ہفتہ، 17 فروری، 2007

لطیفے

دونوں بازوں سے محروم ایک شخص شربت والے کی دوکان میں داخل ہوتا هے ـ
اور ایک گلاس شربت صندل برف اور تخم لنگاں کے ساتھ آرڈر کرتا هے ـ
شربت تیار هو کر آتا هے تو گاہک درخواست کرتا هے که
کیا آپ اس گلاس کو میرے منه سے لگا کر پلانے کی زحمت فرمائیں گے؟
دوکاندار شائستگي سے ، کیوں نہیں جی کہتے هوئے گلاس گاہک کے منه کو لگاتا هے ـ
میری سامنے والی جیب سـے رومال نکال کر کیا آپ میرے ہونٹ بهی صاف کرنے کی زحمت فرمائیں گے؟
گاہک کی دوسری درخواست بهی دوکاندار شائستگي سے پوری کرتا هے ـ
میري سائڈ والی جیب سے پیسے نکال لیں اور میري ایک اور مدد کریں کیا میں آپ کا ٹوائلیٹ استعمال کر لوں ؟
دوکان دار پیسے نکالتے هوئے
گاہک سے کہتا هے جی ہماری دوکان میں ٹوائلیٹ تو هے هی نہیں آپ باہر نکل کر سیدهے ہاتھ چلتے جائیں آگے ایک پیٹرول پمپ آئے گا وہاں ٹوایلیٹ ہے ـ

کہیں کسی بار میں بش اور پاؤل بیٹهے پینے کا شغل کررہے تهے که ان کا ایک بے تکلف دوست داخل هوتا هےـ
بش اور پاؤل سے پوچهتا هے
سناؤ یارو کیا پلان بن رہے هیں ؟
ہم تیسری جنگ عظیم کا پلان بنا رہے هیں اور ہم نے فیصله کیا هے که ڈیڑه کروڑ افغان اور ایک کمہار کو قتل کر دیـں ـ
بش اور پاؤل کا دوست حیرانی سے پوچهتا ہے
ایک کمہار کا قتل چه معنی؟
بش پاؤل سے مخاطب هو کر کہتا ہے
دیکھ لومیں نه کہتا تها دیڑه کروڑ افغانوں کی کسی کو پروه نہیں هے ـ

عرصے بعد پردیس سے پلٹنے والاایک دیسی ،
آپنے جهارے سے پوچهتا هے که یار یہاں ڈرائیونگ کرنے کے لیے کوئی خصوصی ہدایات هوں تو مجهے بهی بتاؤ که میں کہیں حادثه نه کر لوں ـ
جهارا اسے بتاتا هے که حالات بہت بدل گئے هیں اس لیے آگر تم سامنے سے بس کو آتے دیکهو تو گاڑی کو سڑک سے اتار کر اس کو گزرنے دو
اور اگر ٹرک آ رها هو تو گاڑی کو سڑک سے اتار کر کهڑی کر لو اور ٹرک کو گذرنے دو ـ
اور اگر فوجی گاڑی دیکھ لو تو گاڑی کو سڑک سے اتار کر کهڑی کرو اور اس سے اتر کر کسی درخت پر چڑھ جاؤ ـ

کوئی تبصرے نہیں: