بدھ، 28 فروری، 2007

گوگا لوہار

اگر آپ امریکه اور یورپ ميں رہنے والے پاکستانیوں کی تعداد کو جاپان میں رہنے والے پاکستانیوں سے کامپیئیر کریں تو یہاں پاکستانیوں کی تعداد بہت هی کم هے ـ یعنی ایک اندازےکے مطابق تقریباً دس ہزار ـ پچهلی صدی کے آٹهویں عشرے میں پاکستانیوں نے جاپان آنا شروع کیا تها ـ
شروع میں آنے والے یہاں بهیک مانگا کرتے تهے ـ
کچھ اس طرح کرتے تهے که ایک کاغذ پر جاپانی تحریر میں ایک مضمون لکها هوتا تها جیسا که گونکے اور بہرے مانگنے کے لیے لکھ لیا کرتے هیں ـ
که میں ایک سٹوڈنٹ ہوں اور اس ملک کی مہنگائی کا مقبله نہیں کر سکتا مہربانی کر کے مجھ سے پنسلیں سینریاں یا کچھ اسی قبیل کی جیز ہوتی تهی وه خرید لیں ـ
اور جاپانی ترس کها کر ان کو پیسے دے دیا کرتے تهے ـ
اس کو بعد کچھ لوگوں نے فیکٹریوں ميں کام لگوانے کا کام پیسے لے کر کرنا شروع کیا ـ
ان لوگوں کو ایجنٹ کہا کرتے تهے ـ
میں خود ایک ایجنٹ کو پانچ سو ڈالر دے کر کام پر لگا تها ـ
منیر نام کا یه ایجنٹ گوجرانواله شہر کے محلے وحدت کالونی کا رہنے والا تها ـ
میں نے جلد هی زبان سیکھ لی تهی اور لوگون کو کام پر مفت لگوانا شروع کردیا تهاـ لیکن مجهے ایجینٹوں سے ڈر بهی لگتا تها اس لئے میں جس کو کام پر لگواتا تها اس کی منت بهی کرتا تها که کسی کو بتانا نہیں ـمگر بات تو نکل هی جاتی هے ـ منیر کو پته چل گیا تها اور منیر لوگ مجهے مارے کے لئے بهی آئے تهے لیکن میری حمایت میں کچھ لوگ اُٹھ کهڑے هوئے کیونکه اس وقت تک میری کی نیکیان اُگ چکی تهیں اس بات نے مجهے بہت حوصله دیا اور میں نے کهل کر فیکٹیوں کے مالکان سے پوچهنا شروع کردیا که اگر ان کو بندے کی ضرورت هو تو مجهے بتائیں اور لوگوں کو کام پر لگوانے کاکام جاری رکهاـ
اس وقت میں کہا کرتا تها که کسی بهی ملک نسل اور رنگ کا بنده ہمارے گهر پر آکر مدد کے لیے کہے میں اس کی مدد کروں گا ـ
لیکن بعد میں کچھ اس طرح کے حالات بنے که میں اس اس ماٹو کو بدلنے پر مجبور ہو گیا ـ
اس کے بعدمیرا ماٹو ہو گیا تها که سوائے تلونڈی کے جاٹ چیموں کے دنیا کےکسی بهی ملک نسل اور رنگ کا بنده ہمارے گهر پر آکر مدد کے لیے کہے میں اس کی مدد کروں گا ـ
عبدالرحمن
غالباً انیس سو اکانوے کی بات ہے که ہمارے دوستوں ميں ایک حافظ صاحب هوا کرتے تهے ـ یه حافظ صاحب گوجرانواله کے سنیارے تهے ـ
ایک دن حافظ صاحب ایک جوان لڑکے کو لے کر آکئے که یه لڑکا نیا آیا هے اور اس کا جاننے والا کوئی نہیں هے ـ
اس لئے اس کو کام پر لگوائیں اور ہر ضروری مدد کریں ـ
یه لڑکا تها عبدالرحمن اور اس تعلق ہے کوٹله ارب علی خان سے عبدالرحمن کی طبیت بہت هی ملنسار تهی اس ليے یه ہم میں کچھ ذیاده هی گهل مل گیا ـ
عبدلرحمان کے کام کا جہاں انتظام ہوا وه جگه ہمارے گهر سے سینکڑں کلومیٹر دور تهی مگر عبدلرحمان ہر چُھٹی پر آ جایا کرتا تهاـ
آج جب میں باره سال گے بعد اس ملک میں رہنے کے لیے آیا هوں تو عبدلرحمان اور شہزاد احمد گوگا اس پوزیشن میں ہے که میری اس سے زیاده مدد کرسکے جتنی که ہم کیا کرتے تهے ـ
اور عبدلرحمان کر بهی رہا هے ـ
گوگا
اصل میں عبدلرحمان رہتا هے گوگے لوہار کے ساتھ
شہزاد احمد بهٹی عرف گوگا لوہار تلونڈی کا ہے اور ہمارا پڑوسی بهی هے ـ ہمارے گهر اور ان کے گهرکی دیوار بهی ساتھ جُڑی هوتی اگر درمیان میں مرزائیوں کی مسجد نه هوتی ـ
پچهلی تین نسلوں سے گوکے اور ہمارے خاندان کے تعلقات کچھ اس طرح سے اچهے هیں که ہم ایک هی برادری کے لگتے هیں ـ
گوگا بهی ہمارا آپناهونے کی وجه سے ہمارے پاس هی اباراکی والے گهر میں جاپان آیا تهاـ
میں نے جاپان میں رہنا تو چهوڑ دیا تها مگر آنا جانا لگا رہتا تها ـ
جب تک گوگا اباراکی میں رها ملاقات هوتی رہی پهر بعد میں گوگے نے اباراکی کو چهوڑ کر ائی چی کیں کے شہر ناگویا میں رہائیش لے لی ـ
جو که اباراکی کے شہر کوگا سے چار سو کلومیٹر دور ہے ـ
میں گوکے اور عبدلرحمان کو ملنے کے لئے ناگویا آیا هوا هوں ـ
عامر گورایه
یہیں عامر گورایا سے بهی ملاقات هو گئی عامر گورایا کے ننهیال ہمارے گاؤں میں هیں ـ
یه سب صاحبان جاپان میں اپنے اپنے کاروبار کر رہے هیں ـ
اقتصادی طور پر مضبوط هیں اور خود اعتماد بهی ـ

ہفتہ، 24 فروری، 2007

چوری کی خبر

یقین کریں که یه مذاق نہیں هے ـ میں نے واقعی خبروں ميں دیکها ہے ـ اج تقریباً چار بچے کی بات ہے که ظہیر بٹ کے حلال فوڈ پر ٹی وی دیکھ رہے تهے ـ اور بهی چار آدمی بیٹهے تهے که اباراکی کین کا نام سن کر میرے کان کهڑے هوئے ـ
اور خبر تهی که اباراکی میں ٹوٹنیاں چوری کی وارداتیں پانچ سینٹی چوڑی اور چھ سینٹی لمبی پیتل کی ٹوٹنیاں چوری کی وارداتیں اب تک چھ عدد ٹوٹنیاں چوری هو چکی هیں ـ
پولیس کے خیال میں پیتل چوری کر کے بیچنے والے چور کام ہے اور اس نظریه کے ساتھ تفتیش شروع کردی گئي هے ـ
کهیتوں میں کہیں کہیں جہاں تهوڑے پانی کی ضرورت ہوتی هے وہاں پاکستان والےشہری واٹر سپلائی سسٹم کی طرح زمین دوز پائپ لا کر اس کے آگے ٹوٹنی لگا دی جاتی هے ـ
میں ساتھ ساتھ اس خبر کا ترجمه کر کے دوسرے ساتهیوں کو سنا رہا تها اور ان سب دوستوں کے ہاسے نکل رہے تهے ـ
یارو کیا یه کوئی ہنسنے والی بات ہے؟
خاص طور پر ہم پاکستانیوں کو اس بات پر ہنسنے کا کوئی حق ہے کیا؟
ہمارے ملک میں قتل کی خبر جیسی بڑی خبرکو بهی ٹی وی پر کوریج نهیں ملتی ـ
جہاں پورا ملک مشرقی پاکستان چوری ہونے پر بهی چوکیدار کوئی شرمندگی محسوس نهیں کرتا ـ
اور ایک ملک یه جاپان ہے که جہاں ٹوٹنی کی چوری کی بهی کسی کو ذمه داری محسوس هوتی ہو اور میڈیا میں اس بات کو کوریج دی جاتی ہے ـ
جاپان کی روز مرّه کی زندگی کے متعلق باہر کی دنیا میں زیاده نہیں بتایا جاتا ـ
اصل میں آج کا دور انگلش کا دور ہے انگریزی بولنے والے کسی ملک کے کسی گاؤں کا واقعه بهی انٹرنیشنل خبر بن جاتا ہے ـ لیکن فرانس یا جاپان جیسے ترقی یافته ممالک کی اہم خبریں بهی باہر نہیں نکلتی یا میڈیا کے جائنٹ صرف انگلش والے ممالک کو هی اجاگر کرنا چاهتے هیں ـ
یا
میڈیا ہے هی انگلش بولنے والے ملکوں کا؟
جاپان اتنا پُر امن ملک ہے که وارداتیں نه هونے کے برابر هیں ـ
میڈیا اور پولیس ہر بات پر توجه دیتی هے ـ
مگر علمدار شاھ کی موت کو جاپان کی پولیس اور میڈیا نے کیوں نظر انداز کیا ؟
ہے ناں حیرانی کی بات ؟
علمدار کی موت کا واقعه 2001ء کا هے ـ
میں واقعے سے آگاه تو پہلے بهی تها مگر اس کی تفاصیل مجهے پچهلے دنوں ملی تهیں ـ
مرزا صاحب کی زبانی ـ

جمعہ، 23 فروری، 2007

شہزادی آیی کو ساما

ہر چیز پهر سے بنانی پڑ گئی ہے ـ
ایک پرانا ٹی وی بهی مل گیا هے ـ سپر مارکیٹ کی ٹوکری اُلٹی کر کے اس کو میز کے طور پر ٹیلی وژن کو اس کے اوپر رکها هے ـ ریموٹ کنٹرول نہیں هے اس کا بعد میں کچھ کریں گے ـ کل موبائل فون بهی لے لیا هے ـ فون کے بغیر ایسا لگ رہا تها جیسے دنیا سے کٹے هوئے هوں ـ
آج ٹی وی دیکهتے هوئے پته چلا که جاپان کی شہزادی آئی کو ساما کی سالگره هے ـ
Princes
دنیا میں پرانی ترین شہنشاہیت کی یه شہزادی هو سکتا هے که آنے والے وقت میں جاپان کی مالک هو ـ
جی ہاں جاپان کے آیین میں شہنشاھ جاپان کی ساری زمین اور پہاڑ سمندوں کا مالک هوتا هے ـ
مگر یه زمین لوگوں کو مالکانه حقوق پر دی گئي هے جس کو لوگ بیچ اور خرید سکتے هیں کسی کو دے سکتے هیں منتقل کرسکتے هیں مگر مالکیت شہنشاھ کی ہے ـ
دوسری جنگ عظیم میں ہارنے تک جاپان کا شہنشاھ خدا مانا جاتا تها ـ اور شہنشاه شووا کو جنگی جرائم کا مجرم گردانا گیا تها ـ مگر امریکی جنرل نے آپنی حکومت کو بتایا تها که شہنشاه کی موت کبهی نه ختم هونے والی جنگ کا موجب بنے گی اس لیے شہنشاھ معظم سے یه الزام ہٹا دیا گیا مگر ان کو خدائی کے دعوے سے دستبردار هونے کا کہا گیا ـ
جی ہاں یه امریکه کا کام هی تها که اس نے توحید کے لیے کام کیا ـ
مگر اب بهی ایک اکثریت شہنشاھ کو خدا مانتی هے ـ
اور یه اکثریت بہت طاقتور بهی ہے ـ
اور جو لوگ شہنشاھ کو خدا نہیں مانتے وه بهی شہنشاھ کےحماتی هیں ـ
شہزادی آئی کو ساما جن کی آج سالگره ہے ولی عہد نارو ہیتو ساما کی بیٹی هیں ـ
ولی عہد نارو ہیتو ساما اور شہزادی ماساکو ساما کی جب شادی هوئی تهی تو میں جاپان میں هی تها بڑی دهوم دهام سے هونے والی اس شادی پر محدود تعداد میں یادگاری سکّے بهی جاری کئے گے تهے ـ
پانچ سو ین اور پانچ ہزار ین والے یه سکے میں نے بهی خریدے تهے ـ پانچ ہزار والے سکے چاندی کے تهے ـ اب مجهے یاد نہیں ہے که وه سکے کہاں هیں لیکن گمان غالب پاکستان میں گهر پر هوں گے ـ
شہزادی ماساکو ساما ولی عہد نارو ہیتو ساما کی بیوی ایک سفارت کار کی بیٹی هیں ـاور ہارورڈ یونیورسٹی کو تعلیم یافته انگلش روسی اور جرمن زبانیں بول سکتی هیں ـ
2princes
انتہائی پُر وقار اور ذهین ماساکو ساما ایک انتہائی خوبصورت عورت هیں ـ
میں ان دنوں جاپانی دوستوں سے کہا کرتا تها که ماساکو ساما کی رائل فیملی میں شمولیت ملک جاپان کا ایک پوانٹ آپ هونے والی بات هے ـ
ولی عہد کے چهوٹے بهائی اکشی نومیا ساما کے گهر پچهلے دنوں شہزاده پیدا ہوا هے ـ

Jprayel
مگر ولیعہدنارو ہیٹو کے گهر ابهی ولی عہد پیدا نہیں هےـ
ابهی تهوڑا هی زمانه پہلے تک عام جاپانی لوگوں کے لیے رائل فیملی کی زندگی ایک راز هوا کرتی تهی ـ عام لوگ شہنشاھ کی آواز سننے کے بهی حقدار نهیں تهے ـ
شہنشاھ کا فرمایا هوا ایک نقیب لوگوں کو بتایا کرتا تها ـ
آچ بهی کرنسی پر شہنشاھ یا اس کی فیملی کی فوٹو نهیں هوتیں ـ
شائد اس لیے که اس سے معززلوگوں کی توہین هوتی هے ـ
لیکن آج ولی عہد کا تقریباً ایک منٹ کا پیغام باربار دیکهایا جا رها ہے ـ
اور رائل فیملی کے کچھ ویڈیو بهی چل رہے هیںـ
میرے خیال میں یه ایک مثبت تبدلی هے جو لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی هے ـ
شہزادی آئی کو ساما کو سالگره مبارک ـ

جمعرات، 22 فروری، 2007

علمدار شاھ

یہودی اس بات پر بحث نہیں کیا کرتے که ہم دوسرے لوگوں سے مختلف هیں ـ لیکن بتا ضرور دیا کرتے هیں که ہم ابراهیم علیه اسلام کے بچے هیں اور اس ناطے ہم اور تم لوگ ایک جیسے نہیں هیں ـ اس دور میں جب ہم نے ہوش سنبهـالا هے ـ یہودیوں کو مالی لحاظ سے طاقتور پایا هے ـ اور جس طرح ایک امیر آدمی آپنے کسی مزدور کو آگاه کررہا ہو کچھ اس طرح کا انداز ہوتا ہے ـ
تم مانوں یا نه مانو یه ایک روز روشن کی طرح عیاں حقیقت ہے که ہم بنی اسرائیل تم لوگوں جیسے نہیں ہيں ـ پهر ایک پر اعتماد مسکراہٹ کے ساتھ خاموش هو جاتے هیں ـ که اسرائیل کے عظیم تر بیٹے نے تم کو حقیقت بتا دی ہے اوراب فضول بحث نه کرنا ـ
ایک عجیب سا اعتماد ہوتا ہے ان کے لہجے میں که سننے والےکو احساس هوتا ہو که اب یه صاحب آپنے قیمتی الفاظ استعمال نہیں کریں گے ـ
دیوید (داؤد) میرا ایک اچها دوست ہے ہم نے ساتھ قید کاٹی ہے اور اب اس نے ایک کیتهولک عورت کے ساتھ شادی بهی کر لی ہے
اس کی کمیونٹی نے اس کو سیٹ کرنے میں کافی مدد بهی دی ہے ـ دیوید نے کبهی بهی میری انسلٹ نہیں کی مگر وه نسلی طور پر خود کو مجھ سے برتر سمجهتا ہے ـ

ظہیر بٹ کے حلال فوڈ پر دو دن پہلے شام کو ایک ٹیبل پر مرزا صاحب شمس بٹ اور ایوبی صاحب باتیں کر رهے تهے ـ
پہلے تو ان کا موضوع تهااسلام اور رسول اکرم صعلم کی ذات اس لیے میں ان میں نہیں بیٹها که ان صاحبان کے ساتھ بدمزگی نه ہو جائےـ
مگر بعد میں مرزا صاحب نے ایک واقعه شروع کیا
که
اس نے ملنے کا وعده کیا تها اور ملنے بهی نہیں آیا اور فون بهی نہیں اٹها رها تها ـ
دوسرے دن بهی جب یہی حال رہا تو میں نے ملک کو فون کیا که کیا تمہارا اُس کے ساتھ رابطه هوا ہے ؟
تو ملک کہنے لگا که یار وه فون نہیں اُٹها رها
تو میں نے کہا که وه اکیلا رہتا ہے کہیں مر هی ناں گیا هو ـ

یہاں تک سنتے هی میں نے مرزا صاحب کی بات کو ٹوک کر پوچها که کس کی بات کر رہے هیں ؟
مرزا صاحب نے بتایا
علمدار شاھ کی !ـ
میں علمدار شاھ کو جانتا تها مجھ سے دو چار سال چهوٹا هو گا علمدار شاه کا تعلق سیالکوٹ کے کسی گاؤں سے تها یا هو سکتا ہے که شہر سے هی هو مجهے یاد نہیں ـ
رضا شاھ محسن شاھ اور طاہر شاھ اور ان گو ساتھ ایک ککے زئی لڑکا ملک خالد هوا کرتا تها ـ
طاہره نقوی نام کی ایک اداکاره هوا کرتی تهی جو که عرصه هوا وفات پاچکیں هیں یه طاہر شاھ ان کا بهائی تها مگر اس بات کو چهپاتا تهاـ مگر ان کے قریبی رشتے دار محسن اور رضا نے مجهے یه بتایا تها ـ
میرے ان شاھ صاحبان محسن اور رضا کے ساتھ اچهے تعلقات تهے ـ
علمدار شاھ ان شاھ صاحبان کا کزن تها اور رشتے میں ان سے چهوٹا تها ـ
علمدار مجهے بهی اپنے بڑے بهائیوں کا دوست هونے کے ناطے پاء جی هی کہا کرتا تها ـ
بڑا بیبا سا لڑکا تها جی آپنا یه علمدار شاه ـ
پچهلے دنوں جب میںپاکستان گیا تها تو ننها جی نے بتایا تها که علمدار شاھ جاپان میں فوت ہوگیا تها اور اس کی لاش اپس آئی تهی ـ
اس وقت میں یه سمجها تها که علمدار شاھ اتنا محنتی نہں تها اس لیے شائد بے روزگاری کی پریشانیوں نے اس کو اس حال تک پہنچایا ہو ـ
لیکن ننها جی نے بتیا که ان دنوں اس کا کاروبار اچها چل رہا تهاـ
اور پیپر میرج کر کے کچھ هی دن پہلے اس کو ویزه بهی ملا تها ـ

بہرحالمرزا صاحب کے منه سے علمدار کا نام سن کر میری بهی دلچسپی بڑه گئی ـ
مرزا صاحب کہنے لگے
که ملک نے پہلے تو میری بات کو مذاق میں اڑانے کی کوشش کی مگر شام تک وه بهی پریشان هو گیا که واقعی کہیں علمدار کے ساتھ کو بات نه هو گئی هو ـ
ہم نے علمدار کے مالک مکان سوزوکی کو فون کیا تو اس کا فون بند تها ـ
ہم سوزوکی کی دوکان پر پہنچے تو پته چلا که سوزوکی دوکان چهوڑ چکا هے ـ
ہم نے اس کو ڈهونڈنا شروع کیا تو اس کی بیوی کے فون نمبر کا پته چلا اس پر بات کر کے ہم نے سوزوکی سے مکان کی چابی کا پوچها تو اس نے آئیں بائیں کرنا شروع کر دیاـ
مگر ہم بهی جان چهوڑنے والے نہیں تهےکیونکه مجهے معلوم تها که علمدار شاھ کے اس شخص سوزوکی کے ساتھ کافی لین دین تهےـ
ابهی پچهلے دنوں علمدار نے سوزوکی کو تین ملین ین یعنی تیس ہزار ڈالر کمپنی بنانے کے لیے دئے تهے ـ
کمپنی نه بنسکنے کی وجه سے علمدار شاھ اپنے پیسوں کی واپسی کا تقاضا بهی کر رہا تها ـ
میں اور ملک فوراًسوزوکی ک گهر پہنچے اور اس کو گاڑی میں بٹها کر علمدار کے گهر لے گئے ـ
گهر کے سامنے پہنچ کر ملک اور سوزوکی کهڑکیاں ہلا ہلا کر دیکهنے لگے اور میں ایک ٹرائی کے طور پر علمدار کا نمبر ملا کر فون کیا اور کان دروازے کے ساتھ لگا دیے تو مجهے اُوپر کی منزل سے فون کی آواز سنائی دی ـ
میرا شک پکا ہو گیا که علمدار ذنده نہیں ہے ـ
اسوقت تک ملک نے کهڑکی کا طاق کهسکا کر سوزوکی کو اندر داخل کردیا تها ـ
اور سوزوکی بجائے کمري کے جانے کے کچن اور عسلخانے میں چکر لگا رهاہے اور
نهيں ہے ناں ـ
کی تکرار کیے جارهاہے ـ
میں نے بار سے للکارا مارا پاکل آدمی اندر سے دروازه کهول ـ
تو اس نے دروازه کهولا میں اندر داخل هو کر جب دوسری منزل پر جانا چاہا تو سوزوکی کہنے لگا اوپر نه جاؤ اوپر کچھ نهیں مگر جب میں نے سیڑهیوں پر چڑها هی تها که سوزوکی کہنے لگا مر گیا هو گا مرگیا هو گا ـ
اور دوسری منزل سے بدبو کے بهبوکے اُٹھ رہے تهے
میں نے اندر اخل هو کر دیکها تو
علمدار اندر ننگا پڑا تها اور اس کا جسم اس طرح ٹیڑها میڑها پڑا تها جیسے مرنے سے پہلے سٹرگل کرتا رہا هو ـ
پاؤں کی طرف ہیٹر بهی چل رہا تها ـ
اور اس کا عضو تناسل ایسے گِراهواتها جیسےآپنی جوش کی حالت میں اس سے جان نکال لی گئی هو ـ
اور منه کے پاس خون بکهرا هوا تها ـ

میں نے علمدار کی پیپر میرج کروانو والی عورت کو فون کیا اور میں نے ابهی اتنا هی پوچها که کیا آپ شاھ کو جانتی هیں ؟
تو وه کہنے لگی میں آرهي هوں ـ
اور کچھ هی وقت میں پينچ گئی اور آتے هی مجهے کہنے لگی میں نے کچھ نہیں گیا میں نے کچھ نہیں گیا ـ
میرے پاس علمدار کے کچھ پیسے اور چیزیں پڑی هیں میں ہر چیز واپس کردوں گی ـ

علمدار کی لاش اکڑ چکی تهی اس کو مرے هوئے تین دن هو چکے تهے ـ
ہم پاکستانیوں نے اس کا پوسٹ مارٹم نه کروانے کا فیصله کیا اور پولیس بهی مان گئی ـ
میت کو غسل بهی میں نے دیا اور غسل دیتے هوئے هی اس کا ایک بازو ٹوٹ گیا تها ـ
میت کو تابوت میں بند کرنا بهی بہت مشکل هوا تها ـ
علمدار کی فیملی کو فون پر اس بات کی اطلاع بهی میں نے دی تهی ـاس کی ماں کا دکھ سنا نہیں جاتا تها ـ
یه سارے معاملے نپٹا کر اور میت کو پاکستان بهیج کر جب میں نے پیپر میرج کروانے والی اس عورت جس کے ساتھ که علمدار کے جسمانی تعلقات بهی تهے کو علمدار کی چیزوں اور پیسوں کا پوچها تو وه بلکل هي مکر گئی ایسی تو کوئی بهی چیز اس کے پاس نهیں هے ـ
مرزاصاحب کی یه ساری باتیں سن کر میں نے ان کو کہا که آپ سب نے علمدار کا پوسٹ مارٹم نه کروا کر سخت غلطی کی هے ـ
اس دن میں خود ساری رات سو نہیں سکا ـ علمدار کی موت کے دکھ سے بهی اور دنیا کی بے ثباتی سے بهی اور میں خود کتنے هی عرصے سے اجنبی ملکوں میں اکیلا هی پهرتا رها هوں اور اکیلا هی رہتا رها هوں ـ
اگر میرے ساتھ ایسا کچھ هو گیا تو کیا هو گا ؟
علمدار کے لیے مغفرت کی دعا ضرور کریں ـ

منگل، 20 فروری، 2007

حالات کی باتیں

معاملات کچھ زیاده هی سلو موشن میں چل رہے هیں ـ وه ناامیدی کی کیفیت نہیں ہے جو که فرانس میں طاری هو جایا کرتی تهی ـ حالانکه مجهے فرانس میں اس ملک کے شہریوں جیسے حقوق حاصل تهے ـ
چهیناجهپٹی اور نفسا نسی كا عالم تو یہاں جاپان كے میں رہنے والے پاكستانیوں میں بهی پایا جاتا هے مگر فرانس كی نسبت كچھ بہتر هےـ
اعلی ترین اخلاقی اصول وں کو یہاں اتنا بهی بیوقوف نہیں بنایا جاتا آدمی کا اخلاقیات سے اعتبار هی اٹھ جائے ـ
یہاں سڑکوں کی پوزیشن ہمارے پنجاب کی دیہاتی کچی سڑکوں جن کو پنجابی میں پہـ یا پہیا کہتے هیں کی رح هے مگر ہمارے پہـ کچے هوتے مگر اِن کے پہـ کولتار سے بنے هوئے هوتے هیں ـ
سڑکوں کی تقسیم میں پہلی قسم اتی هے ''کک دور'' وفاقی حکومت کی بنائی هوئی سڑک جن میں موٹر وے اور وه سڑکیں شامل هیں جو کتنے هی '' کینوں '' یعنی پرفیکچروں میں سے گزرتی هیں ـ
یه سڑکیں بڑی اور کهلی ہوتیں هیں ـ
اس کے بعد هوتی هیں ''کین دور '' یعنی فرفیکچر کی بنائی هوئی ـ
یه بهی بڑی اور کهلی هوتی هیں اور اس فرفیکچر کی حدوں تک هی هوتی هیں ـ
اس کے بعد آتی هیں شہری سڑکیں اور اس کے بعد دیہاتی سڑکیں میں نے آپنی پچهلی پوسٹ میں جو سڑکوں کے تنگ هونے کا لکها تها وه ان دیہاتی سڑکوں کے متعلق تها ـ
کیونکه اب میں نے جہاں رہائیش اختیار کی هے یه ایک دیہاتی علاقه هے ـ
پینڈو تو ہم پاکستان میں بهی تهے اور یہاں بهی پینڈو بن گئے هیں میری فرانس میں ناکامی کی وجه بهی شائد یہی تهی که مجهے بڑے شہروں مں رہنا نہیں آیا ـ
قدیر احمد رانا صاحب نے پوچها تها
که می یو کی کون هے ـ
می یو کی میری بیوی هے ہم تقریباً پندره سال سے اکٹهے هیں ـ فرانس میں بهی هم 99 سے 2001 کے آخر تک فرانس میں رہائیش پذیر تهے که مجهے جیل هوگئی اور می یو کی کو میں نے میکے بهیج دیا تها ـ
مییوکی کا دولتمند باپ میرے خلاف هے اس نے مییوکی کو تقریباً ایک ملین ڈالر کے کیپیٹل کی کمپنی بنا دی که اس طرح مییوکی کو احساس ذمه داری جاپان سے باہر نہیں جانے دے گا ـ
اس کا اندازه ٹهیک هے یا نہیں اس بات سے قطع نظر ہم نے فیصله کیا که جاپان میں رهائیش هی ہمارے لیے بہتر هے ـ
آگر آپ میرے بلاگ کے پرانے پڑهنے والے هیں تو آپ کو میری پرانی پوسٹوں میں کہیں کہیں می یو کی کا ذکر ملے گا ـ
یہاں اباراکی کین میں ایک شہر هي کوگا کچھ سال بہلے اس شہر کے قریبی دیہات سُووا ماچی اور سانوا ماچی کو بهی اس شہر میں شامل کر کے ان کا نام بهی کوگا شہر رکھ دیا گیا هے ـ

کوگا کے سووا ماچی والے علاقے میں ظہیر بٹ کا حلال فوڈ سٹور هے ـ
ظہیر بٹ کا بڑا بهائی مطیع اللّه بٹ ، میرے پہلے جاپان والے دور میں میرا دوست هوا کرتا تها ـ
اس لئے ظہیر کے بڑے بهائی کی دوستی کی وجه سے میں ظهیر کے حلال فوڈ سٹور پرتقریباً روزانه هی جاتا هوں اور یہیں سے انٹر نیٹ کا ایکسیس بهی مل جاتا هے ـ
مختلف لوگوں سے ملاقاتیں بهی هو جاتی هیں اور مستقبل کے کاروبار کرنے کے آییڈیا بهی ـ
دفعتاً فوقتاً اس حلال فوڈ پر ملنے والے اصحاب کا ذکر بهی هوتا رہے گا اور ان کے نظریات کا بهی ـ
مسٹر بدتمیز کے سوال جس میں انہوں نے پوچها تها که پانی کو جذب کرنے والی جاپانی سڑکوں کی تکنیک کیا هے کا جواب ابهی مجهے بهی حاصل نهیں هوا ـ
کسی پروفیشنل سے ملنے کے بعد اس پر بهی تفصیل سے لکهوں گا ـ
انشاء اللّه ـ

ہفتہ، 17 فروری، 2007

تقابل

بہت سی باتوںميں فرانس اور جاپان دو انتہاؤں کی مثال هیں ـ
ایک اگر مغرب میں هے تو دوسرا مشرق میں ـ پیرس ایک رونق والا پُر ہجوم شہر اور اب میں جس شہر میں بسا ہوں انسان نظر هی نہیں آتے ـ
دریا کے دوسری طرف کوگا شہر ميں پهر بهی آدمی چلتے پهرتے نظر آتے هیں لیکن دریا کو اس طرف اس آبادی کا نام ہے کهیتا کاوابےٹاؤن ـ جو نام کا هی گاؤں ہے اس میں شہروں جیسی رونق کہاں ـ
مسٹر آکاایوا(یه صاحب دریا کے دوسری طرف کوگا شہر میں رہتے هیں) کہـ رها تها که ہمارے شہر ميں سائیکل پر یا تو غیر ملکی نظر آتے هیں یا پهر سکول کے بچے ـ
اور پیدل چلتا هوا ہوا آدمی یا ذہنی مریض هو گا یا سیر کو نکلا هوا کوئی انتہائی بوڑها (جاپان ميں انتہائی بوڑهے کا مطلب ہے سوسال کی عمر سے دوچار سال بڑا یا چهوٹا)آدمی ـ
میرا پاسپورٹ اور انٹرنیشنل ڈرئیونگ لائسنس می یو کی کے بیگ میں تها اور کل شام جب وه میکے گئی تو میری چیزیں بهی اس کے ساتھ چلی گئیں اس لئے میں گهر پر هی رها که باہر کہیں کسی اسٹیشن پر پولیس والے هی نه روک لیں ـ
لیکن نزدیکی سپر مارکیٹ تک جانے کے لیے نکلا تو سڑک پر گاڑیاں تو آ جا رہیں تهیں مگر انسان کوئی بهی نظر نہیں آ رهاتها ـ
ایک تو ان جاپانی لوگوں ميں ہمارا چہره هی علیحده نظر آتا ہے اور دوسرا پیدل چلنا ، ایسا لگتا هے که سارے گاڑیوں والے مجهے هی دیکھ رہے هیں ـ
سپر مارکیٹ تک کے تقریباَ ایک کلومیٹر کے فاصلے میں مجهے ایک بهی پیدل آدمی نظر نہیں آیا ـ
وہاں پیرس میں کهوے سے کهوا چهلتا ہے اور یہاں کهیتوں کے درمیان میں پگڈنڈی سے تهوڑی هی بڑی سڑک پردور دور تک کوئی نظر نہیں آتا ـ
پیرس ميں ہر آدمی بیزار سا نظر اتا تها اور یہاں ہر آدمی مطمعن سا ـ
وهاں ہر آدمی خوف زده اور یہاں ہر آدمی خود اعتماد سا ـ
میں اتنا عرصه فرانس میں رها هوں مگر فرانسیسی نهيں دیکهے
اور یہاں جاپان میں ایمگرینٹ نظر نہیں آتے ـ
ایک اندازے کے مطابق جاپان ميں پاکستانیوں کی تعداد نوہزار کے قریب هے ـ
مگر فرانس میں عید کی نماز میں کسی ایک عیدگاھ میں دس ہزار اکٹهے هو جاتے هیں ـ
فرانس آرٹ مصوّری کا ملک ہے فرانس میں ہر چیز خوبصورتی سے ڈیزائین کی جاتی هے اور جاپان میں انسانوں کی سہولت کے لیے ڈیزائین کی جاتی هیں اس لیے فرانس جیسی خوبصورتی نہیں هوتی ـ
فرانسکی عمارتیں پُر شکوه هیں اور دیکهنے والے پر ایک اچها تاثر چهوڑتی هیں
اور جاپان کی عمارتیں نازک اور کاغذی سی لگتی هیں مگر زلزله پروف هوتی هیں ـ
فرانسیسی روایتی کهانوں میں خنزیر کی بهرمار هوتی هے اور جگه جگه گندے جانور کے ماس کی فروخت کی دوکانیں هیں ـ
اور جاپان کے کهانوں میں سمندری جانوروں اور جڑی بوٹیوں کی بهر مار هوتی هے ـ
اور جگه جگه مچهلیاں فروخت هو رہی هیں ـ
اہل قران کے لیے اس ملک جاپان میں کهانےکے مسائل نه هونے کے برابر هیں ـ
فرانس کے دیہاتی علاقے میں بهی چهوٹی سے چهوٹی سڑک بهی اتنی کهلی هوتي هے که دو گاڑیاں آسانی سے گذر سکتی هیں ـ
مگر جاپان میں اتنی تنگ که آگر ایک گاڑی کهڑی هو کر دوسری کو راسته نه دے تو گاڑیاں ٹکرا جائیں ـ مگر جاپان میں ایک دوسرے کے لیے راسته چهوڑنے کا رجحان پایا جاتا ہے ـ

بہرحال ، آپنی روزی روٹی کے لیے
میں نے ٹائروں کے کام کا سوچا هے یہاں کباڑیوں سے المینیم کے ریموں والے ٹائر خرید کر اس کا الومینیم اور ٹائر علیحده کیا کروں گا ـ
اس کے بعد ان دونوں چیزوں کو علیحده علیحده بیچ دیا کروں گا ـ
جب تهوڑا سا تجربه هو جائے گا تو خود سے ایکسپورٹ کرنے لگوں گا ـ
ان چیزوں کی ایکسپورٹ کی منڈی هے دبئی
آهسته اہسته راستے بنتے جائیں گے که اللّه جی کے گهر سے بہتری کی هی امید هے ـ
اللّه سائیں آپنی پناه میں رکهے حاسدوں کے حسد سے ـ
میرے کاروبار میں برکت دے اور مصائب سے محفوظ رکهےـ
آمین
کچھ کمائی انے لگے گی تو آپنے دومین نیم کا بهی کچھ کرتے هیں خواہش تو یه ہے که آپنے سرور کا هی انتظام کر لیں اور خالصتاَ اردو میں بننے والی سائیٹوں کو پرموٹ کیا جائےـ

لطیفے

دونوں بازوں سے محروم ایک شخص شربت والے کی دوکان میں داخل ہوتا هے ـ
اور ایک گلاس شربت صندل برف اور تخم لنگاں کے ساتھ آرڈر کرتا هے ـ
شربت تیار هو کر آتا هے تو گاہک درخواست کرتا هے که
کیا آپ اس گلاس کو میرے منه سے لگا کر پلانے کی زحمت فرمائیں گے؟
دوکاندار شائستگي سے ، کیوں نہیں جی کہتے هوئے گلاس گاہک کے منه کو لگاتا هے ـ
میری سامنے والی جیب سـے رومال نکال کر کیا آپ میرے ہونٹ بهی صاف کرنے کی زحمت فرمائیں گے؟
گاہک کی دوسری درخواست بهی دوکاندار شائستگي سے پوری کرتا هے ـ
میري سائڈ والی جیب سے پیسے نکال لیں اور میري ایک اور مدد کریں کیا میں آپ کا ٹوائلیٹ استعمال کر لوں ؟
دوکان دار پیسے نکالتے هوئے
گاہک سے کہتا هے جی ہماری دوکان میں ٹوائلیٹ تو هے هی نہیں آپ باہر نکل کر سیدهے ہاتھ چلتے جائیں آگے ایک پیٹرول پمپ آئے گا وہاں ٹوایلیٹ ہے ـ

کہیں کسی بار میں بش اور پاؤل بیٹهے پینے کا شغل کررہے تهے که ان کا ایک بے تکلف دوست داخل هوتا هےـ
بش اور پاؤل سے پوچهتا هے
سناؤ یارو کیا پلان بن رہے هیں ؟
ہم تیسری جنگ عظیم کا پلان بنا رہے هیں اور ہم نے فیصله کیا هے که ڈیڑه کروڑ افغان اور ایک کمہار کو قتل کر دیـں ـ
بش اور پاؤل کا دوست حیرانی سے پوچهتا ہے
ایک کمہار کا قتل چه معنی؟
بش پاؤل سے مخاطب هو کر کہتا ہے
دیکھ لومیں نه کہتا تها دیڑه کروڑ افغانوں کی کسی کو پروه نہیں هے ـ

عرصے بعد پردیس سے پلٹنے والاایک دیسی ،
آپنے جهارے سے پوچهتا هے که یار یہاں ڈرائیونگ کرنے کے لیے کوئی خصوصی ہدایات هوں تو مجهے بهی بتاؤ که میں کہیں حادثه نه کر لوں ـ
جهارا اسے بتاتا هے که حالات بہت بدل گئے هیں اس لیے آگر تم سامنے سے بس کو آتے دیکهو تو گاڑی کو سڑک سے اتار کر اس کو گزرنے دو
اور اگر ٹرک آ رها هو تو گاڑی کو سڑک سے اتار کر کهڑی کر لو اور ٹرک کو گذرنے دو ـ
اور اگر فوجی گاڑی دیکھ لو تو گاڑی کو سڑک سے اتار کر کهڑی کرو اور اس سے اتر کر کسی درخت پر چڑھ جاؤ ـ

ہفتہ، 10 فروری، 2007

یه جاپان ہے

یه جاپان هے
تکنیک ہنر
اور نظم کا ملک ـ
اس ملک میں اگر آپ لائین میں لگے هیں تو آپ کی باری آ هی جائے گي ـ آگر آپ کا حق بنتا هے تو کوئی بهی اس میں روکاوٹ نہیں ڈالے گا ـ بلکه آپ کی سپورٹ کی جائے گی
رواداری کا ملک اگر آپ کسی گلی میں تیز چل رہے هیں تو آگے والے آپ کو خود بخود راسته دینے لگیں گے ـ
ایک عجیب سی کیفیت هوتي هے جس کا روکاوٹیں ڈالنے والے معاشرے میں تصور بهی نہیں کیا جاسکتا ـ
ہاں پچاس سے اوپر کے پاکستانیوں کو شائد یاد ہو که ہمارے ہاں بهی دوسروں کے دکھ درد میں شامل هونے کا رواج هوا کرتا تها ـ
قتل کی خبر کو میڈیا میں بہت کوریج دی جاتی هے کتنا عرصه هی سارے چینل اس خبر کو دهراتے رهتے هیں ـ
ہمارے یہاں قتل جیسی معمولی خبر کو ٹیلی وژن پر نشر هی نہیں کیا جاتا
ہمارے یہاں تو جس کو خبر نامه کہتے هیں اس کو تو ''فرمودات'' کا نام دے دینا چاهیے ـ

کین کہتے هیں جاپانی زبان میں ایک انتظامی ڈویژن کو اور میں نے جس شہر کوگا میں آپنا جوانی کا وقت گذارا هے یه واقع ہے اباراکی کین میں ـ
اس شہر کے مغرب سے ایک دریا گذرتا ہے اس کو واتاراسے دریا کہتے هیں نیم دائرے میں یه دریا شہر کے جنوب میں تهونے دریا میں مل جاتا هے اور یه دونوں دریا تهونے دریا کہلواتے هیں ـ
واتاراسے دریا کے دوسری طرف سایتاما کین اور گنما کین کی سرحدیں آ کر ملتی هیں ـ
یہاں ایک پل هے جس کو می کو نی باشی یعنی تین ملکوں کا پُل کہتے هیں ـ
یه بڑا تنگ سا بل هوا کرتا تها اس پر صبح اور شام کو ٹریفک جام هوجاتا تها ـ
جاپانی حکومت نے اس پل سے تقریباَ ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ایک اور پل بنا دیا هے ـ
اس کو نیا تین ملکوں کا پل کہتے هیں ـ
شین می کونی باشی

اج شام سے بارش هو رهی تهی مگر
کئی وجوه کی بنا پر مجهے اس پڑوسی کین سایتاما میں رہائش کی ضرورت هے ـ
آج شام ایک پراپرٹی ایجنٹ کے ساتھ ملاقات تهی اس کو مل کر واپسی پر جب اس پل پر چڑهنے لگے تو می یو کی جو که ڈرائوینگ کر رہی تهی اس نے پوچها
کیا آپ نے محسوس کیا ہے که یہاں سڑک تهوڑی مختلف تهی ؟
میں نے کہا که نہیں
تو اس نے بتایا که اب یہاں جاپان میں بننے والی نئی سڑکیں ایک نئی تکنیک سے بن رهی هیں ـ
جس پر بارش کا پانی فوراَ جذب هو جاتا هے
اس سے بارش کی پهسلن کے حادثات کی روک تهام هوتی هے ـ
اور گاڑی شور بهی نہیں کر تی جو که بارش کے پانی اور ٹائروں کے ٹکراؤ سے بنتا هے ـ

بات تو بڑی چهوٹی سی هے مگر ایک لحاظ سے بہت بڑی بهی
بڑی میرے جیسے ایسے ملک کے باشندے کے لیے جہاں اگرسڑک بن جائے تو یه هی بڑی بات ہے اور اس پر بهی سڑک سے زیاده مضبوط عوامی نمائنده هونے کے دعوے دار کے نام کی تختی هوتی هے ـ
اور علاقے کے لوگوں پر اس بات کا احسان بار بار جتلایا جاتا ہو که هم نے تمہیں سڑک بنا کردی هے
همارے شکر گزار بنو اور پهر اس کی مرمت میں دیر کرکے اور دهول اٹها اٹها کر لوگوں کو ان کی اوقات یاد دلوائی جاتي هے ـ

جمعہ، 9 فروری، 2007

بایی بایی پیرس

مورخه سات فروری کو میں نے فرانس کو خیر باد کہـ دیا هے ـ اور اب جاپان منتقل هو گیا هوں ـ اب اس ملک کے حالات سے مقابله هو گا ـ بہت سی باتیں جو میں نے آپنے متعلق چهپائی هوئی تهیں ـ ان کو بهی انے والے دنوں میں لکھ دیا جائے گا ـ
ابهی تو میرے پاس انٹر نیٹ کا کنکشن بهی نہیں هے ـ اور هو سکتا ہے کئی دن یا ہفتے کچھ بهی نه لکھ سکوں ـ
میں نے اپني اب تک کی زندگی کا بد ترین وقت جو کزارا ہے وه تها فرانس کا قیام ـ
میں کوئی امیر خاندان کا چشم چراغ نہیں هوں مگر میں نے غریبی آگر دیکهی هے تو فرانس میں ـ
میں نے بہت بڑا جرم کیا که اس ملک فرانس کی زبان نه سیکهی اور اس کی سزا میں نے یه پائی که مجهے کتنے هی لوگوں نے استعمال کیا ـ
بحرحال اب میں جاپان میں هوں یہاں کی زبان میں جانتا هوں هاں قانونی قیام ایک مسئله هے اور اب اس کے لئے کوششیں کروں گا ـ
اج میں یہاں ایک ہوٹل میں هوں مگر صبح نو فروری سے میں کسی کے ساتھ منتقل هو جاؤں گا ـ
آپ سب دوستوں سے میرے لئے دعا کرنے کی درخواست ہے ـ
اللّه پاک میری مصیبتیں اور پریشانیاں دور فرمائیں ـ

جمعرات، 1 فروری، 2007

خود کش کیا هے ؟؟

خود کش حمله ؟؟
ہر جگه میڈیا ميں اس لفظ کو اچهالا جا رها ہے ـ
ضیاء صاحب کے دور میں اس کو بم دهماکه کہتے تهے ـ اس کے بعد اس کانام تخزیب کاری رکها گیا ـ
کچھ دن دہشت گردی اور اب خودکش ـ
یه الفاظ کس فیکٹری سے دهل کر نکلتے هیں جی !؟؟
کیا اس فیکٹری کام پاکستانیوں کو گمراه کرنے والے الفاظ بنانے کا هی ره گیا هے ؟
پچهلی تین دهائوں سے یه بم دهماکے هو رہے هیں لیکن ہماری قوم ان کے متعلق کتنا جانتی هے ؟
میرے ذہن میں جو سوال پیدا هوتے هیں
که
اب تک چلنے والے سارے بموں میں کو سا مواد استعمال کیا گیا ـ
اگر یه مواد مختلف بموں میں مختلف تها تو تو بهی دهماکه خیز مواد کی اقسام محدود هیں
اس لیے کتنے فیصد بموں میں کون سا مواد استعمال هوا ؟
دهماکه خیز مواد بنانے والی فیکٹریاں بهی محدود هیں ان سے یه مواد کس نے حاصل کیا اور کیسے حاصل کیا ؟
یا اگر کهادوں سے بنا بم استعمال هوا تو بهی اس بم کی ترکیب والے بم اب تک کہاں کہاں اور کتنی تعداد میں چل چکے هیں
پاکستان میں کوئی بهی ایک انجمن ایسی نہیں ہو که جو بموں کی تکنیک پر کوئی تحقیق کر سکے اور پرائیویٹ طور پر کوئی نتائج اخذ کر سکے ـ
تو پهر یه کیسے هو سکتا هے که بم بنانے چلانے کی تکینیک پاکستان میں عام هے ؟؟
جس ملک میں سائیکل بنانے کی صعنت نه هو اس ملک کے شہروں ميں سائیکل کا چکا سیدها کرنے کے گاریگر تک نہیں ملتے ـ
تکینکی طور پر انتہائی پسمانده پاکستان جہاں ابهی تک گاڑی کا انجن بنانے کی انڈسڑی تک نہیں ہے
اس ملک کے مکینکوں پر آپ کرنک (انجن کا ایک پرزه) بنانے کا الزم تک بهی نهیں لگا سکتے ـ
پاکستان میں یه بم کہاں سے آ رہے هيں؟
کسی بهی چیز کو بنانے کے لیے ایک پروجیکٹ هوتا هے ـ
جس میں کئی لوگوں سے واسطه پڑتا هے ـ کئی چیزیں خریدنی پڑتی هیں
ان کے لیے پیسوں کی ضرورت هوتی هے
پیسوں کو کمانے کے لیے ایک وکهرا پروجیکٹ هوتا هے ـ
آپ ہانڈی بنانے کا پرجیکٹ هی لیں لیں
صبحسے لے کر شام تک آدمی کام کرکے رقم کا نتظام کرتا هے
پهر اس سے پیاز ٹماٹر لسہن ادرک نمک مرچ ہلدی اور مسالے خریدے جاتے هیں
گوشت یا سبزی یا پهر دالوں کاانتظام هوتا هے
اس کے بعد چولہے کا انتظام پهر آگ جلانے کے لیے ایندهن کا انتظام
ان سب کاموں کے دوران کتنے لوگوں سے کام پڑتا هے ـ
کتنی جگہوں پر جانا پڑتا ہے پهر جا کر ہنڈیا تیار هوتی هے
اور ایک بم هوا سے اترتا هے اور اور ایک خودکش زمین سے پیدا هوتا هو اور کتنے هی لوگ مارے جاتي هیں ـ
کیا عقل بلکل هی گهاس چرنے چلی گئی ہے ؟
پچهلے تیس سالوں میں بم بنانے کے پروسیس کے دوران کوئی بهی کسی کی نظر میں آیاـ
اور خودکش کیا درختوں پر لگتے هیں یا زمین میں اُگتے هیں ؟
خود کش کا خون کا گروپ ڈی این اے فنگر پرینٹ کئی چیزیں هیں گیا یه چیزیں اس خودکش کے خاندان تک نہیں لے کر جا سکتی ؟
ہم نے تو کبهی نہیں پڑها که اس خودکش کا خاندان کیا تها اور ان پر کیا گذر رہی هے ـ یا یه خود کش کن حالات کا شکار تها که خود کو اڑانے پر مجبور هوا یا کیا گیا ـ
یہاں پاکستان میں پورے سسٹم کو اس طرح تباه کردیا گیا هے که کوئی بهی آدمی سکی نتیجے پر نه پہنچ سکے ـ
اوریجنل سوچ کو مار دیا گیا هے ـ
اگر گہا گیا که بنگالی غدار ہے تو ساری قوم نے بنگالی کو غدّار جانا اگر سیاستدانوں کو سقوط ڈهاکه کا الزام دیاگیا تو سب نے اس کو سچ جانا
اب مولوی کو دہشت گرد کہاجا رها هے تو بهی اوریجنل سوچ والے لوگ کم هی هیں ـ

میری بلاگر دوستوں سے درخواست ہے که کم از کم آپ حضرات ان بم دهماکوں کو خودکش نه لکهیں ـ
ہاں اگر آپ پاکستان کو ایک شخص کے طور پر خیال کریں اور اس کو اداروں کو اس کے اعضاء تو یه بم دهماکے خود سوزی کا کیس کہے جا سکتے هیں ـ
خود کو اذیت دینے کی ذہنی بیماری کا شکار مریض جیسے آپنے هی جسم کو چرکے لگایا کرتا هے
اس طرح کی خود سوزی ـ