ہفتہ، 16 جولائی، 2005

گوتم بده

گوتم بده (سدهارتهـ) ـ

اب سے تقریباً 25 سو برس پیشتر قدیم برہمنوں کے عہد کے اختتام پر کوشل کی طاقتور سلطنت کے کچھ مشرق میں ساکیہ کشتری آباد تھے۔ یہ ایک چھوٹی سی قوم تھی۔ سدھوون ان کا راجہ تھا۔ کپل وستو اس کی راجدھانی تھی۔ یہ شہر بنارس سے سو میل کے قریب شمال میں واقع تھا۔ سدھوون بڑا بہادر جنگجو راجہ تھا اور چاہتا تھا کہ میرے بعد میرا بیٹا گوتم بھی ایسا ہی بہادر اور جنگجو ہو۔ اس نے اسے سپہ گری کے سب فن سکھائے مثلاً نیزہ بازی، تیر اندازی اور شمشیر زنی۔ گوتم جب 18 برس کا ہوا تو ایک خوبصورت شہزادی مسماۃ یشورا سے اس کی شادی ہوئی اور شادی کے دس سال بعد ان کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا۔
گوتم (اصلى نام سدهارتهـ)جب پيدا هوا تو نجوميوں نے اس كے باپ كو بتايا تها كه يه بچه پڑا هو كر يا تو بادشاه بنے گا يا پهر سادهو مگر جو بهى بنے گا اس جيسا دنيا ميں كوئى اور نه هو گا اگر بادشاه هوا تو بەت بڑا بادشاه هو گا اور اگر سادهو بنا تو رەتى دنيا تكـ اس كا نام رەے گا ـ
اس لئے اس كے باپ نے اس كو بادشاه بنانے كے لئےاسے سپہ گری کے سب فن سکھائے مگر قدرت نے سدهارتهـ كو سادهوبنانا تهاـ
گوتم بچپن ہی سے غور و فکر اور سوچ بچار میں رہا کرتا تھا۔ زبان کا میٹھا اور دل کا نرم تھا۔ تمام مخلوقات پر ترس کھاتا اور رحم کرتا تھا۔ شکار کو چلا ہے تیر چلے پر چڑھا ہوا ہے شست لگا لی ہے، کچھ کچھ کمان بھی تان لی ہے، مگر دیکھتا ہے کہ بھولا بھالا ہرن بے خبر بے کھٹکے ننھے ننھے دانتوں سے پتلی پتلی گھاس کی پتیاں کھا رہا ہے بس وہیں کمان کو چھوڑ دیا ہے اور فکر میں ڈوبا ہوا ہے! افسوس! اس معصوم جانور نے میرا کیا بگاڑا ہے؟ یہ کسی کو ستاتا ہے جو میں اسے ماروں، ۔ تیر ترکش میں ڈال لیا ہے۔ اور واپس گھر چلا گیا ہے۔ گھڑ دوڑ میں شامل ہے، گھوڑے کو ہوا کر رکھا ہے، اغلب ہے کہ بازی جیتے گا مگر منزل پر پہنچنے سے ذرا پہلے گھوڑے کے ہانپنے اور زور زور سے سانس لینے کی طرف دھیان جا پڑا ہے، بس وہیں رک گیا ہے اور پشیمان ہے افسوس! کیا تفریح کی خاطر اس بے گناہ وفادار جانور کو ایسا ستانا روا ہے؟ تفریح جائے مگر گھوڑے کو دکھ دینا واجب نہیں ہےـ گھڑ دوڑ سے علیحدہ ہے اور گھوڑے کو چمکارتا دلاسا دیتا ایک طرف لے گیا ہے۔
ایک روز بہار کے موسم میں باپ نے کہا کہ آئو باہر چلو، دیکھو درختوں اور کھیتوں پر کیا جوبن چھایا ہوا ہے۔ باپ بیٹا آہستہ آہستہ چلے جاتے تھے جدھر دیکھتے تھے بہار کا عالم تھا۔ باغ ہی باغ نظر آتے تھے۔ کونٹیں چل رہی تھیں۔ زمین پر ہری ہری گھاس کا فرش تھا۔ ہری بھری کھیتیاں لہلہا رہی تھیں۔ درختوں کی شاخیں میوے کے بوجھ سے جھکی جاتی تھیں۔ گوتم اس منظر کو دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ پھر کیا دیکھتا ہے کہ ایک کسان ہل چلا رہا ہے بیل کمزور ہے اس کی پیٹھ پر زخم ہے۔ کسان تک تک کر رہا ہے اور اس کو لکڑی سے مارے چلا جاتا ہے اور بیل ہے کہ بچارا درد کا مارا بیٹھا جاتا ہے۔ پھر کیا دیکھا کہ باز نے کبوتر پر جھپٹا مارا اور اسے کھا گیا۔ آگے بڑھ کر اسی قسم کی ایک اور بات دیکھی۔ ایک کبوتر مکھیوں پر ٹھونگ مارتا ہے اور دانے سے چبا رہا ہے۔ ان سب باتوں نے باغ اور بہار کے تماشے کا مزہ تلخ کر دیا۔ دل میں یہ خیال آیا کہ دنیا ہیچ ہے جی کا بیری جی ہے۔ کیسا تماشا؟ چل اپنے گھر۔
اس کے کچھ دنوں بعد گوتم نے خواب میں دیکھا کہ ایک مرد پیرانہ سال ہے جو بڑھاپے کی کمزوری سے نہ چل سکتا ہے۔ نہ کھڑا ہو سکتا ہے اور کوئی خواب ہی میں گوتم سے کہتا ہے کہ ایک دن تو بھی ایسا ہی بوڑھا اور بے کس ہو جائے گا۔ پھر دیکھا کہ کوئی بیمار ہے درد سے کراہ رہا ہے اور وہی آواز کہ رہی ہے کہ اے گوتم! ایک دن تو بھی بیمار ہوگا اور اسی طرح درد سے کراہے گا۔ پھر دیکھا کہ ایک شخص زمین پر پڑا ہے، موت سے ٹھنڈا ہو چکا ہے اور جسم کے اعضا لکڑی کی طرح سخت ہو چکے ہیں اور وہی آواز کہہ رہی ہے کہ گوتم! ایک دن تجھے بھی مرنا ہے۔
اس کے کچھ عرصے بعد گوتم ماں، باپ، بیوی، بچے، راج پاٹ کو چھوڑ کر گھر سے نکل گیا۔ اب اس کی عمر 30 سال کے قریب تھی۔ اپنے لمبے لمبے بال، جیسے کہ کشتری رکھا کرتے تھے، منڈوا ڈالے۔ محلوں میں جو قیمتی لباس و زیورات پہنا کرتا تھا اتار دئیے اور فقیروں کے سے پھٹے پرانے چیتھڑے پہن لیے۔ سات برس تک بن میں جوگ اختیار کر کے اس فکر و تلاش میں پھرا کہ دنیا میں جو دکھ درد اور گناہ ہے اس سے کس طرح رہائی ہو۔ راجگڑھ کے قریب جو مگدھ کی راجدھانی تھی، جنگل میں دو برہمن عبادت گزار رہتے تھے۔ گوتم ان کے پاس گیا لیکن وہ اس کو دنیا کے غم و اندوہ سے بچنے اور سچی خوشی حاصل کرنے کی راہ نہ بتا سکے۔ پھر پٹنہ سے جنوب کو گیا کے پاس گھنے جنگلوں میں چلا گیا۔ 6 برس برابر تپسیا (بمعنى عبادت) کی، فاقے کئے اور جسم کو مارا۔ آخر معلوم ہوا کہ ابدی خوشی حاصل کرنے کا طریقہ یہ بھی نہیں ہے۔ بدھ گیا کا مندر اس بات کی یادگار ہے کہ یہاں گوتم بدھ نے 6 برس تپسیا کی تھی۔
آخر وہ دن آیا کہ گوتم بدھ نے راحت و تسکین حاصل کی۔ گوتم بده گيا ميں ایک املى کے پیڑ کے نیچے دھیان دھرے بیٹھا تھا، اس کے دل میں ایک قسم کی روشنی محسوس ہوئی، دل کو اطمينان سا آگيا۔ معلوم ہو اکہ فاقے اور جسم کو ایذا دینے سے کچھ نہیں ہوتا۔ دنیا اور عقبی، میں خوشی اور راحت حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ نیک اور پاک زندگی بسر کر۔ سب پر رحم کر اور کسی کو مت ستا۔ گوتم کو یقین ہوگیا کہ نجات کا سچا راستہ یہی ہے۔
اب گوتم نے بدھ یعنی عارف کا لقب اختیار کیا، بن سے نکلا اور دنیا کی تعلیم و تلقین کی غرض سے دیس بدیس پھرنا شروع کیا۔ پہلے کاشی یعنی بنارس پہنچا۔ یہاں مرد عورت سب کو دھرم سنایا۔ تین مہینے کے قیام میں 60 چیلے جمع کیے اور ان کو روانہ کیا کہ جائو ہر طرف دھرم کا چرچا کرو۔ پھر راج گڑھ گیا۔ یہاں راجا پرجا سب اس کے دھرم کے پیرو بنے۔ پھر کپل وستو میں گیا جہاں اس کا بوڑھا باپ راج کرتا تھا، وطن سے رخصت ہونے کے وقت وہ شہزادہ تھا، اب جو واپس آیا تو زرد لباس' ہاتھ میں کاسئہ گدائی، سر منڈا جوگی تھا، باپ، بیوی، بیٹے اور ساکیہ قوم کے سب مرد عورتوں نے اس کا وعظ سنا اور چیلے ہوگئے۔ اس کے 45 برس کے بعد یعنی 80 برس کی عمر تک بدھ دیو نے جابجا پھر کر اپنے مت کو پھیلایا۔ اس طرح سے سارا مگدھ اور کوشل یعنی بہار اور صوبه جات متحدہ آگرہ و اودھ میں یہ مت عام ہوگیا۔

راجه هرش

بُدھ کے زمانے کا آخری بڑا راجہ ہرش ہے۔ یہ 606ء سے 648ء تک ستلج اور جمنا کے درمیان کے ملک پر حکمراں تھا۔ ا سکی راجدھانی تھانیسر تھی، جس کا قدیم نام کرکشیتر ہے۔ اس نے شلادتیہ کا لقب اختیار کیا۔ یہ شمالی ہند کا مہاراجہ ادھراج تھا۔ اس کے بعد ہندو راجائوں میں کوئی ایسا زبردست نہیں ہوا جو اس تمام ملک کا مہاراجہ ادھراج کہلایا ہو۔ پنجاب سے لے کر آسام تک گنگا اور سندھ کی وادیوں کی کل سلطنتوں کے فتح کرنے میں اسے تیس سال لگے تھے۔ اس نے دکن کو فتح کرنے کی بھی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوا۔
اس کے راج کے پورے پورے حالات موجود ہیں۔ اول ایک چینی سیاح ہیوان سانگ کے لکھے ہوئے جو کچھ عرصے تک اس کے دربار میں رہا تھا دوم ایک فاضل برہمن بہ بان کے لکھے ہوئے ایک کتاب کی صورت میں جس کا نام ہرش چرت (ہرش کے حالات) ہے۔ اگرچہ ہرش خود بدھ تھا تاہم برہمنوں اور ہندو دھرم کی ایسی عزت کرتا تھا جیسی اپنے دھرم کی۔ قنوج میں بدھ مت کے سو وہار تھے تو ہندوئوں کے مندر دو سو تھے۔ 634ء میں شلا دتیہ نے ایک بڑی مجلس منعقد کی۔ اس میں 21 راجا شامل تھے جنہوں نے اس کو اپنا مہاراجہ ادھراج تسلیم کیا۔ اس مجلس کے موقع پر راجا کے سامنے برہمن پنڈتوں اور بدھ بھکشوئوں میں مذہبی بحث مباحثے ہوئے۔ پہلے دن مجلس میں بدھ کی مورت نصب کی گئی۔ دوسرے دن سورج کی۔ تیسرے دن شو جی کی۔ 75 دن تک شلا دتیہ نے سب کی دعوت کی۔ پھر اپنا تمام دھن دولت، زیور اور محل کا ساز و سامان بلا امتیاز بدھ مت والوں اور برہمنوں کو بانٹ دیا اس کے بعد شاہی لباس بھی اتار دیا۔ اور فقیرانہ چیتھڑے پہن لیے جیسے کہ بدھ نے باپ کے محل سے رخصت ہونے پر پہنے تھے۔ ہر 5 سال کے بعد شلادتیہ اسی طرح کرتا تھا۔ گیا کے قریب نالند میں ایک بہت بڑا دهم شاله تھا جہاں دس ہزار بھکشو کتب دینی قانون اور طب کے مطالعہ میں اوقات بسر کرتے تھے

ەن لوگ

ہن 450ء سے 528ء تک
گپت خاندان کی تباہی ان منگول قوموں کے ہاتھوں ہوئی جو ہن کہلاتی تھیں اور 450ء کے قریب پنجاب میں آکر آباد ہوئیں۔ یہاں سے چل کر یہ لوگ جمنا کی تلہٹی میں پہنچے اور اس وقت کے گپت راجہ پر غالب آئے۔ ان کے سردار کا نام تورمان تھا۔ اس نے 500ء کے قریب اپنے آپ کو مالوے کا راجہ بنایا اور مہاراجہ کہلوایا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا مہر گل گدی پر بیٹھا۔ یہ بڑا بیرحم تھا۔ اس نے اتنے آدمی قتل کرائے کہ آخرکار مگدھ کا راجہ بالا دتیہ وسط ہند کے ایک راجہ یسودھرمن کی مدد سے بڑی بھاری فوج لے کر اس کے مقابلے پر آیا۔ اور 528ء میں ملتان کے قریب کہروڑ کے مقام پر شکست دے کر اس کو اور اس کی فوج کو ہند سے نکال دیا۔ ہن ہند میں سو برس کے قریب رہے۔ بعض ہن کہیں آباد ہوگئے۔

گپت خاندان

بُدھ کے زمانے کے اختتام پر مگدھ میں اس خاندان کی حکومت ہوئی جو گپت کے نام سے مشہور ہے 300 سے 600 عیسوی تک تین سو برس کے قریب اس کا دور دورہ رہا۔ اس خاندان کے دو راجا بہت مشہور ہوئے ہیں: ایک سمدر گپت اور دوسرا چندرگپت بکرماجیت۔ اس چندر گپت کے ساتھ بکرماجیت کا لقب اس لیے شامل کیا گیا تھا کہ اس میں اور چندر گپت موریا میں فرق ہو سکے۔ جو اس سے سات سو برس پیشتر مگدھ میں راج کرتا تھا۔
سمدر گپت326ء سے 375ء تک بڑا طاقتور راجہ ہوا ہے۔ یہ ایک بڑی بھاری فوج لے کر تمام وسط ہند میں ہوتا دکن میں پہنچا۔ اور جن راجائوں کے ملک سے گزرا ان سب کو مطیع کیا۔ اس نے ان ملکوں کو اپنی قلمرو میں تو نہ ملایا مگر وہاں سے لوٹ کا مال بہت لایا۔ بڑا طاقتور راجہ ہونے کے علاوہ شاعر بھی تھا اور بین باجا بڑا عمدہ بجاتا تھا۔ الہ آباد کی لاٹھ پر جو اشوک کا کتبہ موجود ہے اس کے نیچے ایک کتبہ اس کا بھی ہے۔ یہ اشوک کے کتبے کے بہت بعد کا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سمدر گپت کل شمالی ہند کا راجہ تھا اور دکن کے راجا اس کو اپنا مہاراجہ ادھراج مانتے تھے۔
گپت خاندان کے راجائوں کا سمت ہی جدا ہے۔ یہ 319 سے شروع ہوتا ہے۔ گپت راجا بدھ مت کے پیرو نہ تھے۔ وہ وشنو جی کی پرستش کرتے تھے۔ انہوں نے قدیم ہندو دھرم کو فروغ دینے کی بڑی کوشش کی۔ مدت تک گپت خاندان کے راجائوں نے ستھین کا مقابلہ کیا جو جوق جوق ہند میں چلے آرہے تھے اور ان کو گنگا کی وادی میں نہ آنے دیا۔
چندر گپت ثانی 375ء سے 413ء عیسوی تک سمدر گپت سے بھی زیادہ طاقتور ہوا۔ اس نے بکرماجیت کا لقب اختیار کیا جس کے معنی ہیں سورج کی طاقت والا۔ ہندو مصنفوں کی کتابوں میں یہ اس نام کا سب سے مشہور راجہ پایا جاتاہے۔ یہ بڑی بھاری فوج لے کر شمال مغرب کی طرف دریائے سندھ کی وادی پنجاب، سندھ، گجرات اور مالوے میں جہاں صدیوں سے سکا مغربی حاکموں کی عملداری چلی آتی تھی پہنچا اور ان کے ملک فتح کر کے اپنی قلمرو میں ملا لئے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ یہ وہی بکرماجیت ہے جو ہند دھرم کا بڑا حامی اور علوم و فنون کا قدر دان مشہور ہے۔ اس کو بکرم اور بکرم اعظم بھی کہا جاتا ہے۔ یہ تمام ہندو راجائوں سے زیادہ مشہور ومعروف ہے۔ جیسا بہادر تھا ویسا ہی عالم بھی تھا۔ اس کے دربار میں 9 صاحب کمال تھے جو اپنے زمانے کے نورتن کہلاتے تھے۔ ان میں اول نمبر پر کالی داس شاعر تھا جس کی نہایت مشہور نظمیں یہ ہیں۔ سکنتلا، رگھوونش، میگھ دوت، کمار سنبھو، ایک رتن امر سنگھ تھا جس کی سنسکرت کی منظوم لغات ہند کے ہر مدرسے میں مشہور و معروف ہے۔ چوتھا اھنونتری بید تھا۔ پانچواں در رچی تھا جس نے پراکرت یعنی اپنے وقت کی عام مروجہ سنسکرت کی جو قدیم کتابی سنسکرت سے بہت مختلف ہےكى صرف و نحو لکھی ہے۔ چھٹا رتن مشہور منجم دارا مہر تھا۔ پنج تنتر کی حکایتیں بکرم ہی کے عہد میں تصنیف ہوئی تھیں۔ بعد میں ان کا ترجمہ عربی فارسی میں ہوا اور پھر بہت سی مغربی زبانوں میں۔ بکرم اور اس کے عہد کی اور بھی بہت سی حکایتیں ہیں جو آج تک ہند کے گاؤں گاؤں میں بیان کی جاتی ہیں۔
بکرم کے عہد میں بدھ مت آہستہ آہستہ صفحہ ہند سے مٹتا جاتا تھا۔ کالی داس کی تصنیفوں سے معلوم ہوتا ہے کہ شوالوں اور ٹھاکر دواروں کو بہت مانا جاتا تھا۔ اور ان میں ہندوئوں کے دیوتائوں کی پوجا ہوتی تھی۔ راجہ شوجی کو پوجتا تھا مگر بدھ مت والوں کے ساتھ بھی مہربانی سے پیش آتا تھا۔ اس کے دربار کے نورتنوں میں سے ایک بدھ تھا۔

موريا خاندان

چندر گپت موریا )321 سے 204 قبل مسیح تک کے زمانے میں مگدھ ، شمالی ہند کی ایک نہایت عظیم الشان سلطنت ەوا كرتى تهى۔ کہتے ہیں کہ گنگا کی وادی سے لے کر پنجاب یعنی آریا ورت تک تمام دیس اس کا تابع تھا اور قدیم آریا کی وہ سب ریاستیں جو بدیہہ، پانچال، کوشل اور کاشی کے ناموں سے مشہور تھیں مگدھ کی قلمرو میں شامل تھیں۔ چندر گپت کا خاندان موریا خاندان کہلاتا ہے کیونکہ اس کی ماں کا نام مرا تھا۔ تیس سال کے قریب اس نے پاٹلی پتر میں راج کیا۔ باختر یعنی ترکستان کے بادشاہ سلوکس نے اس کے ساتھ صلح کر کے اس کو اپنی بیٹی بیاہ دی تھی۔ ایک یونانی سفیر مسمی بہ مگاستھینز آٹھ سال تک اس کے دربار میں رہا۔ اس نے مگدھ دیس اور ہندوئوں کے رسم و رواج کا حال جو خود دیکھا یا سنا تھا بہت مفصل لکھا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ، پاٹلی پتر ایک بہت بڑا شہر تھا۔ 9 میل لمبا اور دو میل چوڑا۔ مگدھ کے راجہ کی فوج میں 6 لاکھ پیادے تھے اور چالیس ہزار سوار۔ راجہ بڑی خوبی اور دانائی سے حکومت کرتا تھا۔
چندر گپت کا پوتا اشوكـ(272 سے 232 ق م) تک جو اس خاندان کا تیسرا راجہ ہوا ہے 272ق ۔ م میں گدی پر بیٹھا۔ اس نے چندر گپت سے بھی زیادہ شہرت پائی۔ اس کو اکثر اشوک اعظم کہا جاتاہے کیونکہ اپنے عہد کا سب سے بڑا اور طاقتور راجہ تھا۔ جوانی میں اشوک لڑائی کا بڑا مرد تھا۔ کہا کرتا تھا کہ کلنگ )اڑیسہ( کو فتح کر کے اپنی سلطنت میں شامل کر لوں گا۔ چنانچہ تین سال لڑا اور کلنگ کو فتح کر لیا۔ کہتے ہیں کہ اس جنگ میں ہزاروں لاکھوں کا خون ہوتا ہوا دیکھ کر اشوک کے دل میں ایسا رحم آیا کہ یک بیک طبیعت بالکل بدل گئی کہنے لگا کہ اب میں بدھ کی تعلیم پر چلوں گا اور کبھی کسی سے لڑائی نہ کروں گا۔ بدھ مت کو اپنے تمام راج کا مذہب قرار دیا اور اپنا نام پر یاد رشی یا حبیب خدا رکھا۔ اس کا ایک بیٹا بھکشو اور بیٹی بھکشنی ہوگئی۔ اس نے دونوں کو سیلون )سنگلدیب( بھیجا کہ وہاں بدھ مت کی تبلیغ کریں۔ اب دوسری مجلس کو منعقد ہوئے سوا سو سال سے زیادہ ہوگئے تھے اور بدھ مت میں کئی قسم کی تبدیلیاں نمایاں ہونے لگی تھیں۔ ان کی تحقیق کے لیے 242ق ۔ م میں اشوک نے اس مذہب کے ایک ہزار بزرگوں اور عالموں کی تیسری بڑی مجلس منعقد کی۔ مراد یہ تھی کہ بدھ مت کی تعلیم بعد کی بدعتوں اور آمیزشوں سے پاک ہو کر اپنے بانی کی اصلی تعلیم کے مطابق ہو جائے۔ پاٹلی پتر میں یہ مجلس منعقد ہوئی۔ بدھ مت کی تمام حکایتیں اور روایتیں پالی زبانی میں لکھ لی گئیں۔ کچھ اوپر دو ہزار برس سے بدھ مت کے جو شاستر جنوبی ایشیا میں جاری ہیں۔ وہ اسی مجلس کے مرتب کیے ہوئے ہیں، بدھ دھرم کی تبلیغ کے لیے اشوک نے کشمیر، قندھار، تبت، برہما، دکن اور سیلون )سنگلدیپ( میں بھکشو روانہ کئے۔
اشوک نے 14 احکام جاری کئے اور جابجا سارے ہند میں پتھر کی لاٹھوں پر کندہ کرا دئیے۔ ان میں سے کئی آج تک موجود ہیں۔ ایک الہ آباد میں ہے، ایک گجرات کے گرنار پربت پر ہے۔ ان احکام میں بدھ کی تعلیم کی بڑی بڑی باتیں سب آ جاتی ہیں۔ مثلاً رحم کرو، نیک بنو، اپنے دل کو پاک کرو، خیرات دو۔ ایک کتبے کی عبارت میں لکھا ہوا ہے کہ اشوک نے کلنگ دیس فتح کیا اور پانچ یونانی بادشاہوں سے صلح کی۔ ان میں سے تین مصر یونان خاص اور شام کے بادشاہ تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپنے عہد میں اشوک کیسا مشہور اور ذی شان راجہ تھا۔
؁ 232قبل مسیح میں اشوک نے وفات پائی۔ اس کے چالیس سال کے بعد موریا خاندان کا بھی خاتمہ ہوا۔ موریا کے بعد دو خاندان مگدھ میں ایسے ہوئے جن کے ناموں کے سوا اور کچھ حالات معلوم نہیں ہوئے ہیں۔ اشوک سے دو سو برس بعد مگدھ کا راج اندھر خاندان کے ہاتھ آیا۔

جمعہ، 15 جولائی، 2005

زبانوں كا اختلاف

طوفان فرو ہو جانے کے بعد جب حضرت نوح عليہ السلام کشتی سے نکلے تو دوسرے جانداروں کے علاوہ ان کے ہمراہ تين بيٹے بھی تھے۔ سام، عام اور يافث۔ اس وقت يہ لوگ ايک ہی زبان بولتے تھے۔ توريت ميں لکھا ہے کہ تمام روئے زمين پر ايک ہی زبان اور ايک ہی بولی تھی اور ايسا ہوا کہ مشرق کی طرف سفر کرتے کرتے ان کو ملک سنعار ميں ايک ميدان ملا اور وہ وہاں بس گئے اور انھوں نے آپس ميں کہا۔ او ہم اينٹيں بنائيں اور ان کو آگ ميں خوب پکائيں سو انھوں نے پتهر کی جگہ اينٹ سے اور چونے کی جگہ گارے سے کام ليا۔ پھر وہ کہنے لگے کہ آو ہم اپنے واسطے ايک شہر اور ايک برج جس کی چوٹی آسمان تک پہنچے، بنائيں اور يہاں اپنا نام کريں۔ ايسا نہ ہو کہ ہم تمام روئے زمين پر پراگندہ ہو جائيں ـ اور خداوند اس شہر اور اس برج کو جسے بنی آدم بنانے لگے ديکھنے کو اترا اور خداوند نے کہا۔ ديکھو يہ لوگ سب ايک ہيں اور ان سبھوں کی ايک ہی زبان ہے۔ وہ جو يہ کرنے لگے ہيں تو اب کچھ بھی جس کا وہ ارادہ گے کريں ان سے باقی نہ چھوٹےگا۔ سو آو ہم وہاں جا کر ان کی زبان ميں اختلاف ڈاليں تا کہ وہ ايک دوسرے کی بات سمجھ نہ سکيں۔ پس خداوند نے ان کو وہاں سے تمام روئے زمين پر پراگندہ کيا۔ سو وہ اس شہر کے بنانے سے باز آئے اس لئے اس شەر کا نام بابل ہوا۔ کيونکہ خداوند نے وہاں په ساری زمين کی زبان ميں اختلاف ڈالا اور وہاں سے خداوند نے ان کو تمام روئے زمين پر پراگندہ کيا۔

چربه تحارير

چوده جولائى فرانس ميں چهٹى تهى ـ پندره كو اصل ميں تو كام تها ـ مگر سائٹ په خام مال نه هونے كى وجه سے پندره كو بهى چهٹى هو گى ـ يعنى جمعرات جمعه ەفته اور اتور چار چهٹياں هو گئيں اس لئے سوچا كه كچهـ لكها جائے كه ٹائپ كرنے كے لئے وافر وقت ميسر هے ـ مگر يه سب تحارير جو كه ەندوستان كى ماضى قريب اور ماضى بعيد كے متعلق هيں چربه تحارير ەيں ميں صرف ان كو ٹائپ كرنے كا گناه گار هوں

راجپوت

آریائوں اور قدیم ہندوئوں کے زمانے میں جو راجہ ہندوستان کے حکمران ہوتے تھےـ وہ کھشتری تھے۔ بدھ مت کے زمانے میں بھی جیسا کہ بدھ خود تھاـ اکثر راجا اور سردار کھشتری ہوتے تھے۔ گو بعض مثلاً چندر گپت اور اشوک شودر تھے بدھ مت کے عہد کے وسط سے لے کر مسیح کی پیدائش سے تقریباً پانچ سو سال بعد تک شمال مغربی ہند کے علاقوں میں ستھین یا سکا قوم کے راجا راج کرتے تھے۔راجہ بکرما جیت کے زمانے سے ستھین اور کھشتری راجائوں اور ان کی سلطنتوں کا ذکر سننے میں نہیں آتا۔بجائے ان کے 600ء سے 1200ء تک جدھر نظر جاتی ہے راجپوت راجائوں کے راج دکھائی دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ راجپوت کون تھے؟راجپوتوں کا اپنا دعوی ـ یہ ہے کہ ہم کھشتری ہیں۔ رام چندر جی اور سری کرشن سے اور قدیم زمانے کے دوسرے کھشتری خاندانوں سے ہمارے نسب نامے ملتے ہیں۔ اور بعض عالموں کا یہ خیال ہے کہ یہ دعوی صحیح ہے۔ لفظ راجپوت کے معنی ہیں راجائوں کے بیٹے یا راجائوں کی اولاد زمانہ سلف کے کھشتری واقعی راجائوں کے بیٹے پوتے ہوتے تھے اور ایسا بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ دفعتاً کھشتریوں کی طاقتور قوم کا خاتمہ ہوگیا ہو۔بعض عالموں کا یہ خیال ہے کہ راجپوت ستھین یا سکا قوم سے ہیں جو سن عیسوی کے ابتدائی پانچ سو سال میں بڑی کثرت سے شمالی مغربی ہند میں آکر آباد ہوئی۔ اور اس فرقہ اہل یونان سے ہیں جو بھگشی میں آباد تھا۔ اصل حقیقت یہ معلوم ہوتی ہے اور اڑیسہ کی خاص خاص قومیں مثلاً وہ جو دہلی، قنوج اور ہندوستان کے مرکز میں حکمراں تھیں اصل کھشتری نسل سے ہیں اور بعض دیگر قومیں جن کا نام ابتدا میں راجپوتا نے. مالوے اور گجرات میں سننے میں آتا تھا بعد میں سکا کے خیل کے خیل حملہ آور ہو کر آباد ہوئے خدا کی اولی. نسل سے ہیں۔ راجپوت بڑی شریف اور اعلی، قوم سے ہیں۔ بڑے بہادر ہیں۔ چونکہ یہ لوگ جنگ و جدال کے بڑے مرد ہیں وہ بدھ کے رحم دلانہ دھرم کو پسند نہیں کرتے تھے کیونکہ بدھ کہتا ہے کہ نہ کسی جاندار کو مارو اور نہ ستائو۔ انہوں نے جہاں تک ہوا برہمنوں کی مدد کی، بدھ مت کو دبایا اور پرانے ہندو مذہب کو از سر نو پھیلایا۔ جس زمانے کا ہم ذکر کر رہے ہیں اس میں بہت سے راجپوت راجا ہوئے ہیں۔ اس سبب سے کہہ سکتے ہیں کہ 600ء سے 1200ء تک راجپوتوں کی سلطنت کا زمانہ ہے۔ آریائی عہد میں گجرات کو سری کرشن کی دوار کا کہتے تھے۔ بعد میں اس کا نام سورٹھ یا سوراشٹر ہوا۔ یہاں 416ء سے لے کر تقریباً300 سال تک بلبھی خاندان کے راجا راج کرتے تھے۔ جب چینی سیاح ہیوان سانگ سوراشٹر میں آیا تو اس نے دیکھا کہ یہ ایک زبردست سلطنت ہے، جہاں بلبھی راجائوں کا راج ہے۔ ملک خوشحال اور مالدار ہے اور دور دراز ملکوں سے تجارت ہوتی ہے۔ 746ء سے مسلمانوں کے زمانے تک سوراشٹر میں راجپوتوں کی عملداری تھی۔ یہ چالوکیہ کہلاتے تھے۔ انھلواڑہ یا انھل پٹن جس کو اب فقط پٹن کہتے ہیں، ان کی راجدھانی تھی۔
مالوے میں بکرما جیت کی اولاد حکمراں رہی۔ اس خاندان کا سب سے بڑا راجہ بکرماجیت کے بعد شلا دتیہ نامی تھا۔ جس کا حال چینی سیاح ہیوان سانگ کے سفرنامے سے معلوم ہوتا ہے۔ ان کے بعد راجپوتوں کا دور شروع ہوا۔ بعد کے زمانے میں مالوہ راجپوتوں کی نہایت زبردست سلطنتوں میں شمار ہوتا تھا۔ اڑیسہ قدیم زمانے میں اندھر کی سلطنت کے نام سے مشہور تھا۔ 474ء سے 1132ء تک یہاں کیسری خاندان کے راجپوت حکومت کرتے تھے۔ بھوونیشور ان کا پایہ تخت تھا جہاں انہوں نے بڑے بڑے خوبصورت اور شاندار مندر بنائے۔ اس خاندان کے اول راجہ کا نام یتاتی کیسری تھا۔ اس کی راجدھانی کے نام سے ظاہر ہے کہ گو زمانہ سلف میں اڑیسہ میں بدھ مت کا دور تھا اس وقت وہاں سارے ملک میں ہندو مذہب پھیلا ہوا تھا اور شوجی کی پرستش ہوتی تھی۔کیسری راجائوں کے بعد گنگا پتر خاندان کا دور شروع ہوا۔ یہ بھی راجپوت تھے۔ 1132ء سے 1534ء تک انہوں نے اڑیسہ پر حکومت کی۔ 1560ء میں یہ ملک مسلمانوں نے لے لیا۔ گنگا پتر وشنو کی پرستش کرتے تھے۔ پوری میں جگن ناتھ جی کا جو مشہور مندر ہےـ وہ اسی خاندان کے ایک راجہ کا بنایا ہوا ہے۔دریائے نربدا سے لے کر دریائے کرشنا تک سارے دکن میں سات سو برس یعنی 500ء سے 1200ء تک چالوکیہ خاندان کے راجپوت حکومت کرتے تھے۔ اس خاندان کی دو شاخیں تھیں ـ مشرقی شاخ کا پایہ تخت دریائے گوداوری پر راج مندری تھا۔ مغربی شاخ کا پایہ تخت مہاراشٹر میں کلیان تھا۔ اب ان راجائوں کے فقط نام ہی نام باقی ہیں۔ میسور کے ملک میں 900ء سے 1310ء تک بلال خاندان کے راجپوت فرمانروا تھے۔ ان کا پایہ تخت دوار سمدر تھاـ جہاں انہوں نے ہلے بید کا مشہور مندر تعمیر کیا۔ مسلمانوں نے اس خاندان کو شکست دی اور خود ملک کے حاکم اور فرمانروا بنے۔تلنگانہ میں تقریباً 1100ء سے لے کر 1323ء تک ککاتی خاندان کے راجپوت راج کرتے تھے۔ ان کا پایہ تخت وارنگل تھا۔ 1323ء میں مسلمانوں نے وارنگل لے لیا اور اس کو اپنا دارالخلافہ بنا کر گولکنڈے کی سلطنت قائم کی۔ بنگالے میں پانچ سو برس تک پال اور سین خاندانوں کے راجا راج کرتے تھے۔ 800ء کے قریب سے لے کر 1050ء تک پال راجائوں نے راج کیا اور 1050ء سے 1300ء کے قریب تک سین خاندان کا دور دورہ رہا۔ اس کے بعد یہ ملک بھی مسلمانوں نے فتح کر لیا۔دیوگری واقع مہاراشٹر میں 1100ء کے قریب سے ١٣٠٠ء کے قریب تک یادو بنسی راجپوت راج کرتے تھے۔ یہ کہتے تھے کہ ہم سری کرشن کی نسل سے یادو بنسی کھشتری ہیں۔ 130٠ء کے قریب مسلمانوں نے دیوگری کو فتح کر کے اس کا نام دولت آباد رکھ دیا۔راٹھورـ چوہان اور تنوار راجپوتوں کے مشہور خاندان ہوئے ہیں۔ 1190ء کے قریب قنوج ـ اجمیر اور دہلی میں ان کی حکومت تھی۔

هندو دهرم اور مذهب اسلام

عہد مغليہ ميں اکبر کے دور حکومت سے مسلم سماج کی ترتيب و تشکيل کا ايک نيا دور شروع ہوا۔ ملک کی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے اور ملک ميں سياسی استحکام اور سرکاری کارخانوں ميں ہر فن کے صنعت کاروں کو ملازم رکھا۔ اس کا نتيجہ يہ نکلا کہ ہندوستان کے ان قديم باشندوں کو جنھيں مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد مسلم سماج ميں مناسب جگہ نہ ملی تھی، اب مل گئی۔ ليکن اس کا يہ بھی نتيجہ برآمد ہوا کہ مسلم سماج پيشہ ورانہ طبقوں ميں تقسيم ہوگيا۔ ہندووں کی قديم طبقاتی تقسيم نے مسلم سماج کے لئے ايک نمونہ پيش کيا اور اسی طرز پر مسلم سماج ميں پيشہ ور طبقے نماياں نظر آنے لگے۔ نسلی امتياز کی وجہ سے مسلم سماج کی تنظيم رفتہ رفتہ ہندووں کے ذات پات کے نظام ميں رنگنے لگی۔ رفتہ رفتہ ہر پيشہ ور طبقے نے اپنے پيشے کو موروثی بنا ليا، اپنی مخصوص رسميں قائم کرليں اور شادی بياہ کے تعلقات ہم پيشہ لوگوں کے دائرے ميں محدود کرلئے۔ يہ تقسيم ہمارے زمانے تک موجود ہے۔ منير مير حسن نے لکھا تھا کہ لکھنوئ کے سيد خاندانوں ميں ايسا بھی ہوتا تھا کہ محدود دائرے ميں مناسب رشتہ نہ ملنے کی وجہ سے بعض لڑکياں اپنی زندگی ناکت خدائی کی حالت ميں گزارتی تھيں۔

ہندوستان کے مسلمان بيٹے اور بيٹی کی شادی ميں چند رسموں کو چھوڑ کر جيسے آگ کے گرد چکر لگانا، باقی سب رسميں ہندووں کی طرح کرتے ہيں جيسے لڑکے اور لڑکی کو زرد کپڑے پہنانا اور کلائی ميں ريشمی کلاوا باندھنا عقہ سے فارغ ہونے تک دولھا کا ہاتھ ميں لوہے کا ہتھيار رکھنا اور عورتوں کی سٹھنی لگانا، آرايش کے ساتھ دولھا کو دلھن کے گھر لے جانا خالص ہند سے مخصوص ہے۔دور حاضر ميں بھی قصبات اور ديہات کے رہنے والے زراعت پيشہ مسلمانوں ميں بچپنے کی شادی ہندووں سے اخذ کی گئی رسم کی نشان دہی کرتی ہے۔ شادی بياہ کے رسوم مسلم سماج ميں اس حد تک سيرايت کر گئے تھے کہ مسلمانوں کو اس بات کا احساس بھی نہ رہا تھا کہ يہ رسميں غير اسلامی تھيں۔ سودا نے حضرت قاسم کی شادی کی رسوم کے ذکر ميں
ہندوستانی رسموں کو اس اندازے سے بيان کيا ہے۔ گويا يہ رسميں عربوں ميں پائی جاتی تھيں مثلاََ ساچق منہدی، برات، رقص و سورود، دھنگانا، رخصتی کے وقت رنگ کھيلنا وغيرہ۔ مسلمانوں ميں جہيز کا سامان بھی بهت حد تک ويسا ہی ہوتا تھا جيسا کہ ہندووں ميں رائج تھا۔

اٹاوہ ميں مسلمانوں کا ايک قبيلہ تھا جو شب بازی کے فن ميں بڑی مہارت رکھتا تھا۔ البيرونی نے ہندووں کے نٹوں کے فرقے کا ذکر کيا ہے۔ مسلمانوں ميں بھی نٹوں کا فرقہ موجود تھا۔ اس فن ميں دلچسپی اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ مسلمان عورتيں اس فن کی تعليم حاصل کيا کرتی تھيں۔ شہنائی بائی نامی ايک عورت نے اس فن ميں خاصی مہارت حاصل کرلی تھی۔ مسلمانوں ميں بہروپيوں کا فرقہ بھی ہندووں کی دين ہے۔ قديم ہندوستان ميں بازی گروں کا فرقہ پايا جاتا تھا۔ مسلمانوں ميں بھی بازی گروں کی ايک جماعت پائی جاتی تھی۔بھگت بازی : ہندووں کے اس فن و پيشے کو مسلمانوں نے اپنا ليا تھا۔ اور اس کے ذريعے بسر اوقات کرتے تھے۔ دہلی ميں بھگت مسلمانوں کا ايک قبيلہ تھا اور تقی نامی ايک شخص اس قبيلے کا سردار تھا۔ لکھنوئ ميں اس فن نے بہت ترقی پائی۔ واجد علی شاہ کو رہس سے خاص دلچسپی تھی يہاں امانت لکھنوی نے اندر سبھا لکھی۔ اسی طرح کٹھ پتلی کا کھيل مسلمانوں نے اپنا ليا اور اس کا نام شب بازی رکھا۔ عہد مغليہ ميں شب بازی ايک اہم مشغلہ تھا۔ اٹاوہ ميں مسلمانوں کا ايک قبيلہ تھا جو شب بازی کے فن ميں بڑی مہارت رکھتا تھا۔ البيرونی نے ہندووں کے نٹوں کے فرقے کا ذکر کيا ہے۔ مسلمانوں
ميں بھی نٹوں کا فرقہ موجود تھا۔ بابر نے مداريوں کا ذکر کيا ہے، اس فرقہ کے لوگ خود کو مسلمان صرف اس وجہ سے کہتے تھے کہ ان کے يہاں ختنے کی رسم اداہوتی تھی۔ان کی شادی کی رسميں ملّا اور قاضی ادا کرتے تھے۔ بس اسلام سے ان کا اتنا ہی واسطہ تھا۔ ان کی بقيہ رسميں وہی تھيں جن پر وہ مشرف بہ اسلام ہونے سےپہلے عمل کرتے تھے۔

بچے کی ولادت سے موت کے موقع تک عمل ميں آنے والی بعض رسميں ايسی ہيں
جو خالص ہندوستان کی زمين سے ہيں۔ عورت کی حاملہ ہونے اورپهر بچے کی ولادت کے بعد کی
جتنی بھی رسميں ہندوستانی مسلمانوں ميں مروج ہيں وہ سب کی سب ہندوستانی ہيں۔
جنھيں مسلمانوں نے جوں کا توں اپنا ليا ہے۔ ان ميں بعض کے نام تو وہی ہندوستانی ہيں
مگر طريقے بدل گئے ہيں اور بعض ميں برائے نام فرق کرديا گيا ہے۔ مثلاََ تيجا ہندووں ميں، فاتحہ
كے پھول مسلمانوں ميں اگرچہ پھول کا لفظ يہاں بھی مشترک ہے کيوں کہ ہندووں ميں پھول مردے کی جلی ہڈيوں کو کہتے ہيں۔ جو تيسرے دن چن کر مرگھٹ سے جمع کی جاتی

مہاجر مسلمان بعض تفريحی مشاغل اپنے ساتھ لائے تھے ليکن رفتہ رفتہ انھوں نے خالص ہندوستانی کھيل تماشے اپنی تفريحی طبع کے لئے اپنا لئے۔ ان کو عربى يا فارسی کے نام دے کر اور بعض ضمنی تبديلياں کرکے انھيں اسلامی بناليا۔ مثلاََ پتنگ بازی، عہد مغليہ ميں مسلمانوں ميں پتنگ بازی کا عام رواج تھا۔ اٹھارويں صدی کے خواص و عوام مسلمان دونوں پتنگ بازی سے خاص طور پر دلچسپی رکھتے تھے۔ انند رام مخلص نے دہلی ميں پتنگ بازی کے عام رواج کا ذکر کيا ہے، دہلی ميں آج بھی پتنگ بازی کا رواج عام ہے۔ نہ صرف دہلی بلکہ شمالی ہندستان کے تقريباََ سارے بڑے شہروں کے مسلمان پتنگ بازی ميں خاصى دلچسپی ليتےتھے۔ ميسز مير حسن علی نے لکھنوئ کے مسلمانوں ميں پتنگ بازی سے خالص دلچسپی کا ذکر کيا ہے۔ آگرہ ميں بھی پتنگ بازی کے مقابلے ہوا کرتے تھے۔ نظير اکبر آبادی نے ان مقابلوں کا تفصيلی ذکر کيا ہے۔ نوابين و امرائے بنگال اودھ پتنگ بازی ميں دلچسپی ليتے تھے۔ نواب آصف الدولہ کو پتنگ بازی کا بڑا چسکا تھا۔
گھريلو کھيلوں ميں شطرنج، چوسر، چوپڑ خالص ہندوستانی کھيل
تھے۔ عہد مغليہ کے بادشاہ امرا اور عوام ان کھيلوں سے بڑی دلچسپی لےتے تھے۔ اکبر نے فتح
پور سيکری ميں فرش پر شطرنج کی بساط بنوائی تھی اور مہروں کی جگہ غلام عورتوں
کو کھڑا کرکے وہ شطرنج کھيلا کرتا تھا۔ شاہی حرم کی مستورات شطرنج کھيلا کرتی تھيں۔ زيب
النساء کو چوسر کھيلنے سے بڑی دلچسپی تھی۔ ان کھيلوں کے علاوہ چندل مندل اور گنجفہ کا
کھيل مسلمانوں نے ہندوستان سے اخذ کيا تھا۔0پرندوں اور جانوروں کی لڑائياں :مختلف قسم کے پرندوں کو آپس ميں لڑانے کا شوق ہر طبقے کے مسلمانوں ميں پايا جاتا تھا۔
ان ميں مرغ بازی، بٹير بازی، تيتر بازی، گلدم بازی، لوا بازی، طوطے بازی اور درندوں ميں ہاتھی، شير، ہرن چيتے، سور تيندوے، سانڈ، مينڈھے اور دوسرے جانوروں کو آپس ميں لڑا کر اس منظر سے مسلمان محفوظ ہوا کرتے تھے۔ اسپير نے لکھا ہے کہ شام کے چار بجے محل کے سامنے کئی آمراء جمع ہوجاتے اور اپنے مرغ لڑا کر بہادر شاہ ظفر کا دل بہلاتے تھے اور غالباََ يہ روزانہ کا شعل تھا۔ لکھنوئ کے عوام و خواص اپنی فارغ البالی کی وجہ سے اپنا يشتر وقت پرندوں کو لڑانے اور محفوظ ہونے ميں صرف کرتے تھے۔ دوسرے تفريحی مشاغل ميں غبارے بازی، ہنڈولا، بيل گاڑيوں کی دوڑ کے مقابلے اور درياوں ميں چراغاں کرنا شامل تھے۔ اسی طرح بچوں اور لڑکوں کے بہت سے کھيل خالص ہندوستانی تھے اور ان کے نام بھی ہندی ميں تھے۔ انشاء الّلۃ نے ان کھيلوں کا تفصيلی ذکر کيا ہےـ

منگل، 12 جولائی، 2005

اردو محفل

ايك دعوت تهى شموليت كى ايكـ فورم ميں جو مشتعمل هے سارا اردو پر ـ جناب قدير احمد رانا كى طرف سے ـ
We Have Created World's First Complete Urdu Forum. Please join us at
http://www.urduweb.org/mehfil
اردو كى يه محفل سجائى هے جناب اجمل صاحب كے بيٹے زكريا ـ قدير احمد رانا ـدانيال اور ان كے دوستوں نے مل كر ـ مقصد ەے ان كا اردو كى انٹر نيٹ پر ترقى كى كوشش ـ
ان سب لوگوں كى ان كوششوں كا كوئى فائده هو گا يا نەيں ؟ يا اگر هو گا بهى تو كيا هو گا ! ميرے خيال ميں كوئى انقلاب آنے سے تو رەا !
مگر مجهے ان لوگوں كے اس قدم سے كوئى اختلاف نەيں ـ كيون كه ميں جانتا هوں كه اس طرح كے جنونى كام شروع فضول نظر اتے ەيں مگر ضرورى نەيں كه فضول ەى هوں !
ماركونى اور گراەم بيل كى شروع ميں فضول نظر انے والى كوششيں آج اپ سب كے سامنے ريڈيو اور ٹيلى فون كى شكل ميں موجود ەيں ـ
صديوں سے انسان كى پرندوں كى طرح اڑنے كى كوشش رائٹ برادرز كى پەلى اڑان تكـ فضول كوششوں كى ايكـ تكرار ەى تو تهى ـ
ايكـ دفعه چلنے كے بعد مسلسل چلتے رهنے والى مشين پر تجربات ،مسٹر سٹيفن كے بهاپ والے انجن كى ايجاد تكـ كيا تهے؟
اكر آپ كو كبهى طوكيو ميں اكيهابارا جانے كا اتفاق هو (اكي ها بارا دنيا كى سب سے بڑى اور ايڈوانس اليكٹرونس ماركيٹ هے ) اكيهابارا اسٹيشن سے شوواتهورى (تهورى يا دواورى بمعنى گذرگاه )تكـ كى جگه ميں آپ كو بهت سى تنگ كلياں اور ان گليوں ميں اليكٹرونس پارٹس كى دوكانيں مليں گى ـ ان گليوں ميں ميں نے گلاس كے پيندے جتنے موٹے عدسوں كى عينكيں لگائے ەونكـ سے جاپانى لڑكوں كو اكثر پهرتے ديكها هے ـ
عمومآ يه لڑكے كم آميز هوتے ەيں جلدى كسى سے كهلتے نەيں ەيں يه وه لوگ ەيں جو پارٹ ٹائم موكرياں كر كے اور ان پيسوں سے مختلف پرزے خريد كر تجربات ميں لگے رهتے ەيں ان لوگےں كى تكنيكى آپروچ اتنى هے كه فوجى جمهوريه پاكستان ميں ره كر آپ تصوّر بهى نهيں كر سكتے ـ ميرے ايكـ ايسے هى جاپانى دوست نے حيران هو كر مجهـ سے پوچها تها كه تم ريڈيو بهى نەيں بنا سكتے
اس كا لەجه ايسا تها كه جيسے اپ كسى سے پوچهـ رهے هوں كه يعنى تم خود سےكپڑے بهى نەيں پەن سكتے ـ
اور ايسے هى جاپانى لوگوں كى كوششوں كا نتيجه ايك ترقى يافته اور مضبوط جاپانكى صورت ميں آپ كے سامنے هے ـ
زكريا ٠رانا٠دانيال جيسے لوگوں كو ضرورت هے هله شيرى كى داد اور حوصله آفزائى كى ـ
چلتے چلو دوستو هم تمهارے ساتهـ هيں ـ

اتوار، 10 جولائی، 2005

جيت؟؟؟

وقت خود ەى يه بتائے گا كه ميں زنده ەوں
كب وه مرتا ەے جو زنده رهے كردار كے ساتهـ
آ ميرے دوست ذرا ديكهـ !! ميں ەارا تو نەيں ؟
ميرا سر بهى تو پڑا ەے ميرى دستار كے ساتهـ
سعد اللّه شاه صاحب كے يه شعر نوائےوقت كے مستقل كالم نگار عرفان صديقى صاحب نے آپنے كالم نقش خيال ميں لكهے ـ
آ ميرے دوست ذرا ديكهـ !! ميں ەارا تو نەيں ؟
ميرا سر بهى تو پڑا ەے ميرى دستار كے ساتهـ

جمعہ، 8 جولائی، 2005

محمود غزنوى!! هيرو يا ڈاكو؟

لڑائی کا گھمسان ہوا۔ راجپوت پسپا ہوئے۔ محمود نے آگے بڑھ کر نگر کوٹ کے مندر کو لوٹا۔ چاندی سونے موتیوں اور جواہرات کے انبار جو مدتوں سے دیندار اور بااعتقاد ہندوئوں کے چڑھائے ہوئے مندروں میں جمع تھے' سب لوٹ کھسوٹ کر غزنی میں لے گیا۔

غزنی پہنچ کر محمود نے ایک بڑی بھاری دعوت کا سامان کیا۔ تمام افغانوں کو بلوایا۔ تین دن تک ان کی ضیافت کی۔ ہند سے جو زر و جواہر ریشم و کمخاب سونا اور چاندی لوٹ کر لایا تھاـ نمائش کے طور پر چوکیوں پر سجا کر سب کو دکھایا۔ سرداروں اور امرا کا تو کہنا ہی کیا ہے' ان کو تو نہایت قیمتی تحفے دئیے اور غریب سے غریب افغان بھی ایسا کوئی نہ تھا کہ دعوت سے خالی ہاتھ گیا ہو اور ایک معقول انعام نہ لے گیا ہو۔
جى هاں محمود غزنوى ٩٩٧ء سے ١٠٣٠ء پاكستان ميں پڑهايا گيا هے كه
محمود بہادر سپاہی تھا۔ اپنے ہم عصروں سے زیادہ ظالم اور بیرحم نہ تھا۔ لڑائی میں جو قیدی ہاتھ آتے تھےـ ان کو قتل نہیں کرتا تھا۔ سلطنت افغانستان کا انتظام بڑی خوبی کے ساتھ کرتا تھا۔ ہندوستان کی دولت سے اس نے غزنی میں بڑی بڑی عالیشان عمارتیں بنائیں اور اس کی رونق بڑھائی ـ بہت سے شاعر اور باکمال دور دراز ملکوں سے آکر غزنی میں آباد ہوئے۔
فردوسی شاعر کے ساتھ ايكـ کارروائی ۔ محمود نے فردوسی سے شاہنامہ لکھنے کی فرمائش کی اور صلے میں فی شعر ایک اشرفی دینے کا وعدہ کیا۔ تیس برس کی محنت کے بعد فردوسی ساٹھ ہزار شعر لکھ کر لایا۔ محمود ایک کتاب کے لیے ساٹھ ہزار سونے کی شرفیاں دینے سے ہچکچایا اور اشرفیوں کی جگہ چاندی کے ساٹھ ہزار دینار دینے لگا ـ فردوسی نے دینارلے كر آپنے اس خادم كو دے دئيےجس نے يه شاه نامه لكهنے كے دوران عظيم فردوسى كى خدمت كى تهى اور خود فردوسى مایوس ہو کر فارس میں اپنے وطن کو چلا گیا۔ کچھ دنوں بعد محمود اپنی حرکت پر پشیمان ہوا اور ساٹھ ہزار سونے کی اشرفیاں دے کر قاصد کو فردوسی کے پاس بھیجا۔ مگر اب کیا ہونا تھا ادھر محمود کا قاصد اشرفیوں کی تھیلیاں لیے شہر میں داخل ہوا ادھر معلوم ہوا کہ فردوسی کا جنازہ قبرستان کی طرف چلا جا رہا ہے۔

تیس برس کی عمر میں محمود تختِ شاہی پر جلوہ گر ہوا۔ جب تک بارش کا موسم رہا اور درے برف سے صاف نہ ہوئےـ خاموش بیٹھا رہا۔ اس کے بعد اپنی فوج لے کر ہند پر چڑھ آیا۔ بہت سے اونٹ اور گھوڑے لوٹ کا مال لاد کر لے جانے کو اپنے ساتھ لایا۔ دیکھا کہ جے پال جو اس کے باپ سے لڑ چکا تھاـ اس کے مقابلے پر لڑنے کو موجود تها لیکن محمود اور اس کے افغان ہمراہیوں نے جے پال کو بھگا دیا اور بہت سا قیمتی مال و زر لوٹ کر غزنی لے گئے۔
انند پال نے دیکھا کہ ہندوستان کے سر پر ہر وقت خطرہ لگا ہوا ہے۔ پس اس نے اجین ـ گوالیارـ قنوج ـ دہلی اور اجمیر کے راجائوں کو پیغام دیا اور کہا کہ محمود سالِ آئندہ میں ضرور پھر حملہ کریگاـ آپ آئیں اور میرے ہمراہ ہو کر اس کا مقابلہ کریں۔ انہوں نے منظور کیا اور راجپوتوں کے دل كےدل پنجاب میں داخل ہوئے۔ لیکن شمالی سرد ملکوں کے افغان ہند کے گرم میدانوں کے راجپوتوں سے طاقتور تھے۔ لڑائی کا گھمسان ہوا۔ راجپوت پسپا ہوئے۔ محمود نے آگے بڑھ کر نگر کوٹ کے مندر کو لوٹا۔ چاندی، سونے، موتیوں اور جواہرات کے انبار جو مدتوں سے دیندار اور بااعتقاد ہندوئوں کے چڑھائے ہوئے مندروں میں جمع تھےـ سب لوٹ کھسوٹ کر غزنی میں لے گیا۔
اور ايكـ دعوت كا انتظام كيا جس دعوت كا ذكر اس پوسٹ كے دوسرے پيرے ميں كيا گيا ەے ـ

ایسی ایسی ترغیبوں اور تحریصوں سے محمود افغانوں کو ہند پر چڑھا لاتا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی ہمت کا دریا طغیانی پر تھاـ ہر بار جو قدم تھا آگے ہی آگے پڑتا تھا۔ جہاں کہیں کسی مالدار شہر یا مندرکا پتہ پایا وہیں اپنی فوج کو لے کر جا طوفان بپا کیا۔ مندر ڈھائےـ بت توڑےـ پجاریوں کے سینکڑوں برس کے جوڑے ہوئے مال و اسباب لوٹے۔ راجپوت راجا آپس میں لڑتے تھے مگر مندروں کے مال کو ہاتھ نہ لگاتے تھے۔ اس سبب سے مدتوں کی آمدنی سے ہر مندر میں دولت کے انبار اکٹھے ہوگئے تھے۔ ترک ایرانی اور افغان اس مال و دولت کے لوٹنے پر ادھار کھائے بیٹھے تھے۔ جہاں اس نے ہند پر حملہ کرنے کے لیے فوج کے جمع ہونے کا حکم دیا وہیں یہ لوگ آندھی کی طرح اٹھے چلے آئے۔ پھر محمود کے ہر حملے میں فوج کی کثرت نہ ہوتی؟ تو کیا ہوتا؟
محمود١٠٢٤ء میں آخری بار ہند پر حملہ آور ہوا اور سومناتھ کے مندر پر پہنچا۔ یہ گجرات دیس میں ایک بہت پرانا اور بڑا مندر تھا جو اپنی بے شمار دولت کے سبب تمام ہند میں مشہور تھا۔ سندھ کے ریگستان میں ساڑھے تین سو میل کا دور دراز سفر طے کر کے محمود اس مندر کے سامنے آن موجود ہوا اور ہندوئوں کی اس بڑی فوج کو شکست دی۔ جو مندرکی حفاظت کے لیے جمع کی گئی تھی۔ جب یہ مندر کے اندر داخل ہوا تو ڈرتے کانپتے پجاریوں نے التجا کی کہ اگر آپ ہمارے سومناتھ دیوتا کی مورت کو جوں کا توں چھوڑ دیں تو ہم اس کے عوض آپ کو بہت سا روپیہ دینے کو تیار ہیں۔ لیکن ان کی بات نہ مانی ـ
یہاں سے افغانستان واپس جانے کے کچھ ہی عرصے بعد محمود مر گیا۔ یہ خود ہند ميں كبهى نہیں ٹھیرا ــ

منگل، 5 جولائی، 2005