ہفتہ، 28 اپریل، 2007

شیرو

جی یه هیں شیرو صاحب ـ شیرو صاحب مولوی طاهر صاحب کے پیروکار هیں ـ
شیرو بهائی بہت هی دلچسپ اور قابل مطعاله شخصیت هیں ـ
ان کی عادات اور حرکات اپنی مثال آپ قسم کی هیں ـ
آپنی ترکیب میں واحد قسم کی چیز هیں ـ
مینوفیکچرنگ فالٹ یا کولٹی کہـ سکتے هیں آپ شیخو بهائی کی عادات اور حرکات کو ـ

مولوی طاهر صاحب تو قارئین جانتے هی هوں گے ؟
ملنگ لوگوں کو جہاں کوئی منکا یا مالا ملے گلے میں لٹکا لیتے هیں اسی طرح یه مولوی طاہر صاحب هر القاب کو اپنے نام کے ساتھ لکهتے چلے جاتےهیں بے سوچے سمجهے ـ
اتفاق فونڈری میں ڈهل کر تیار هونے سے پہلے یه مولوی صاحب مولوی طاہر تهے پهر یه صاحب ڈاکٹر هوئے پهر پروفیسر پهر پته نہیں کیا کیا هوتے هوئے قائد انقلاب بهی رہے هیں اور اج کل شیخ السلام هوتے هیں ـ
یه شیرو بهائی مولوی طاهر صاحب کے دارے والی مسجد المصطفے کے سرگرم رکن هیں ـ

اپنی هی قسم کے کردار یه شیرو تراه نکالنے میں کافی ماہر هیں ـ
تراه نکال کر توجه کے طالب قسم کی چیز ـ
بس جی شیرو جو هوئے جانوروں کی قبیل شیر نام کی چیز جس کا جب جی چاهے انڈے دے اور جب جی چاهے بچے ـ
اور جب جی چاهے پاڑه مل کر بیٹھ جائے ـ
نام تو شیرو کا غالباَ مرزا سلیم بیگ ہے مگر شیرو خود کو شیر کی طرح کا سمجهتا ہے شائد؟

جب چاہے سپیروں کی طرح کی ٹوپی پہن کر آ جاتا ہے اور دوسرے جمعے کو سفید شلوار سوٹ پر منکوں کی مالاـ
اس سے اگلے جمعے کو ڈانگری پہن کر پگ باندھ لے تو بهی عجیب نہیں ہے ـ
شب دیجور کی طرح کالا رنگ که اگر بال گهنگریالے هوں تو کوئی افریقی سمجهے
پیٹ بڑها هوا که جیسا پاکستانی کهاتے پیتے گهرانوں کے لوگوں کے هوتےهیں ـ
بسیار خوری کو پاکستانی معاشرے میں باعث فخر سمجها جاتا ہے ـ
تربیت کچھ اس طرح کی که هر کسی کو تو تکار سے بات کرے ہےـ
آپ جناب کی بول چال کے مسلسل پانچ فقرے نہیں بول سکتا ـ

پنجابی میں تم کے لیے دو لفظ بولے جاتے هیں
توں اور تسی
ہمارے گهر میں تسی بولنے کا رواج ہے
ہمارے گهر پر کام کرنے والے ملازم (بهینسوں کو چاره ڈالنے والا بابا پلے دار اور صفائی والی مائی وغیره)لوگوں کو بهی تسی کہـ کر پکارا جاتا ہے ـ
چهوٹے بهائی مجهے پاء جی کہتے هیں اور میں ان کو ننها جی اور بلّها جی کہتا ہوں ـ
اس لیے مجهے جب کسی ایسے گهرانے کا فرد ملتا ہے جو مجهے توں کہـ کر پکارتا ہو تو مجهے بڑا عجیب لگتا ہے ـ
اور اس وقت تو بڑا هی عجیب لگتا ہے جب یه توں کہـ کر پکارنے والااعلی نسلی هونے کا بهی دعوے دار هو ـ
میں ایسے شخص کو بڑے فخر سے بتایا کرتا هوں که جی میں کمہار هوں ہمارا اور آپ کے گهرانے کا کلچر مختلف ہے ـ
اگر آپ کا یه توں تکار کا کلچر اعلی نسلی هونے کا ثبوت ہے تو مجهے کم نسلی کہلوانے میں فخر ہے ـ


جی ہاں جی یه ہے شیرو بے علم شیرو بحر حال
شاه دولے شاھ کے چوہوں کی طرح کے سر والے پڑهے لکهے بیوقوف سے بہتر ہے ـ
که شیرو جان بوجھ کر کسی کی ہتک نہیں کرتا ـ
شیرو ملنسار اور مہمان نواز بهی هے ـ
کاروبای اور پیسے والی آسامی هے ـ
مسجد میں لنگر تقسم کرنے کا شیرو کو بہت شوق ہے ـ
شیرو کے پچهے لکے بورڈ منہاج دارے کے هیں ـ
منہاج حلال فوڈ منجمد گوشت کی دوکان ہے ـ

ہفتہ، 21 اپریل، 2007

یاکوزا

سچ اچها پر اس کے جلو میں زہر کا ہے اک پیاله بهی

پاگل هو كیوں ناحق کو سقراط بنو . خاموش رہو

جی ہاں دو اس قسم کے واقعات هوئے که ان پر لکها جانا چاهیے تهالیکن میں خود میں اس بات کی جرات نہیں پاتا که میں نے بهی اس معاشرے میں رہنا ہے ـ
ایک بات هوئی تهی پاکستان ایمبیسی میں اور دوسری بات تهی اسلامک سرکل آف جاپان والوں کی مسجد کی انتظامیه کا معامله اور اس دوران آپنی وڈیائی بنانے والوں کا گندا رویه ـ
پنجابی میں کہتے هیں
موہرا کها کر تُپّے سونا
زہر کها کر دهوپ میں سونے والی بات هو جاتی هے
اس لیے ان معاملات کی تفصیل نہیں لکھ سکتا ـ

ناگا ساکی ایک شہر که جس کا نام ہر پاکستانی جانتا ہےیا شائد دنیا کا ہرصاحب علم جانتا ہے ـ
اس شہرناگاساکی کا مئیرسٹر ای تو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا ہے ـ خبروں کے مطابق مسٹر ایتو ایک یاکوزا کی گولی کا شکار هوئے جسنے که کسی بڑے یاکوزا کی خواهش کو پورا کیا ـ
لیکن اس یاکوزا کا بیان ہے که اس کی گاڑی کا نچلا حصه غیر ہموار سڑک کی وجه سے رگڑا گیا اور اس کی ذمه داری مئیر پر آتی هے ـ
یاکوزا کیا ہے ؟
یه جاپانی بدمعاش ہے جن کی روایات اور اخلاقیات بهی هیں ان کے گروپ هوتے هیں اور عموماً ان کا کام کنسٹریکشن کا هوتا ہے لیکن اپنے علاقے کے شراب خانوں اور دوکانوں سے جگا لینے کے لیے بهی بدنام هیں ـ
جاپانی معاشرے میں یاکوزا پرانے زمانے سے پائے جاتے هیں لیکن عام لوگ ان سے نفرت کرتے هیں ـ
اور آپنی اس نفرت کو یاکوزا سے خوفذده هونے کی ایکٹگ میں چهپاتے هیں ـ
پرانے زمانے میں جاپان میں بُشی هوا کرتے تهے ان کو شہنشاه کی طرف سے دوتلواریں رکهنے کی اجازت هوتی تهی ـ
ایک لمبی تلوار اور دوسری چهوٹی ـ لمبی تلوار کو کاتانا کہتے تهے اور چهوٹی والی کو یوکو ساشی ـ
بُشی ایک بہادر آدمی هوتا تها جوکه ظلم کے خلاف ڈٹ جانے والا اور مظلوم کی مدد میں جان سے گزر جانے کا حوصله رکهتا تها ـ
بشی جهوٹ نہیں بولا کرتا تها بشی منشیات سے پرہیز کرتا تها ـ بشی کو موت خوف ذده نہیں کرسکتی تهی ـ
بس جی اسلام کا مجاہد سمجھ لیں ـ
جاپانیوں کو میں جب طالبان اور عراقی مزاہمت کاروں کا بشی جیسا هونا بتاتا هوں تو جاپانی چُپ هو جاتے هیں ـ
لڑائی میں اگر بشی کی تلوار ٹوٹ جاتی تهی یا گر جاتی تهی یا دشمن الٹی تلوار کمر پر مار دیتا تها تو اس کا مطلب هوتا تها که تم مر چکے هو ـ
اور غیرت مند بشی چهوٹی تلوار یوکوساشی سے جیتنے والے کے سامنے ہارا کیری کرلیا کرتا تها مگر جیتنے والا بهی اعلی ظرف بشی هوتا تها اور اگر ہارے والے کا ہاتھ روک کر اس کو ہارا کیری سے منع کردیتا تها یعنی جان بخشی کردیتا تها تو هارا هوا بشی اس علاقے کو چهوڑ دیتا تها اور گوشه نشین هو جاتا تها ـ
یه یاکوزا صاحبان بشی کی غیر قانونی کاپی سمجھ لیں یاکوزا ہارنے پر ہارا کیری نہیں کرتا بلکه آپنے ہاتھ کی چهوٹي انگلی کا ایک پوٹا کاٹ دیتا ہے ـ
اور کتنے هی پوٹے کٹے هوئے یاکوزا میں نے بهی دیکهے هیں ـ
یاکوزا لوگوں کا ایک مخصوص لباس هوتا ہے اور یه آپني چال ڈهال سے پہچانے جاتے هیں ـ893کو جاپانی میں یاکوزا بهی پڑهتے هیں ـکسی گاڑی کا نمبر 893 هونا یاکوزا کی گاڑی سمجها جاتا ہے ـ
اب خبریں تو مئیر ایتو سان کا قتل یاکوزا کی کارستانی بتاتی هیں مگر
ایک ٹرک ڈرائیور کہـ رها تها که یه مئیر صاحب امے ری کا کے خلاف بہت بولتے تهے ـ
اس کو بات سن کر مجهے ان دنوں دیکها هوا ایک پروگرامن یاد آیا جسمیں پروگرام کا میزبان بهیمہمانوں سے اس بات پر بحث کررہا تها که دور کے امریکه سے دوستی کیوں اور پاس کے مملک سے کیوں نہیں ؟
تو ایک مہمان نے شمالی کوریا کا ڈراوا دیا تو یه میزبان کہنے لگا که میں جان قربان کروں گا آپنے ملک کے لے آؤ تم بهی میرے ساتھ چلو ـ
آپنے ملک کے لیے ہمیں آپنی هی جانیں قربان کرني پڑیں گي اؤ آپنے پڑوسیوں سے تعلقات بنائیں تو پهر بهی سوٹ اور بوٹ میں ملبوس عقلمند ٹائیپ مہمان امریکه کی طاقت کے هی کُن گائے جارها تها ـ
عقل ہے محو تماشا لبِ بام ابهی

سوموار، 16 اپریل، 2007

کهوٹے سکّے

شخصیات هی سسٹم بناتی هیں کیونکه سسٹم اشخاص کے لیے هوتا ہے ـ
قدرت فراخ دل ہے مگر چیزیں خام حالت میں دیتی هے بلکه ایک دوست کا کہنا تها که فطرت بگاڑ پر مائل هوتی هے ـاس کی خام چیزوں کو کانٹ چهانٹ کرکے ایک نظم دینا پڑتا ہے ـ
جنگلی پهول بہتات میں بهی هوں ان کو باغیچے کی شکل انسانی هاتھ هی دیں گے ـ
گاڑی کا ہنڈل چهوڑ دیں کہیں ٹکرا جائے گی اس کو انسانی ہاتھ راسته دیکهائیں گے ـ
آپ کهیتوں کو چهوڑ دیں وه جنگل بن جائیں گے ـ
مشرف صاحب کو خود بهی معلوم نہیں ہے که عام پاکستانی اب فوج کو اچها نہیں سمهجتے ،یه وهی لوگ هیں جو پاک فوج کو سلام کیا کرتے تهے ـ
مشرف صاحب نے فوج کے وقار کو جتنا نقصان پہنچایا هے کوئی بهی دشمن اتنا نقصان نهیں پہنچاسکتا تها ـ
سوائے مشرف صاحب کے سارے هی پاکستانی جاتے هیں که اب لوگ پاک فوج پر نقطه چینی کرتے هیں مگر وه لوگ جن کے رشتے دار فوج میں هیں وه اب بهی فوج کے وقار کو بچانے کی کوشش میں بحث کررہے هوتے هیں ـ
اور وهی گهسا پٹا فلسفه که سیاستدان هوتے هی برے هیں ـ
اور اگر ان کو بتایا جائے که پاکستان کے معمار سیاستدان هی تهے تو کہتے هیں که وه سیاستدان کچھ اور تهے
تو پهر
میں
پوچها کرتا ہوں
که
کیا وه پستے بادام والے تهے کهوے ملائی والے
باره مسالے والے تهے ـ
بحرحال کچھ اس طرح کی بحث هو جاتی هے ـ

قائد آعظم نے کہاتها که میری جیب میں کچھ کهوٹے سکے هیں ـ
یه کهوٹے سکے تهے کچھ جرنیل اور کچھ بیوروکیٹ
لیکن یه کهوٹے سکے بہت هی چالاک تهے ان کهوٹے لوگوں نے پروپوگینڈا کرکے اصلی سکوں کو گهوٹا بتانا شروع کردیا ـ
اور قوم کے ذہن میں بیٹهادیا که یه بات قائد نے لیاقت علی خان کے متعلق یا کچھ اور سیاستدانوں کے لیے بولی تهی ـ
جرنل گریسی کا قائد کے حکم کے باوجود کشمیر پر حمله نه کرنا پاک فوج میں حکم عدولی کی ورایت کا بانی هونا ہے
کیا یه کهوٹا پن نہیں ہے ؟؟
اس کے بعد راولپنڈی سازش کیس سے لے کر لیاقت علی خان کے قتل اور اسکے قاتل کو قتل کرنا جنریلوں کے کهوٹے پن کا مظاهره نہیں ہے کیا؟
غلام محمد جو که صرف اور صرف ایک افسر تها اس کا گورنر جنرل بن بیٹهنا کیا کهوٹاپن نہیں تها؟
اسطرح سیاستدانوں کو دیوار کے سات لگانے کے عمل کے تسلسل کو جاری رکنے والے جرنیلوں اور بیوروکریٹوں کے کا کیا کهوٹے پن کی مثال نہیں هیں ؟؟
درسی کے ٹیسٹ پيپر پر لکها هوتا تها
چور مچائے شور چور چور چور

جمہوریت ایک سسٹم ہے اور جس طرح ہر سسٹم میں نقائص هوتے هیں اس میں بهی ایک نقص ہے که سیاستدان وسائل کی تقسیم مں ڈنڈی مار جاتے هیں ـ
اور مزے کی بات ہے که اس نقص کا علاج بهی جمہوریت میں هی هے ـ
اگر اس نقص کو پهوڑے ے مثال دیں تو اس کا کلینک هوتا ہے اسمبلیاں اور چرکا لگانے والے هوتے هیں مخالف اور بہنے والی پیپ گندا کرتی ہے اس سیاستدان کے دامن کو اور پهر اس چیز کا تسلسل پهوڑے والے سیاستدانوں سے اسمبلیوں کو پاک کرتا جاتا ہے مگر کوئی جمہوریت کو چلنے تو دے ـ
اگر ایک سیاستدان آپنے علاقے کو ترقی دینے لگتا ہے تو اسمیں بری بات کیا ہے ؟
اگر اج رائے ونڈ کی سڑکیں اچهی بن رهی هیں تو رائے ونڈ بهی تو پاکستان کا هی حصه ہے ناجی ؟
کل گوجرانواله کی بهی باری آ جائے کی ـ
اگر مجیب الرحمن جیت جاتا ہو تو اس کو حکومت کیوں نہیں دیتے کیا پاکستان صرف پنجاب هی ہے یا که پاکستان جی ایچ کیو کی کالونی ہے؟
جمہوریت میں سیاستدانوں كا ایک دوسرے کے اگے روڑے اٹکانا جمہوریت کے لیے کهاد کا کام کرتے هیں ـ
ذاتی عناد کے لیے روڑے اٹکانے والے قدرتی طور پر سیاسی طور پر مرتے چلے جائيں گے اور اچهے لوگ آتے چلے جائیں گے ـ
لیکن جب جمہوریت کے آگے فوج کا شہتیر گرا دیا جاتا ہے تو جمہوریت کا راسته هی رُک جاتا هے ـ
یه شہتیر گرانے والے روڑے اٹکانے والوں کو برا کہتے هیں ـ
ڈرم کهڑکا کر شور مچانے والے کا گوئیےکو شور نه مچاؤ کا کہنا کی طرح لگتا ہے ـ
جمہوریت کا عقیقه (پنجابی میں حقیقه) کرکے جمہوریت کو حقیقی جمہوریت کر دینا
مداری جرنیل کا بچه جمورا هی کر سکتا ہےـ
شفاف الیکشن جس کو کہتے هیں اس میں صرف بیلٹ بکس هی شفاف(ٹرانسپیرنٹ)هوتا ہے

جمعہ، 13 اپریل، 2007

مشاہدھ

انسان مشاہدے کا غلام هوتا ہے ـ اور مشاہده هی اس کو شعور دیتا ہے اور مشاہده هی اس کو گمراه بهی کرتا ہےـ
باریک بین کا مشاہده دوسروں سے بہتر هوتا ہے یاپهر تعلیم نالج دیتی هے اور اس نالج اور مشاہدے سے بهی آدمی شعور حاصل کرتا ہے ـ
جاپانیوں کی پچهلی دو نسلوں کا مشاہده هے که اگر ایک ملک ترقی کرنے لگے تو وه ترقی کرتا ہی چلا جاتا ہے ـ یا چیزیں صرف مثبت انداز میں تشکیل پاتی جاتی هیں ـ
لیکن جاننے والے جانتے هیں که معاملات کچھ اور هی طرح چلتے هیں که دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکه کے بعد دوسرا امیرترین ملک ارجنٹائین اکیسویں صدی میں پہنچنے تک غریب ترین هوچکا تها ـ
صدیوں سے ایمیگرینٹ اکسپٹ کرنے والے برصغیر کے لوگوں کو اکیسویں صدی میں خود دوسرے ممالک میں ایمگریشن لینی پڑ رہی هے ـ
سیّد مرزے چغتائی بیگ لودهی وغیره وغیره برصغیر میں ایمگرینٹ هی تو هیں ناں جی ـ
مشاہدے میں مغالطه هم پاکستانیوں کاخاصه هے ـ
بات هو رهی تهی بهیڑوں کی فارمنگ کی او میں بهیڑوں کی فارمنگ کرنا چاہتا ہوں اس لئے میں اس کی حمایت میں دلائل دے رہا تها ـ
میں نے بتایا کی برطانیه ہالینڈ اور اسٹریلیا نیوزی لینڈ جیسے ممالک کی اکنامک میں بهیڑوں کا بہت هاتھ هے
بلکه آسٹریلیا تو اون ایکسپورٹ کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے ـ
میری اس بات کو سن رہا ایک ادمی کچھ دنوں بعد محفل میں کہـ رها تها که مجهے خاور نے بتایا هے که
اسٹریلیا دنیا ميں اون کا سب سے بڑا ضرورت مند ہےـ
میں جو بات کہـ رهاہوں یه صاحب اس سے الٹ سمجھ رہے هیں اور اس الٹے سمجهے کو دوسروں کو بهی بتا رهے هیں ـ
تازه تازه باپ مرے پچهے دولتمند بنا جوان گاڑیاں لے لیتا ہے اور مکینک کے ساتھ تکنیکی بحث کرکے مکینک کو زچ کردیتا ہے اور اس کو آپنی کوالٹی سمجهتا ہے ـ
غریب مکینک کے احساسات کیا هوں گے؟؟
جسکے علم اور ہنر کو اس کے سامنے غلط ثابت کیا جارہاہے اور وه اس کو غلط بهی نہیں کہـ سکتا آپنی غریبی کے ہاتھوں مجبور ـ
یارو لوگ شخصیات پر هی باتیں کیے جاتے هیں
فلاں صاحب اچهے هیں اور فلاں برے
شخصیات پاکستانیوں کا دهرم بن چکا ہے ـ جب بهی ان کی باتیں سنیں یه کسی اوتار کے انتظار میں بیٹھے هیں که آئے اور ہمارے مسائلک حل کرئے ـ
بینظیر نواز شریف پر بحث هو رہی هے که مشرف پر تنقید که ایک کہے گا چلو باقی سارے دیکھ لئے هیں اب عمران کو آزما لیں ـ تو کوئی عمران کو گالیاں دینے لگے گا ـ
جاپان فرانس ہالینڈ جرمنی سپین کے سربراهان مملکت کا نام کم هی لوگ جانتے هوں گے مگر یه سب هی جانتے هیں که یه ممالک ترقی یافته هیں اور آگر ویزه مل جائے تو کمائی کے قابل ملک هیں ـ
شخصت پرست پاکستانیوں کو میں بتانا چاهتا هوں که ان ممالک میں ایک سسٹم ہے جس نے ان کو کامیاب کیا ہے ـ
پہلے آپ لوگ اس بات کو سمجھ لیں که پاکستان کو سسٹم کی ضرورت ہے پهر سسٹم بهی بن جائے گا لیکن آگر اپ کا مشاہده اس قابل بهی نہیں ہے که آپ شخصت اور سسٹم کا فرق سمجھ سکیں تو آپ ایک کم علم اور جاہل آدمی هیں کسی وجه سے آپ اگر دولت مند بهی ہیں تو بهی آپ عقلمند نہیں هیں ـ
یه میرا مشاہدھ ہے اور یه غلط بهی هو سکتا ہے کسی بهی ایسے آدمی کی نظر میں جو بہت بهی باریک بین هو اور اہل علم بهی ـ

منگل، 10 اپریل، 2007

پردیس اور مشکلات

میں غالباً چوتهی جماعت میں پڑهتا تها جب ماموں مشتاق سعودی عرب گئے تهے ـ
ماموں کا ایک خط مجهے یاد ہے جس میں انہوں نے اپنی مشکلات کا ذکر کیا تها ـ اس کو پڑه کر میری ماں بہت روئی تهی اور کتنے هی دن ماں پریشان رهی تهی ـ
اس وقت میں نے سوچا تها که اگر بندے کو مشکلات بهی آئیں تو ان کا پاکستان میں بتا کر سب کو پریشان کرنا ٹهیک نہیں هے ـ
اور میری کوشش رہی هے که میں آپنی مشکلات کا رونا نه روؤں ـ مصبت جو بهی هو اس کو جهیل کر مردانه وار حالات کا مقابله کروں ـ
میری طرح باہر نکلے هوئے لوگوں کا عموماً رویه ایسا هی ہے که پاکستان والوں کو آپنی پریشانیاں نه بتائیں مگر اس کا ایک نقصان هوا که پاکستان والوں کا ذہن بن گیا که باهر والوں کو تو پرشانی ہے هی نہیں بس خوشیاں هی خوشیاں هیں اور باہر والے اپنے حصے کی خوشیاں انجوائے کر کے باقی کی پاکستان بهیج رهے هیں ـ
اس لیے ان باہر والوں کو آپنی پریشانیوں کا بتابتاکر ان کی خوشیاں کم کی جائیں که کہیں ان کو بدہضمی نه هوجائےـ
پاکستانیوں نے ستر کی دهائی میں باہر نکلنا شروع کیا یه ایک چهوٹا سا انقلاب تها جس نے ہماری ذندگیوں کو کافی بدلاـ
اوراس کے مختلف اثرات مرتب هونے لگے قدرتی طور پر ایک کلچر پروان چڑهنے لگا ـ آگر ہمارا معاشره تعلیم یافته هوتا تو یه اثرات مثبت هوتے مگر تعلیم کی کمی نے منفی اثرات کی بہتات کردی ـ
اسانی سے آنے والی دولت نے سود کے اثرات دکهائے که لوگوں میں سے محنت کرنے کی صلاحیت کم هونے لگی ـ
کام چور تو هم پہلے بهی تهے مگر زرمبادله نے رہی سہی کسر بهی نکال دی هے ـ

بچپن اور نوجوانی میں ہر آدمی کو جهڑکیاں تو سہنی هی پڑتی هیں ـ
جهڑکیاں سہتا یه نوجوان جس کی تعلیم بهی واجبی سی هوتی ہو اور تربیت تو هوتی هی نہیں که تربیت کی عمر میں باهر چلےجاتے هیں ـ لیکن باہر جاتے هی کچھ نه کچھ کما کر بهیجنے لگتا ہےپہلی اور دوسری رقم بهیجتے هی باپ کی جهڑکیاں پیار میں بدل جاتی هیں تیسری چوتهی رقم کی ترسیل تک اس جوان کے مشورے بهی سنے جانے لگتے هیں ـ

پهر اس جوان کو احساس هونے لگتا ہے که میں عقلمند هوگیا هوں اور باپ کو بهی عقل کی بات بتا سکتا هوں ـ
بہنیں جو که شکایتیں لگاکر مار پڑوانے میں پیش پیش هوتی تهیں وه بهی لاڈ دیکهنے لگتی هیں ـ
یعنی که اچهاخاصا عقل کا اپهار سا انے لگتا ہے ـ
باہر والوں کی ایک مجبوری هوتی هے مشترکه مکان میں رہنے کی که اگر مکان شئر نه کریں تو بچت نہیں هوتی اور اگر بچت نہیں هو گی تو عزت نهیں هو گي ـ

اب اس مشترکه مکان میں رہنے والے سارے هی ایک جیسے حالات سے گذر کر آپنی آپنی جگه عقلمند هو چکے هوتے هیں ـ
کم تعلیم اور تربیت سے محروم یه لوگ کسی کو تسلیم هی نہیں کرتے
مگر دوسرے بهی
ان کو تسلیم نہیں کرتے اور یه بات لڑائیوں کا باعث بنتی هے ـ
اس مسئلے کا کیا حل هونا چاهیے که ان لوگوں کو بتایا جائے که کیسے اجتماعی زندگی کا شعور حاصل کریں ـ
که اجتماعی زندگی کا شعور معاشرے سے انتشار کو کم کرتا ہے ـ
عقلِ کل سمجهتے هیں آپ ؟
عقلِ کل ادمی کو آپ بتا هی نہیں سکتے که صحیع اور غلط کیا ہے کیونکه اس کو ساری هی باتوں کا علم هوتا ہے ـ
بس عقل کل سے هو جاتے هیں ہمارے پاکستانی باہر جا کر ـ
اور کسی حد تک میں بهی اس کیٹگری میں آتا هوں ـ
اس لیے میری کوشش هوتی هے که کسی کی بات سن لوں هو سکتاہے که بات کرنے والاصحیع هی هو ـ
بیوه عورت کے بچے کی طرح فوراً توُ تکار اور گالی گلوچ پر اُتر آتے هیں ـ
جنریشن گیپ کہتے هیں غالباًاس کو ـ
باقی فیر سہی

بدھ، 4 اپریل، 2007

لتریشن


ویسے یه جعلی وکیل صاحب اپنے اصلی وکیلوں کی نسبت کهاتے پیتے سے لگتے هیں ـ
اصلی وکیل تو ہماتڑ سے هی لگ رہے هیں ـ
کیمرے کے نیچے والے وکیل صاحب کی نسبت جعلی صاحب پر کتنی چربی چڑهی ہےـ
یه بنده تو کہیں بهی آفسر بن کر رعب جهاڑ سکتا ہے ـ آپنے پاکستان میں

سوموار، 2 اپریل، 2007

دجال

دجال کے متعلق مذہب کیا کہتا ہے مجهے اس کا معلوم نہیں مگر سنی سنائی روایات کچھ اس طرح هیں که دجال گدهے پر سوار ہو گا اور اس کے پاؤں زمین پر لگ رہے هوں گےاس کی ایک آنکھ ہو گی (وه کانا نہیں هوگا) اور اس کا حکم زمینوں آسمانوں اور سمندروں مں بهی چلے گا ـاس پر حمله ناممکن ہو گا کیونکه یه ایک انکھ والاہر طرف دیکهنے پر قادر هوگا ـ
کیتهولک دهرم کے ماننے والے دوستوں سے سنا ہے که دجال ہر آدمی کو نمبر آلاٹ کرئے گا اور جو اس کا نمبر لگوا لے گا وه اس کا غلام هو جائے گا ـ
اس لیے کیتهولک لوگوں کو دجال کے نمبر سے انکار کرنے کی تبلیغ کی جاتی هے ـ
ڈیول کا نمبر هے کیتهولک لوگوں کے مطابق 666 ـ یعنی تین چھ چھ سو چهیاسٹھ نہیں بلکه تین چھ ـ
آخری زمانے مین دجال کے نمبر کے بغیر کوئی بهی خرید فروخت ناممکن هو جائے گی ـ مگر ان کے خیال میں یه نمبر کلائی پر لکهوانے کا حکم هو گا ـ
بار کوڈ کا تو سب هی لوگوں کو معلوم هوگا خاص طور پر جو پاکستان سے باہر رہتے هیں ـ
بار کوڈ ـ بار انگریزی میں سلاخ کو کہتے هیں اور کوڈ کو اردو مین بهی کوڈ هی کہتے هیں ـ بار کوڈ هوتا ہے وه کوڈ جو که ہر دوکان پر رکهی ہر برائے فروفت چیز پر بنا هوتا ہےـ
پاکستان ميں لوگ بارکوڈ سے واقف نہیں هیں ـ
کچھ اس طرح کی چیز هوتی هے ـ

اس بار کوڈ میں هر بار کا ایک نمبر هوتا ہے اور اس کے دونوں اطراف پر اور ایک سنٹر میں دوسری لائینوں سے لمبی لائینیں هوتی هیں اس لائن كا نمبر هوتا ہے 6 چھ ـ
لیکن لکها نہیں جاتا ـ
تکنیکی لوگ اس بات کو جانتے هیں ـ
ایک آئرش دوست کے بقول شائد کسی نے مذاق میں اس کوڈلائین کا نمبر چھ رکھ دیایا که تکنیکی طور پر یه ضروری تها اس کا معلوم نہیں مگر یه ہے چھ هی اور ہر بار کوڈ میں اس کوڈ کی تین دفعه تکرار تین چھ بناتی هے ـ
اور تین چھ ہو نمبر دجال کا ـ

دجال کی ایک انکھ ـ
کیمره کی بهی ایک انکھ هوتی هے
اور اس ایک آنکھ گے ساتھ کہاں کہاں نظر رکهی جارہی هے ؟
خلاؤں میں ہواؤں میں گلیوں میں اور سمندروں ميں اور اگر ابهی کوئی جگه اس ایک انکھ سے بچی ہے تو اس پر بهی نظر رکهنے کا انتظام کیا جا رها هےـ
چورانوے کی بات ہے که میں ایک تهانے میں تهااور جاپانی ترجمان کے ساتھ باتیں کر رہے تهے اس جاپانی نے اردو پاکستان جا کر سیکهی تهی ـ
اس ترجمان نے بتایا که پاکستان میں ہر شہری کو ایک نمبر الاٹ کردیا گیا ہےـ
جس کو شناختی کارڈ نمبر کہتے هیں ـ
سب پر نمبر لگا ہے ـ
گدهے پر سوار لمبی ٹانگوں والا کون ہے که جس کے حکم پر دنیا بهر کے حکمران لوگوں پر نمبر بهی لگائے جا رہے هیں اور دجال کی ایک انکھ یعنی کیمره بهی فٹ کرائے جا رہے هیں ـ
دنیا کے غریب ممالک میں تجارت تو ابهی تک دجال کے نمبر کے بغیر جاری ساری ہے مگر اس کی آنکھ تو اب پاکستان کے ائر پورٹ پر بهی فٹ کر دی گئ ہے اور سنا ہے که اس
انکھ سے دیکها گیا کسی اور جگه بهی دیکها جاتا ہے ـ

یاجوج ماجوج کےمتعلق قادیانی لوگ کہتے هیں که یه چینی لوگ هوں گےـ
اگر یه سچ ہے تو بهی یه یاجوج ماجوج لوگ ایک آنکھ پر حمله کرنے اور اس پر لشکارے مارنے کے قابل هو گئے هیں ـ
اگر کیمره هی دجال کی ایک انکھ ہے تو!ـ کہیں مرا تخیل مجهے گمراه تو نہیں رها؟

دجال کیا ہے اور اس کی ڈیفینیشنز کیا ہيں یقین کريں مجهے معلوم نہیں ـ

جہاں تک مجهے معلوم ہے عیسی علیه سلام کے علاوه کسی اور اوتار کے آنے کا قران میں میں نے تو نہیں پڑها ـ
اگر کسی کے علم میں هو تو مجهے بهی بتائیں ـ