکین هو جائے گا
یعنی سمندر میں گر کر روز مره کی زندگی کے لیے ناقابل استعمال ـ

پانی کی ترسیل کے کیا اصول هیں
قدرت کے
اور انسان کو کیا کرنا چاهیے ؟

قران میں الله جی کا فرمان ہو که
زمیں پر پانی ایک مقدار مقرر کر کے دی گئی ہے
یه بات وهاں آتی هے جہان اللّه جی نے دنیا بنانے کا بتایا هے
یعنی که اس زمین میں روز ازل سے جتنا پانی ہے اتنا هی رہے گا
نه اس سے کم هو گا اور نه اس سے زیاده
تو پهر بانگه دیش کیوں ڈوب رها ہے؟؟
یه پانی کہاں سے ارها ہے ؟؟
بهلے لوگوں قطبین پر جمے پانی کے سٹاک میں گرمی کا سوراخ کر دیا گیا ہے اس لیے وه پانی سمندر کی سطح کو بڑها رها ہے اور ـ ـ ـ ـ ـ ـ
کہتے هیں یورینیم کا ایک ایٹم ٹوٹنے سے اتنی حرارت خارج هوتی هے که دو ٹن پانی بهاپ بن کر اڑ جائے
اگر انسان اس ایٹمی طاقت کو لوگوں کو تباه کرنے کی بجائے سمندری پانی کو میٹھا کرنے پر لگائے تو ساری زمین کے صحرا گلزار بن سکتے هیں ـ
اتنی خوراک پیدا کی جاسکتی هے که دنیا میں کوئی بهی بهوکا نه رہے

اتوار، 3 فروری، 2008

برف باری

سائنس کے جغادری کہـ رہے هیں که گلوبل وارمنگ هو رهی ہے
اور همارا سردی سے براحال هے
رات سے برف باری هورهی هے چلو اج اتور ہو گھر پر هی بیڤهے هیں
ورنه کام نه هونے کی پریشانی هونی تهی


پھولوں کی جهاڑی پر پرف کی تہـ سی بن گئی ہے
سرخ پھول برف سے منه نکال کر مسکراتے هوئے موسم کی سختی کا منه چڑا رها ہے


بنیز هاؤس کہتے هیں جاپانی میں اور انگریزی میں گرین هاؤس
یه ہمارے پڑوسیوں کے ٹماٹر کے هاؤس هیں


پھولوں کی جھاڑی اور پام کا درخت
میرے گهر کی کھڑکی سے ایک منظر

جاپانی گهر کی چھتوں پر پڑی اور پڑتی هوئی برف باری کا ایکمنظر

چھوٹی چھوٹی جاپانی كاریں لوگوں کو پڑی بڑی گاڑیا بنا کردیتے هیں اور اپنے گھر میں کھلونے جیسی گاڑیا استعمال کرتے هیں
ہاں کام کے لیے بڑے بڑے ٹرک هوتے هیں
ان لوگوں کے لیے کام کی اهمیت زیاده ہے عیاشی کی نسبت
چهوٹے لوگ چھوٹی سوچ
اب چهوٹا کون هے اور بڑا کوں اس میں هر کسی کا اپنا اپنا پیمانه ہے