اتوار، 27 مارچ، 2005

ايك معذرت

اردو كے متعلق يه مضمون ميں نے ڈائجسٹ سے نقل كيا ەے يه مضمون جناب محمد يونس بلوچ صاحب جرمنى والوں كا حاصل مطالعه ەے اس مضمون كو نقل كرنے پر ميں بلوچ صاحب سے بەت معذرت خواه ەوں اور بەت بەت مشكور بهى ـ اكر بلوچ صاحب يا ان كا كوئى جاننے والا يه بلاگ پڑهے تو ميں بلوچ صاحب سے رابطه كرنا چاەتا ەوں ان كى تحريروں كو اس بلاگ ميں پوسٹ كرنے كے لئے ـ
شكريه
خاور كهوكهر

اردو زبان، تاريخ كے جھروكے سے !۔

ساخت كے اعتبار سے "اردو" ايک مخلوط قسم كى زبان ہے ـ ا س كا ذخيره الفاظ نحوى اور حرفى قوائد،آوازيں مختلف زبانوں سے مستعار لى گئى ہيں ـ
چنانچه افعال كا طريقه انسلاک تو مقامى ہے ۔
 ليكن بہت سے اسماء باہرسے آئے ہيں ـ
اصوات ( آوازوں) ميں بھى مقامى اور غير مقامى زبانوں سے استفاده كيا گيا ہے ، ليكن ان سب سے اعلٰى پائے كاعمل يه ہے كہ ان كا مايہ خميراس طرح تيار كيا گيا ہے كه
 يه زبان اب اپنى ايک آزادانہ اور خود مختار حثيت ركھتى ہے ۔ اور اس كے بولنے اور سمجھنے والے دنيا كے بہت سے حصوں ميں موجود ہيں ـ
 اس كى داخلى خوبى يہ ہے كه يه زبان شگفته اور لچک دار ہےاور فصاحت وبلاغت ميں بھى اس كا انداز منفرد ہے ـ
برصغير كى ايک اہم زبان ہونے كے باوجود ، اس كى تاريخ پر دبيز پردے پڑے ہوئے ہيں ـ
بعض محققين نے اس زبان كا عہد وار تحقيقى جائزہ، زبان سازى كے قوائد وضوابط ميں ليا ہے ۔اور كسى نتيجے تک سائنسى اندازميں پہنچنے كى كوشش كى ہے ـ
لیکن
 كچھ اديبوں نے مسئلے كو ذيادہ گہرائى سے جانچے بغير
 اردو كى جنم بھومى اور عہد پيدائش كا تعين كر ديا ـ
 اس ضمن ميں اوّلين اہميت مولانامحمد حسين آزاد كو حاصل ہےجنہوں نے ،،آب حيات،،ميں لكھا ، ہمارى اردو زبان برج بھاشا سے نكلى ہے ۔
ليكن وه ايسى زبان نہيں كه دنياكے پردے پر ہندوستان كے ساتھ ائى ہوـ
 اس كى عمر آٹھ سو سال سے ذياده نہيں ہےـ
 اسے صرف مغل شہنشاه شاه جہان كا اقبال كہنا چاہيے كه يه زبان خاص و عام ميں اس كے عہد سے منسوب ہو گئى ـ عبدالغفورنساح نے بهى اس رائے كى توثيق كى اور لكها كہ ١٠٥٨ميں شاہ جہان آباد (موجوده دہلى)آباد ہوا تواطراف وجوانب سےعالم ہر قسم كےذى علم اور صاحب استعداد اور قابل لوگ جمع ہوے ـ
 قديم ہندى متروک ہونے لگى ـ محاورے ميں فرق ہونے لگاـ زبان اردو كى ترقى شروع ہوئى ـ
سر سيد احمد خان كے خيال ميں اردو كا ہيولہ خلجى سلاطين كے عہد ميں تيار ہو گيا تها
ليكن اس ہيولے نے زبان كى شكل عہد شاهجہانى ميں اختيار كى ۔
 انشاءاللّه خان انشاء نے  دريائے لطافت ميں اردو كى ابتدا كو شاہجہان كے عهد سے ہى منسوب كيا ہے ـ
ان كى آراء كے برعكس مير امن دہلوى نے باغ وبہار كے ديباچے ميں لكھا كه
 جب مغل شھنشاه اكبر تخت پر بيٹهےتوچاروں طرف كے ملكوں سے سب قوموں كے لوگ قدردانى اور فيض رسانى اس خاندان لاسانى كا سن كرحضور كى خدمت ميں جمع ہوئےليكن ہر ايک كى گويائى اور بولى جداجدا تهى ـ
 لوگوں کے اس اجتماع یا میل ملاپ کے
ہونے سے اپس ميں لين دين کرنے ،سودا سلف  کی خرید و فروخت اور دیگر معاملات کے سوال وجواب كرنے کے لئے ايک زبان اردو بهى مقرر ہوى ـ

ڈكٹر وائٹ برجنٹ نے جنكے انگريزى مقالے كا ترجمه اقبال نے كيا ہے  ۔
انہوں نے خيال ظاہر كيا كہ اردوزبان كى ابتدا شہنشاه اكبر كے عہد سے ہوى اگره اور دہلى شہروں كے درميان اضلاع كى زبان مغربى ہندى كى ايک شاخ تهى جس كو برج بھاشا كے نام سے موسوم كيا جاتا ہے ـ
 ڈاكٹركلكرائسٹ كا خيال تها كه ہندوستان پر تيمور كے حملے كے وقت اردو زبان كى بنياد پڑى ـ
اديب ونقاد سجاد ظہير نے اس كى ابتدا محمود غزنوى كے عہد سے وابسته كى ہے ـ
ڈاكٹر موہن سنگھ مستانہ كا خيال بھى يہى تها كه ہندى اور فارسى كى اميزش سے اردوزبان محمود غزنوى كےدور ميں پيدا ہوئى ـ
حكيم شمس اللّه قادرى كے خيال ميں مسلمانوں كےاثر سےبرج بهاشا ميں عربى اور فارسى كے الفاظ داخل ہونے لگےجس كے باعث اس ميں تغير شروع ہواجو روزبروزبڑهتا چلا گيا اور ايک عرصے كے بعد اردو زبان كى صورت اختيار كر گيا ـ
 يه سب آراء اگرچه سرسرى اور قدرے جذباتى ہيں ليكن ان ميں يه جزوى صداقت موجود ہے كه اردو كى ابتدا ميں مسلمانوں كا عمل دخل ذياده ہے اور يه مقامى لوگوں اور زبانوں كے اختلاط سے پيدا ہوئی ـ
١٩٢٨ ميں حافظ محمود شيرانى كى كتاب پنجاب ميں اردو شائع ہوئی ، جس ميں تاريخى عوامل لسانى تجزيےاور داخلى شواہد كى اساس پر لكها گيا كه
اردو كى داغ بيل اس دن پڑنا شروع ہوگئى جس دن سے مسلمانوں نے ہندوستان ميں آكر توطن اختيار كيا.........ـ
سنده ميں مسلمانوں اور ہندوؤں كے اختلاط سے اگر كوئى نئى زبان بنى تهى توغزنوى دور ميں جو ايک سو ستر سال پر حاوى ہےايسى مخلوط  يا  بين الاقوامى زبان ظہور پزير ہو سكتى ہے ـ
 اوراردو چونكه پنجاب ميں بنى ہے اس لئے ضرورى ہے كه وه يا تو موجوده پنجابى كے مماثل ہو يا اس سے قريبى رشته دار ہو ـ
بحرحال قطب الدين ايبک(غزنوى دور كا ايک سلطان) كے فوجى اور ديگر شہرى پنجاب سے كوئى ايسى زبان لے كر روانه ہوتے ہيں جس ميں خود مسلمان قوميں ايک دوسرے سے تكلم كر سكيں ـ
 چناچه زبانوں كا طويل اختلاط اسى خطے ميں عمل ميں ايا
يہيں سے اس زبان نے وسطى اور جنوبى ہند كى طرف سفر كيا ـ
 بلاشبه يه زبان بين الاقوامى ضرورتوں كى بنا پر وجود ميں آئی تهى ، جو بہت جلد ہى بر صغیر میں مسلمانوں كى عام زبان بن گئى ـ